صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی خارجہ پالیسی (2)

صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی خارجہ پالیسی (2)
صدر حسن روحانی کے دور میں ایرانی خارجہ پالیسی (2)
کیپشن: m jawad ch

  

عالمی کشیدگی کی موجودہ فضا میں ایران کی علاقائی پوزیشن بہت ٹھوس اور منفرد ہے۔ ایران اپنی وسیع سر زمین اور زمانہ¿ قدیم سے اپنے جغرافیائی محل وقوع اور مشرق و مغرب کو ملانے والے راستوں کے سنگم پر ہونے کی وجہ نہایت اہم گردانا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ ایران کی تہذیب اور ثقافتی ورثہ ناقابل تسخیر رہا ہے۔ البتہ اس کی اقتصادی اور سیاسی صورتحال میں اتار چڑھاﺅ آتے رہے ہیں۔

1979ءکے انقلاب کی کامیابی جو شہنشاہیت کے مقابلے میں عوامی اور اسلامی خصوصیات کا حامل تھا اس نے ملک میں ایک انقلابی طرز حکومت قائم کرنے میں مدد کی۔ اس انقلاب کے نتیجے میں ایران کے خارجہ تعلقات بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ نہ صرف اپنے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ بلکہ عظیم تر مشرق وسطیٰ اور باقی ماندہ دنیا کے ساتھ بھی اس کے تعلقات پر اثر پڑا۔ ایران کی صلاحیتوں کا معروضی تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران علاقے میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر بھی نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔ عالمگیر سیاست میں مثالیت پسندی کے بڑھتے ہوئے شعور کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی انقلاب کی متمول وراثت اور داخلی حکمرانی میں اپنے عوام کی زیادہ سے زیادہ شرکت کے باعث اپنی قوت کو قوم کی امنگیں اور آرزوئیں پوری کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے جبکہ طویل المدت ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں بھی قابل قدر کردار اد اکر سکتا ہے۔

ایران بے شمار تاریخی خصوصیات سے مدد لے کر منفرد مواقع کا بھرپور اور مفید استعمال کر سکتا ہے جن پر ماضی میں مناسب توجہ نہیں دی جا سکی۔ مثال کے طور پر ایران بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہا ہے اور حقیقی طور پر غیر وابستہ پالیسی پر کار بند رہا ہے جس کے باعث اسے موجودہ بین الاقوامی تناظر میں آزاد روی کی سہولت حاصل ہے۔ ایران اپنی سیاسی روایات سے بھی استفادہ کر سکتا ہے۔ ایران نے بڑی کامیابی سے حکمرانی کا جمہوری ماڈل تیار کیا ہے جو خالصتاً اس کا اپنا ہے جس کے لئے کوئی بیرونی مدد نہیں لی گئی۔ اور یہ جدید دنیا کے تقاضوں کے ہم آہنگ ہے۔ ایران کی ثقافتی شناخت جس میں ایران کے اوریجنل رنگ کے ساتھ اسلامی ثقافت کا تنوع بھی شامل ہے، جس کے ذریعے پورے عالم اسلام تک نہایت مو¿ثر انداز سے اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے۔ ایران سیاسی میدان میں بھی اپنا منفرد ماڈل پیش کر سکتا ہے۔ سابق ایرانی صدر محمد خاتمی نے ”تہذیبوں میں ڈائیلاگ“ کا ایک تصور پیش کیا جبکہ موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی نے تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف ایک پر امن دنیا کی تجویز پیش کی جس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ دسمبر میں اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔

 جدید دور میں اچھی حکمرانی ہر ریاست کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس کا حجم کیا ہے، آبادی کتنی ہے، جغرافیائی محل وقوع کہاں ہے، اس کی تعمیر و ترقی کی سطح کتنی ہے یا دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے ہیں۔ ایران زمانہ قدیم سے ہی ایک نہایت منظم ریاست رہا ہے اگرچہ گاہے بگاہے اس میں کچھ مداخلت بھی ہوتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے تمام ادوار میں جنگ اور امن میں اس کے تعلقات دوسروں کے ساتھ بہت گہرے رہے ہیں بالخصوص اپنے پڑوسیوں اور دیگر ممالک کے ساتھ۔ اس حوالے سے ایران کے پاس مختلف النوع تجربات کا ایک وسیع خزانہ موجود ہے۔ ایران کی سرحدیں سات ممالک کے ساتھ ملتی ہیں اور اس کی رسائی بحیرہ کیپسئن (Caspian) اور خلیج فارس کو بھی شامل کیا جائے تو اس کے پڑوس کے ممالک کی تعداد گیارہ تک پہنچ جاتی ہے۔ سمندری پانی کے یہ دونوں ذرائع ایران کی رسائی دنیا بھر کے لئے کھول دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کی قومی سلامتی اور امور خارجہ میں بھرپور وسعت بھی موجود ہے۔ دوسری طرف ایران کو اس بات کا بھی مکمل شعور ہے کہ یہ جس خطے میں واقع ہے وہاں بحرانوں کی کوئی کمی نہیں۔ فلسطین پر کئی عشروں سے بیرونی قبضہ پورے مشرق وسطیٰ کے لئے بہت بڑی مصیبت کا باعث ہے جو کہ اس خطے کی تعمیر و ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ عدم استحکام اور خطے میں تشدد کی موجودگی حالیہ برسوں میں اور زیادہ خرابی کا باعث بن رہی ہے جبکہ افغانستان اور عراق میں بیرونی فوجی مداخلت نے حالات کو ابھی تک بگاڑ رکھا ہے۔ 2011ءسے عالم عرب میں جو اتار چڑھاﺅ دیکھنے میں آیا جس کے نتیجے میں خاصا خون خرابہ بھی ہوا جسے مغربی اصطلاح میں عرب بہار (Arab Spring) بھی کہا گیا جبکہ اس کے بارے میں ”اسلامی بیداری“ کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی، اس سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ صورت حال ابھی کچھ عرصہ مزید قائم رہے گی جس کی وجہ سے غیر یقینی کی فضا میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات میں کشیدگی نے بھی حالات کو خراب کیا ہے۔ ایران کے اپنے بعض پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بھی معمول کے مطابق نہیں ہیں۔ تاہم یہاں پیدا ہونے والے تشدد میں کچھ غیر ریاستی عناصر کا ہاتھ بھی کار فرما ہے۔ افغانستان، عراق اور شام میں اس کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ حالات ایران کے خلاف ہیں۔ حالات کو خراب کرنے میں اسلامو فوبیا، ایرانو فوبیا اور شیعہ فوبیا کو بطور خاص ایک مہم کے طور پر ابھارا جا رہا ہے جس سے پورے خطے کے امن و سلامتی کے لئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں اور اس حوالے سے بیرونی دنیا میں ایران کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔ طالبان اور دوسرے انتہا پسند عناصر بھی ایران کے خلاف ہیں جو ایران اور اس کے پڑوسی ممالک میں غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔

جون 2013ءمیں ایران کے صدارتی انتخابات کے پہلے راﺅنڈ میں صدر روحانی نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ ان کے مد مقابل پانچ قدامت پسند امیدوار موجود تھے۔ روحانی نے 51 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ روحانی ایک اعتدال پسند اور جدیدیت کے حامی مدبر ہیں۔ انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب 73 فیصد تک پہنچ گیا تھا جس سے عوام کے جوش و خروش اور شراکت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ صدر روحانی کے بیرونی اور اندرونی مسائل پر اصول پسندانہ طرز عمل نے معاشرے اور ریاست کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے میں بھرپور مدد کی اور ان مسائل کے حل کے لئے ان کے دیانتدارانہ اور راست باز طریق کار نے کامیابی کی ضمانت دی۔ اس اعتبار سے روحانی نے آبادی کے تمام حلقوں کا احترام حاصل کر لیا۔

روحانی کی امور خارجہ کے بارے میں پالیسی اصولوں پر مبنی اور سنجیدگی کی حامل ہے۔ اور انہوں نے گزشتہ عشرے میں جاری رہنے والی خارجہ پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں اور اصلاحات کی ہیں۔ جن تبدیلیوں کی انہوں نے تجویز پیش کی وہ ہمعصر روایات کے مطابق کامیاب ثابت ہوئیں۔ ان اصولوں کی بنا پر ایران دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول کے مطابق استوار کر لے گا۔ صدر ایران کی بصیرت ایران کو تصادم کی راہ سے ہٹا کر ”ڈائیلاگ“ کی طرف لے گئی ہے جو نہایت مثبت تبدیلی ہے۔ ان کی نگاہیں قومی سلامتی کے تحفظ کے ذریعے ایران کی ساکھ کو بہتر بنانے پر لگی ہیں۔ وہ طویل المدت، جامع تعمیر و ترقی کے خواستگار ہیں۔ حقیقت پسندی اس بات کی متقاضی ہے کہ آپ کو بین الاقوامی نظام کی نوعیت، اس کے ڈھانچے، اس کی میکانیکی اور طاقت کی حرکیات کا علم ہونا چاہئے۔ جس سے ایران کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ ایران کی مادی اور اخلاقی قدروں کی تفہیم فراہم کرتی ہے جس میں ایرانی شہریوں کی اجتماعی دانش بھی جھلکتی ہے۔ یہ احتساب کی اہمیت، شفافیت اور دیانت کی ترویج کرتی ہے۔ ان کا دانشمندانہ انداز حالات میں باریک بینی سے ایک بہتر توازن قائم کرنے پر محمول ہے۔ ٭

مزید :

کالم -