لکیر پیٹنے والے

لکیر پیٹنے والے
لکیر پیٹنے والے
کیپشن: hamid walid

  

سانپ گزر گیا لکیر پیٹی جا رہی ہے، کہیں اس دھینگا مشتی میں جنرل مشرف کے فرار کی راہ ہموار نہ ہو جائے !

اس کھیل میں سب شریک ہو تے جا رہے ہیں، انداز علیحدہ علیحدہ ہے، مگر ایجنڈا ایک ہے اور سیاسی کھونٹا ڈی چوک اسلام آباد میں گاڑا جا رہا ہے، یہ احتجاج کیا رنگ دکھائے گا اور لوگوں کو کس ڈگر پر لے جائے گا.... کیا یہ ایشوز کی سیاست ہے یا پھر نان ایشوز کی!

 زبردستی کی سیاست نے اس ملک کو کچھ نہیں دیا سوائے فوجی آمروں کے طویل المدتی اقتدار کے ، جدوجہد اور جنون کے نام پر عقل کو بالائے طاق رکھنا بے عقلی ہوتا ہے، کان کنی میں کان کن کا جو حال ہوتا ہے۔ وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہوتا، وہ لاکھوں کروڑوں میں بھی پہچانا جاتا ہے !

دوسری جانب افرادی قوت کے بل پر رائج سیاسی نظام پر مرضی کا نظام مسلط کرنے کی خواہش سوائے قوت کے مظاہرے کے اور کچھ نہیں ہوتا، جیسے جوانی آتی ہے، تو جلوے دکھاتی ہے اسی طرح افرادی قوت کے میسر آتے ہی غیر سیاسی لوگ بھی سیاست کی گھاس چرنا شروع کر دیتے ہیں، درست، بجا، لیکن ان کا کیا کیا جائے جو موقع دیکھ کر اپنا لُچ تلنے کی کوشش میں ہیں، ادھر ایم کیو ایم بھی وضو کی تیاری میں ہے، جبکہ وہ جو میدان سیاست کے اصل کھلاڑی ہیں، گیم چینجر ہیں ، وہ ابھی تیل دیکھ رہے ہیں اور تیل کی دھار ، یوں بھی سرکس کا آغاز ہمیشہ مسخروں کے مسخرے پن سے ہوتا ہے، جو اپنے قد سے بڑے سائز کے کرتے پہن کر اپنے آپ کو بڑا دکھاتے ہیں،لیکن مصلے سے بڑا سجدہ کیسے ادا ہو سکتا ہے!

نمائندگی تو بہرحال ہے، جمہور کی بھی اور غیر جمہورکی بھی، نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے سردگرم دیکھا ہوا ہے، اس لئے انہیں میں دم خم ہے کہ ٹھوکا لگا سکیں، وہی اصل حریف ہیں اور وہی اصل مقابل، باقی سارے کبھی ادھر ہوتے ہیں ، کبھی اُدھر!....عوام میں بھی ان دو سیاسی جماعتوں کی پذیرائی ہے لیکن اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ عوام پاک فوج سے بھی بے پناہ محبت کرتے ہیں، فوج کے معاملے میں پاکستانی اس اصول کے حامی ہیں کہ یا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف ہیں اور کوئی پاکستانی نہیں سوچ سکتا کہ وہ پاک فوج کے خلاف ہے، یہ الگ بات کہ لوگوں کی اکثریت فوج کے سیاسی کردار سے ناخوش ہے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ لوگ سیاست دانوں سے خوش ہیں!

دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پاکستان کی سیاست میں نئی سیاسی قوتیں، نئے سیاسی سٹیک ہولڈرز پیدا ہو تے جا رہے ہیں یا پھر ان نئی عوامی قوتوں کی حیثیت محض پریشر گروپس کی ہے، کم از کم انتخابات کے نتائج تو یہی بتاتے ہیںکہ ان کو دکھا کر ان کے پیچھے سے کچھ اور نکالا جا سکتا ہے، کیونکہ ابھی بھی پنجاب میں نون لیگ کی مقبولیت ہے، سندھ میں پیپلز پارٹی کا راج ہے، کے پی میں تحریک انصاف ہے تو بلوچستان میں سرداروں کی پارٹیاں ہیںاور جہاں تک نئی سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے تو وہ یہاں ہیں نہ وہاں ہیں، پروفیسر علامہ طاہرالقادری، تو 90ءکی دہائی کے وسط میں سیاست میں براہ راست حصہ لینے کی مشق بھی کر چکے ہیں، قریہ قریہ ان کے امیدوار کھڑے ہوئے تھے، لیکن نتیجہ صفر نکلا تھا، عمران خان کا معاملہ مختلف ہے ، ان کی سیاست کے علاوہ بھی مقبولیت ہے، وہ لبرل اور نان لبرل طبقوں میں سیاست سے پہلے سے موجود ہیں، ان کی مقبولیت ہمہ گیر نوعیت کی ہے، ان کے دلدادہ لوگ ہر طبقے اور ہر عمر میں ہیں، اگر کہیں نہیں ہیں تو خالص سیاسی حلقوں میں نہیں ہیں، وہ ابھی تک عمران خان کے بارے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں!

لیکن اگر اس بات کو درست مان لیا جائے کہ پاکستان کی سیاست میں نئے سٹیک ہولڈرز نے جنم لے لیا ہے تو اس کا ایک مطلب یہ ہونا چاہئے کہ اگلے انتخابات میں پیپلزپارٹی ایک علاقائی جماعت بن کر رہ جائے گی اور اصل مقابلہ پی ٹی آئی اور نون لگ میں ہو گا!.... لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی آسانی سے جگہ چھوڑ دے گی ،کیونکہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں ابھی بھی اس کا ووٹ اور سپورٹ موجود ہے، بلاول بھٹوکی شکل میں ایک بھٹو اور ہے، اگر اس کا گرجنا برسنا عوام پر اثر کرگیا تو پی ٹی آئی غیر متعلقہ ہو جائے گی!

یوں بھی سیاسی جماعتوں کی بنیاد نظریئے پر ہوتی ہے۔ تحریک انصاف نے ظلم اور کرپشن میں اٹے معاشرے میں انصاف کا غلغلہ بلند کیا تھا جس کو نوجوانوں نے پذیرائی دی لیکن پھر پی ٹی آئی نے ساری ٹکٹیں اثرورسوخ رکھنے والوں اور موقع پرستوں میں تقسیم کردیںاور نوجوان مُنہ دیکھتے رہ گئے، یہاں تک کہ فوزیہ قصوری اور عمر چیمہ جیسے کہنہ مشق ورکروں کو بھی نظر انداز کیا گیا، شاید یہی وجہ ہے کہ قصوری خاندان عمران خان کے اردگر د نظر نہیں آرہا ہے ، یہی حال سردار آصف احمد علی کا ہے اور جاوید ہاشمی بھی اڑان کے لئے پر تول رہے ہیں، گویا کہ پی ٹی آئی نے جو کہا وہ کیا نہیں اور جو کیا وہ کہا نہیں ، اس تضاد نے مایوسی کو جنم دیا ہے اور اٹھارہ سال کی تپسیا کے باوجود ابھی بھی عمران خان تربیتی مرحلے میں ہیں!

ایسے میں وہ جو ٹوپیاں بدلنے کے عادی ہیں ان کو طالبان جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ جیو کے ساتھ جنگ نے معاملہ اور بھی چوپٹ کردیا ہے، پابندی لگی تو کئی اور طرح کے کھلاڑی چاقو کھول کر میدان میں کود پڑیں گے، پھر لکیر پیٹنے والوں کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے گا،کیونکہ ملک میں اسلام کا نفاذابھی مکمل نہیں ہو سکا ہے اور لوگوں کو روٹی ، کپڑا اور مکان ملا نہیں ہے اور انصاف تو ان کو ملتا ہے ،جن کا پیٹ اور جیب بھرے ہوں! ٭

مزید :

کالم -