عمران خان کا آمرانہ مزاج ان کاسب سے بڑا دشمن ہے ، کامران مائیکل

عمران خان کا آمرانہ مزاج ان کاسب سے بڑا دشمن ہے ، کامران مائیکل

لاہور(پ ر) وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ سینیٹر کامران مائیکل نے کہا ہے کہ ڈی چوک کاجلسہ جمہوریت کوڈی ریل کرنے کیلئے تھا مگرسازش ناکام ہوگئی۔ایک پارلیمانی جماعت کے سربراہ کاچوراہے میں کھڑے ہوکرچارٹرآف ڈیمانڈ پیش کرنا منتخب پارلیمنٹ کی سپرمیسی سے انکار ہے۔معلوم تھا باشعورعوام اپنے مینڈیٹ اور جمہوریت کیخلاف احتجاج کومستردکردیں گے ۔ سونامی کی ناکامی اوربدنامی عمران خان کی ضدکاشاخسانہ ہے،قومی ضمیر کے حالیہ فیصلے سے جمہوریت کوتقویت ملے گی ۔لوگ تعمیروترقی اورخوشحالی کے خواہاں ہیں ،انہیں سپانسرڈ احتجاجی سیاست میں قطعاً کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اپنے ایک بیان میں کامران مائیکل نے مزید کہا کہ اگرعمران خان جمہوریت کے حامی ہیں تو پارلیمنٹ میں بات کیوں نہیں کرتے ۔ان کامنتخب پارلیمنٹ کوبائی پاس کرنا جمہوریت کیخلاف گھناﺅنی ساز ش نہیں توپھرکیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے کسی شاہراہ پرشواورشورکرنے کاکوئی جواز نہیںتھا،پی ٹی آئی والے ترقیاتی منصوبوں کوبلڈوزکرنے کی بجائے اسمبلیوں کے اندراورباہر اپنامثبت کرداراداکریں ۔عمران خان نے اپنی سیاسی ساکھ کی بحالی کیلئے انتہائی غلط راستہ منتخب کیا ،یہ شعبدہ بازی نہیں کارکردگی کادورہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا آمرانہ مزاج ان کاسب سے بڑا دشمن ہے ۔اگر پی ٹی آئی کی قیادت کے پاس دھاندلی کے بارے میں کوئی ٹھوس شواہدموجودہیں توانہوں نے آج تک عدالت کادروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا،اب بھی وقت ہے وہ عدالت سے رجوع کریں ۔انہوں نے کہا کہ عوامی عدالت نے منتخب حکومت کیخلاف پی ٹی آئی کی چارج شیٹ کومستردکردیا ۔عوام کامنتخب حکومت اوراس کی دوررس اصلاحات پربھرپوراعتماد ہماراسرمایہ افتخار ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1