کوئی ہے!

کوئی ہے!

  

19 اپریل کو معروف صحافی‘ کالم نویس اور جیو ٹیلی ویژن پروگرام ”کیپیٹل ٹاک“ کے میزبان حامد پر پر قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہو گئے۔ وہ اسلام آباد سے کراچی پہنچے‘ کراچی کے ہوائی اڈے سے دفتر جاتے ہوئے رستے میں گھات لگائے حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے گاڑی چھلنی ہو گئی اور حامد میر کے جسم کے نچلے حصے میں چھ گولیاں لگیں۔ انہیں فوری طو رپر آغا خان ہسپتال پہنچایا گیا۔ بروقت ہسپتال پہنچ جانے اور ڈاکٹروں کی عرق ریز محنت کے بعد ان کی زندگی کو بچا لیا گیا

اس خبر کے نشر ہوتے ہی حامد میر کے بھائی عامر میر میڈیا کے سامنے نمودار ہوئے اور انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر قاتلانہ حملے کا الزام ISI کے سربراہ کے سر تھوپ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حامد میر نے اپنے اہل خانہ‘ قریبی دوستوں اور دفتر کے ذمہ داران کو آگاہ کر رکھا تھا کہ اگر انہیں کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری ISI کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر ہوگی۔

نوازشریف حکومت کے پچھلے دورانیہ‘ پرویز مشرف کے زمانے میں اور پھر طالبان سمیت مختلف گروپوں کی طرف سے حامد میر کو وقتاً فوقتاً دھمکیوں کا سامنا تھا۔ اس واقعہ سے چند دن قبل ایک خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے حامد میر سے ملاقات کی اور انہیں آگاہ کیا کہ ان کی جان کو بعض گروپوں کی جانب سے خطرات لاحق ہیں لہٰذا وہ غیرضروری سفر سے پرہیز کریں اور اپنی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں۔ آئی ایس آئی پر حامد میر کے الزامات کی اہمیت سے کہیں زیادہ تشہیر کی گئی‘ خصوصاً جیو ٹی وی پر آٹھ گھنٹے تک ان کا بیان بار بار نشر کیا جاتا رہا اور پس منظر میں پاک آرمی کے سربراہ راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہ کی تصاویر دکھائی گئیں۔

یہ حد سے تجاوز کرتی غیرذمہ دارانہ جسارت تھی۔ اسی پر بس نہیں ہوا بلکہ دو دانش ور ”نما“ صحافی ٹیلی ویژن سکرین پر جلوہ گر ہو کر آئی ایس آئی کے سربراہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے لگے۔ یہ نام نہاد دانشور مدعی بھی تھے اور جج بھی۔ جنگ اور جیو کے بہترین کالم نگاروں ایاز امیر‘ حسن نثار‘ شاہین صہبائی نے اس تشہیر پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور اسے غیرذمہ دارانہ حرکت قرار دیا۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے عامر میر کے بیان، اس کی حد سے زیادہ تشہیر کی شدید مذمت کی اور اسے ملک دشمنی قرار دیا۔ وزیر داخلہ نے آئی ایس آئی کو ملوث کرنے پر شدید تنقید کی اور اسے عسکری و سیاسی قیادت کے خلاف گہری سازش سے تعبیر کیا۔

حامد میر پر حملہ‘ دفاعی اداروں کے ملوث ہونے کی تشہیر‘ انڈیا اور دیگر پاکستان کے مخالفین کو اس تشہیر کی تشہیر اور ہمارے دفاعی اداروں کو بدنام کرنے کا موقع ملا۔ یہ واقعات ہو چکے ‘ انہیں کسی صورت واپس نہیں لوٹایا جا سکتا۔ جو نقصان پہنچ گیا اس کی تلافی ممکن نہیں مگر مسلسل کھینچ تان میں زیادہ خسارہ اورقومی یکجہتی کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ISI ہمارے دفاعی نظام کا ناگزیر جزو ہے‘ تینوں مسلح افواج کے کان اور آنکھیں‘ دشمن پر کاری ضرب لگانے والا ہراول اور بازوئے شمشیر زن۔ ریاست کی عزت اور سلامتی کا اولین محافظ۔ دشمن کی ہر آہٹ کو سننے اور ہر قدم پر نگاہ رکھنے والا ادارہ جو وقت سے پہلے میلی آنکھ کو پھوڑنے اور ناپاک قدم کاٹ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پوری قوم انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی‘ ان کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے‘ ان کے عزم و وقار کو قائم رکھنا اور ان کی حفاظت کرنا چاہتی ہے۔

پچھلے سال ”ٹائم“ میگزین نے اپنی ٹائٹل (کور) سٹوری میں آئی ایس آئی کو دنیا کی سب سے بہترین ایجنسی قرار دیتے ہوئے اس کی بے حد تعریف کی تھی۔ انڈیا کی را‘ اسرائیل کی موساد‘ برطانیہ کی ایم آئی‘ امریکہ کی سی آئی اے جو امیر ترین ریاستوں سے زیادہ وسائل رکھتی اور پاکستان کے خلاف ایکا کئے ہوئے ہیں۔ پھر چین اور روس کی دیو ہیکل ایجنسیاں‘ مڈل ایسٹ کے مسائل‘ سنٹرل ایشیا کی افراتفری‘ افغانستان میں پوری دنیا کی افواج کی موجودگی‘ مغربی سرحدوں پر تشدد کی لہر‘ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی کارروائیاں‘ غیرملکی مفادات کے زیر اثر فرقہ واریت۔ مسائل پر نظر ڈالیں‘ وسائل کا دیانت داری سے تجزیہ کریں‘ قلت تعداد کو پیش نظر رکھیں پھر اتنے زیادہ‘ بڑے اور وسائل سے لدے دشمنوں کا تصور کریں پھر ان کے مقابلے میں ہمارے قابل فخر ادارے کی قربانیاں‘ صلاحیت اور کامیابیوں کو دیکھیں تو بے اختیار داد دینے اور تحسین کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس کی راہ میں حائل ہونے کی بجائے پشت پناہی کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ دوسری طرف ڈان‘ نوائے وقت‘ روزنامہ ”جنگ “یہ پاکستان کا تابناک ماضی ہیں اور زندہ تاریخ بھی۔ ان میں کسی کو ایک غلطی یا لغزش کی نذر نہیں ہو جانا چاہئے۔

جنگ اور جیو پاکستان کے کل میڈیا کا پچاس فیصد ہے۔ ملک کے تمام نامور صحافی‘ قلم کار‘ ٹی وی میزبان اس کی ٹیم کا حصہ ہیں یا کبھی نہ کبھی اس کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں۔ اس ادارے نے لکھنے والوں پر کبھی پابندی نہیں لگائی‘ ایک ہی طرح کے لوگوں کی سرپرستی نہیں کی‘ یہاں ہر ظرف اور ہر طرز کے بادہ خوار موجودہیں اور ساقی نے کسی کو مایوس نہیں کیا۔

جنگ کے پنجاب آنے اور اس میں توسیع کے بعد اخبار نویسوں کی زندگیاں بدلنا شروع ہو گئیں۔ مالکان سب مال گھر لے جانے کی بجائے صحافیوں کے معاوضوں کو ان کی محنت اور وقار کے مطابق بڑھایا‘ اداروں کو وسعت دی‘ اس طرح لاکھوں کارکن اچھے روزگار حاصل کر سکے۔

جیو نیوز چینل آیا تو اس نے بہترین لوگوں کو اپنے اندر کھپایا‘ ان کے معاوضے بڑھائے اور ان کی تربیت تعلیم کے ادارے قائم کئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ملک کا نمبر ایک ٹی وی چینل قرار پایا۔ اس کے ساتھ ہی دیگر ادارے قائم ہوئے لیکن کوئی اس کی گرد کو نہیں چھو سکا۔ بیک وقت وہ نمبر ایک ہے‘ دو اور تین بھی۔ باقی سب ا سکے بعد۔ الیکٹرانک میڈیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ جیو پر دباﺅ آنے‘ کیبل آپریٹرز کے بائیکاٹ کرنے‘ چھاﺅنیوں میں بندش کے بعد کوئی دوسرا چینل ایک آدھ دن کیلئے نمبر ایک ہوا ہوگا اور بس!!

دفاعی ادارے 19 اپریل کی حرکت پر دکھی ہیں‘ نمبر لگانے والوں کی بن آئی ہے۔ وہ دونوں طرف سے داد پانے کے منتظر‘ خوشامدی اور جرائم پیشہ عدالتوں میں عرضیاں داخل کر کے اپنے گناہوں کا کفارہ چاہتے ہیں۔ 8 گھنٹے کی تشہیر‘ دفاعی اداروں کے سربراہوں کی تصاویر کو نمایاں کرنا بڑی خطا تھی جس پر حساس دلوں کو چوٹ پہنچی‘ دشمن کے ذرائع ابلاغ نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ اس کی تلافی اب تک ہو نہیں سکی‘ شاید کبھی نہ ہو سکے۔ مگر اس کی آڑ میں روز کے جلوس‘ مذہبی سیاستدانوں کی کف چھوڑتی بیان بازیاں‘ لیو‘ دھرو‘ پکڑو‘ مارو کی صدائیں طول کھینچتی جا رہی ہیں۔ کیا یہ طوالت زخم مندمل کر رہی ہے یا مزید گہرا‘ اس سے دشمن فائدہ اٹھائے گا یا شرمسار ہوگا؟ان حالات میں جب ہم چاروں طرف دشمن کے نرغے میں ہیں‘ قومی سطح پر ہمارے اوپر دباﺅ بڑھایا جا رہا ہے۔ تو ہمارے دفاعی اداروں اور رائے عامہ کے درمیان مکمل مفاہمت‘ یکجہتی اور تعاون کی ضرورت ہے‘ چہ جائیکہ ختم نہ ہونے والا تناﺅ پیدا کر دیا جائے۔

پیمرا ایسا فورم نہیں ہے جو اس تنازعے کا فیصلہ کر سکے۔ سرکاری بابوﺅں سے وہ جو میاں نواز شریف کے چنیدہ ہوں یہ توقع عبث ہے کہ وہ کوئی فیصلہ کر سکیں۔ وہ کبھی فیصلے پر نہیں پہنچ پائیں گے۔ دونوں طرف کے دباﺅ اور طاقت کو تولتے رہیں گے۔ فیصلہ دینے سے احتراز کریں گے اور معاملہ عدالتوں کے سپرد ہوگا۔ پھر خدا کی پناہ عدالتیں ایک معمولی قضیئے میں برسوں کی خبر لاتی ہیں۔ ایسے میں ہماری بہترین دانش کو بروئے کار آنا چاہئے۔

جناب جنرل عبدالوحید کاکڑ‘ جنرل کیانی‘ حمید گل‘ ہارون الرشید‘ مجیب الرحمن شامی‘ ذرائع ابلاغ کی نمائندہ اے پی این ایس‘ سی پی این ای‘۔ ”کوئی ہے“ جو ذاتی رائے پر اصرار کرتے رہنے کی بجائے اس تنازعے میں ثالث ہو جائے۔ ایک مرتبہ پھر صدا دیتا ہوں۔ کوئی ہے؟ جو بروئے کار آئے۔ ٭

مزید :

کالم -