نیا الیکشن کمیشن 4 حلقوں میں انگوٹھوں کی تصدیق اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق پنکچر نہ لگانیوالے نگران حکمران

نیا الیکشن کمیشن 4 حلقوں میں انگوٹھوں کی تصدیق اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا ...

                         اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ دھاندلی والے الیکشن سے نیا پاکستان نہیں بن سکتا۔ جو لوگ دھاندلی اور دو نمبری کرکے اقتدار میں آئیں کیا وہ بعد میں شریف بن جائیں گے۔ گزشتہ سال 11 مئی کو دھاندلی کرکے نئے پاکستان کو روکا گیا۔ اسلام آباد ڈی چوک پر مبینہ انتخابی دھاندلی کیخلاف احتجاجی جلسہ سے خطاب کے جلسے کا مقصد 11 مئی کی دھاندلی کا احتساب کرنا ہے۔ جمہوریت کو دھاندلی سے خطرہ ہوتا ہے جبکہ صاف اور شفاف الیکشن سے جمہوریت مضبوط ہوتی ہے۔ آج تحریک انصاف کے جلسے کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ مجھے پتہ تھا کہ فوجی نرسری میں بڑے ہونے والے جو مرضی کر لیں تحریک انصاف کو نہیں روک سکتے۔ عمران خان نے الیکشن کمشن کے تمام ارکان سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ الیکشن کمشن پر پورے پاکستان کو اعتماد نہیں ، نئے پاکستان کی تشکیل کیلئے نیا الیکشن کمشن تشکیل دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کروائی جائے۔ گزشتہ سال 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں۔ الیکشن کیلئے بائیو میٹرک سسٹم لایا جائے۔ نگران سیٹ اپ میں 35 پنکچر کرنے والے لوگ نہ لائے جائیں،اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق دیا جائے اور ریٹرننگ افسر الیکشن کمشن کے ماتحت ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں سب سے زیادہ پیسہ شریف برادران کا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ ان اکے اور شریف برادران کے بیرون ملک سرمائے کی تفصیلات جاری کرے۔ پتہ چل جائے گا کہ حکمران کتنے محب وطن ہیں،پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ قرض موجودہ حکومت نے لیا ہے۔ انہوں نے جیو نیوز کے مالک میر شکیل الرحمان کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف بہت بڑا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے جس میں جیو نیوز بھی شامل ہے۔ میر شکیل الرحمان سے بیرونی فنڈنگ کے بارے میں پوچھنا میرا حق ہے۔ جیو والے بیرون ممالک سے پیسہ لے کر ملکی ایجنڈا سیٹ کرتے ہیں۔ میر شکیل الرحمان بتائیںامریکا اور برطانیہ سے کتنا پیسہ لیا۔ میر شکیل الرحمان باہر سے پیسہ لے کر ہمیں ذلیل کررہے ہیں۔ میر شکیل الرحمان نے فوج اورآئی ایس آئی کے ساتھ جو کیا، کیا کوئی محب وطن ایسا کر سکتا ہے - این این کے مطابق عمران خان نے انتخابی دھاندلی کیخلاف اگلا سونامی جلسہ 23 مئی کو فیصل آباد میں کرنے کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ مینڈیٹ سچا ہے تو مسلم لیگ (ن) کس سے ڈر رہی ہے، جمہوریت کو دھاندلی سے خطرہ ہے شفافیت سے نہیں،میاں صاحب میچ کھیلنا چاہتا ہوں لیکن امپائر غیر جانب دار چاہتے ہیں ،مک مکا نہیں چلے گا ،جو لوگ الیکشن میں دھاندلی اور کرپشن کرکے اسمبلی میں آئیں گے تو کیا شریف اور ایماندار بن جائیں گے؟ملک میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے، دھاندلی سے اسمبلیوں میں آنے والے کرپشن کیسے ختم کریں گے،اسلام آباد ،راولپنڈی میٹر و بس منصوبے میں 4 ارب روپے خرچہ آنا چاہئے حکومت 24 ارب میں مکمل کرہی ہے آئندہ انتخابات کیلئے نئے الیکشن کمیشن، 4 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق، دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ چوری کرنیوالوں کو سزائیں، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق، بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا مطالبہ ،ہمارے خلاف بہت بڑا پراپیگنڈا ہوا جس میں پاکستان کا ایک میڈیا ہاو¿س جیو اور جنگ بھی ملوث ہے۔ عمران خان نے کہا کہ جیو اور جنگ گروپ میں ایسے صحافی بھی موجود ہیں جنہیوں نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں اور اس کے لئے میں حامد میر کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن جیو کا مالک میر شکیل الرحمن دبئی میں بیٹھا ہوا ہے جو بیرون ممالک سے پیسے لے کر اپنا ایجنڈا پورا کر رہا ہے، میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہیں اس کام کےلئے کتنے پیسے ملے۔ آئی ایس آئی اور اس کے سربراہ کا میڈیا ٹرائل کیا گیا، اگر کسی نے غلطی کی تو اس پر تنقید کی جائے لیکن اسے تباہ کرنے کی کوشش نہ کرو۔ جیو مشرقی بارڈر پر امن اور مغربی بارڈر پر جنگ کی آشا چلاتا رہا اور جب میں نے امن کی بات کی تو مجھے طالبان خان بنا دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے جلسے کو حکومت کی جانب سے ناکام کرنے کی پوری کوشش کی گئی، سارا دن میرے موبائل پر پیغامات موصول ہورہے تھے کہ قافلوں کو جگہ جگہ روکا جارہا ہے، مجھے آج مسلم لیگ(ن) کی حرکتیں دیکھ کر آصف زرداری کی تعریف کرنی پڑگئی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے کہاکہ عمران خان نہ کھیلتا ہے اور نہ کھیلنے دیتا ہے۔ نواز شریف یہ سن لیں گے میں کھیلنا چاہتا ہوں لیکن ایک غیر جانب دار امپائر کی موجود گی میں کھیلوں گا۔ پچھلے سال 11 مئی کو جو میچ کھیلا گیا اس میں نواز شریف نے امپائر کو اپنے ساتھ ملا لیا۔تحریک انصاف کے چیرمین نے کہا کہ ہم صاف اور شفاف میچ کھیل کر ملک سے دھاندلی کو ختم کرکے نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ جو لوگ الیکشن میں دھاندلی اور کرپشن کرکے اسمبلی میں آئیں گے تو کیا شریف اور ایماندار بن جائیں گے؟ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، نیب کے سابق چیف نے کہا تھا ملک میں روزانہ 12 ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے۔ دھاندلی کرکے اسمبلیوں میں آنے والے کرپشن کیسے ختم کریں گے۔عمران خان نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ایک سال گزر گیا لیکن کوئی ایک چیز بتائیں جو بہتر ہوئی ہے، اسلام آباد میں ایک میٹرو بس آنے والی ہے لیکن ایشیائی ترقیاتی بنک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ اس پر 4 ارب روپے خرچہ آنا چاہئے تاہم حکومت اس منصوبے کو 24 ارب روپے میں مکمل کررہی ہے ، یہ کرپشن نہیں تو اور کیا ہے، اسد عمر اور مشاہد حسین میٹروبس کے اس منصوبے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے جلسے کے خوف سے لوڈشیڈنگ میں کچھ کمی ہوگئی ہے، لیکن بجلی کی چوری کو ختم نہیں کیا گیا، غریب عوام چوری کی بجلی کے پیسے بھی ادا کررہے ہیں۔ عمران خان نے انتخابی دھاندلی کیخلاف ہر فورم تک جانے اور اگلا سونامی جلسہ 23 مئی کو فیصل آباد میں کرنے کا اعلان کردیا، انہوں نے آئندہ انتخابات کیلئے نئے الیکشن کمیشن، 4 حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق، دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ چوری کرنیوالوں کو سزائیں، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق، بائیو میٹرک سسٹم اور الیکٹرونک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کا مطالبہ بھی کیا،ان کا کہنا ہے کہ مینڈیٹ سچا ہے تو ن لیگ کس سے ڈر رہی ہے، جمہوریت کو دھاندلی سے خطرہ ہوتا ہے، شفافیت سے نہیں، ن لیگ کی حرکتیں دیکھ کر آصف زرداری کی تعریف کرنی پڑگئی، کردار کشی سے نہیں ڈرونگا، میر شکیل الرحمان کا مقابلہ کروں گا، ان کا چینل باہر سے پیسہ لےکر خود کا ایجنڈا چلارہا ہے۔عمران خان نے الیکشن کمیشن تحلیل کرنے، زیر التوا انتخابی عرضداشتوں کا پانچ دن میں فیصلہ کرنے اور شفاف انتخابی اصلاحات کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ سونامی چل پڑی جو نہیں رک سکتی، 23 مئی کو آگلا پڑاﺅ فیصل آباد ہوگا، ہر جمعے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کرینگے، فوجی آمریت کی نرسری میں پلنے والے عوامی جنون نہیں روک سکتے، رکاوٹوں کے باوجود تاریخی جلسہ کر دکھایا، ایک سال میں مہنگائی، روزگاری اور لوڈشیڈنگ بڑھ گئی،چالیس چور پکڑنے کے دعویداروں نے ایک چور بھی نہیں پکڑا، حکمران سرمایہ واپس لے آئیں تو دس سال ٹیکسوں کی ضرورت نہیں، کسی کے اشاروں پر نہیں ناچتے، آئی ایس آئی نے ہی آئی جے آئی بنایاتھا، الیکشن تسلیم کیا لیکن دھاندلی نہیں،11مئی کو میچ فکسنگ کرنے والے میدان میں آئیں، مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے، کے پی کے حکومت میں ایک روپے کی ٹیکس چوری نہیں کی، آئندہ انتخابات بائیو میٹرک سسٹم پر کرائے جائیں اور نگران حکومت شفاف ہونی چاہیے، انتخابی اصلاحات کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ عمران خان نے پونے 9 بجے جلسے سے خطاب شروع کیا جو ساڑھے 9 بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ میں جلسہ کامیاب بنانے پر اپنے کارکنوں کا مشکور ہوں جنہوں نے میری عزت رکھی حالانکہ حکومت نے جلسہ ناکام بنانے کی پوری کوشش کی تھی۔ مجھے سارا دن موبائل پر پیغامات ملتے رہے کہ جگہ جگہ کارکنوں کو روکا جارہا ہے ، رکاوٹوں کے باوجود نوجوان اسلام آباد پہنچے ہیں کیونکہ تحریک انصا ف کا جنون ختم نہیں ہوسکتا۔ ن لیگ کی حرکتیں دیکھ کر مجھے زرداری کی تعریف کرنی پڑ گئی ہے، میں نے کبھی زرداری کو یہ کہتے نہیں سنا کہ باہر سے پیسہ لاﺅنگا وہ ایک بات کرتے تھے یہ باہر سے پیسہ لانے اورچالیس چوروں کو پکڑنے کے دعوے کرتے رہے جو ہوا ہوگئے۔ حکمرانوں نے منافقت اختیار کی ہمیں جلسے کی اجازت بھی دی اور رکاوٹیں بھی کھڑی کردیں ۔ ن لیگ سچ بولنا سیکھے۔ آج اگر رکاوٹیں نہ ہوتیں تو جلسہ دگنا ہوتا۔ ۔ میاں صاحب کو جم خانہ کلب میں کھیلنے کی غلط عادت پڑ گئی ہے۔ کرکٹ میں بھی نیوٹرل ایمپائرنگ میں نے شروع کروائی اور1986ءمیں پہلی مرتبہ پاکستان نے اپنے میدانوں پر نیوٹرل ایمپائر کھڑے کیے۔ ن لیگ نے 11مئی کا میچ فکس کیاتھا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے جلسے کے خوف سے کچھ دن لوڈشیڈنگ کم ہوگئی ہے۔ حکومت نے 500 ارب روپے گردشی قرضہ اتارا پھر بھی بجلی کی صورتحال پرانی والی ہے اور قیمت بھی دگنی کردی ہے۔3 سو ارب روپے پھر گردشی قرضہ بن چکا ہے ۔ بجلی چوری عروج پر ہے جس کی قیمت مہنگائی کی صورت میں عوام کو مل رہی ہے ، بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بھائی لندن گئے اور انگریز تاجروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی جبکہ خود برطانیہ میں ان کی سب سے زیادہ سرمایہ کاری ہے اور اسحاق ڈار کی دبئی میں سرمایہ کاری ہے ، شہباز شریف علی بابا چالیس چور کے بیان دیتے تھے اب وہ کدھر گئے، سال میں کوئی ایک چور پکڑ کر دکھایا؟ انہوں نے کہا کہ اگر سوئس بینکوں میں پڑے 2سو ارب ڈالر واپس پاکستان آجائیں تو دس سال تک کسی ٹیکس کی ضرورت نہیں ہے ، حکمران یہ سرمایہ اس لئے وطن نہیں لاتے کہ ان کا اپنا سرمایہ باہر ہے یہ صرف وہی واپس لا سکتا ہے جس کی دولت اور جائیدادپاکستان میں ہو۔ لاہور ہائیکورٹ میں ایک کیس درج ہوا ہے جس میں شریف برادران سے پوچھا گیا ہے کہ ان کا کتنا پیسہ باہر ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ ایک سال میں حکومت نے ریکارڈ قرضہ لیا ہے اور موجودہ حجم دو نسلیں بھی نہیں اتار سکتیں۔ ملک میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے ہم دھاندلی کا احتساب چاہتے ہیں ، ہمیں اشاروں کا طعنہ دینے والے بتائیں کہ آئی جے آئی کس کے اشارے پر بنا تھا۔ آئی جے آئی کا کپتان کون تھا، خود دوسروں کے اشاروں پر چلنے والے ہمیں طعنہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن ٹریبونل میں ثبوت دے دئیے ہیں لیکن کوئی انصاف نہیں مل رہا۔ سرگودھا کے حلقے میں نواز شریف کے ایک پولنگ اسٹیشن کی کل ووٹوں کی تعداد 15 سو تھی لیکن بکسے سے 8ہزار ووٹ نکلے۔ ہم نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر آئیں گے ۔ ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ میر شکیل الرحمن بتائے کہ اس کو امریکہ اور برطانیہ نے کتنا پیسہ دیا ہے ۔ امن کی آشا صرف بھارت نہیں مغربی سرحد پر بھی ہونی چاہیے۔ عمران خان نے کہا کہ نیا الیکشن کمیشن تشکیل دیا جائے اور تمام ارکان مستعفی ہوں۔ ریٹرننگ افسران نے ریکارڈ دھاندلی کی ہے۔4حلقوں کے فنگر پرنٹس کی فوری تصدیق کرائی جائے جو حلقے حکومت نے نامزد کیے ہیں ہم اس کیلئے تیار ہیں۔ الیکشن کمیشن مضبوط کرنے سے جمہوریت ڈی ریل نہیں ہوگی بلکہ مستحکم ہوگی۔ ہم سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہیں۔ چیف جسٹس 5 دن کے اندر ہمارے زیر التوا مقدمات کا فیصلہ کرائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔ پہلے درخواست کی تھی اب مطالبہ کررہے ہیں مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو سزا دلوا کر دم لیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حامد زمان نے 57لاکھ روپے مقدمے پر خرچ کیے مگر انصاف نہیں ملا۔ ایک لاکھ 70ہزار ووٹوں میں سے 90 ہزار پرچیاں نکلی ہیں۔ ریٹرننگ افسر کو شرم آنی چاہیے ۔ حکومت نے ریٹرننگ افسران کے ساتھ مل کر میچ فکس کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ سمجھتی تھی کہ عمران خان کو کے پی کے حکومت دے دو یہ عیاشی کرے گا، ٹھیکے لے گا اور مال بنائے گا، آگے پیچھے وزیر ہوں گے لیکن میں ایسا آدمی نہیں ہوں میں نے اب تک ایک شخص کو بھی سفارش پر نوکری نہیں دلوائی۔ ہم بلدیاتی الیکشن میں بائیو میٹرک سسٹم لائیں گے۔ انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ نگران حکومت ایسی نہیں ہونی چاہیے جو 35 پنکچر لگائے۔ پنکچر لگانے والے کو چیئرمین پی سی بی بنا دیا گیا۔ نگران حکومت کے افراد کو دو سال تک کوئی سرکاری عہدہ نہیں ملنا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم تمام حامی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملائیں گے اور ہر جمعے مظاہرہ کرینگے۔23مئی کو سونامی فیصل آباد جائے گا۔ آج پولیس بھی بلا آخر سونامی کے ساتھ چل پڑی ہے۔جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ آج کے دن ڈی چوک التحریر چوک بن چکا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اگر ابھی اعلان کریں تو جعلی حکومت اور اسمبلیاں 10 منٹ میں ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت جمعیت علماءاسلام نے بھی عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا۔ سب سے پہلے این اے 55 میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرائی جائے۔ چار ان کے اور چار ہمارے حلقوں کی تصدیق کرا لی جائے۔ اگر ایک حلقے میں بھی جعلی ووٹ نکلے تو حکومت کو رہنے کا حق نہیں۔ دھاندلی ثابت ہو جائے تو عمران خان احتجاج کیلئے کال دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں لوٹ مار جاری ہے۔ ملک پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے۔ حکومت کا انجن دھواں دے رہا ہے، پسٹن ختم ہو چکے ہیں، ان کے پلگ میں کچرا ہے۔ وزیر اعظم ایران بھاگ گئے ہیں،جس دن شیخ رشید اور نواز شریف اکٹھے کافی پیئں گے، قیامت کی نشانی ہو گی -

مزید : صفحہ اول