پنجاب میں کپاس کی کاشت کا ہدف10.5ملین گانٹھیں مقرر

پنجاب میں کپاس کی کاشت کا ہدف10.5ملین گانٹھیں مقرر

لاہور(کامرس رپورٹر)کپاس کو پاکستان کی معیشت میں اہم حیثیت حاصل ہے کیونکہ کپاس کا قومی جی ڈی پی میں 1.5 فیصد اور معیاری زرعی مصنوعات کی تیاری میں 7 فیصد حصہ ہے۔ کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا چوتھا نمبر ہے اورمجموعی قومی پیداوار کا 74 فیصد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ صوبہ پنجاب میں امسال 6.1 ملین ایکڑ کپاس کے زیرکاشت رقبہ سے 10.5 ملین گانٹھ پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔محکمہ زراعت پنجاب نے امسال کپاس کی فصل کو گلابی سنڈی کے حملہ سے بچانے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کر لی ہے اور ہدف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے ۔ان خیالات کا اظہار حسن سردار ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (ٹاسک فورس)پنجاب نے لاہور میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں چیف ایگزیکٹو پاکستان ایگریکلچرل کولیشن عارف ندیم، ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)پنجاب ڈاکٹر انجم علی، ڈائریکٹر جنرل زراعت (پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول )پنجاب چوہدری خالد محمود ، وائس چانسلر محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر رانا آصف علی ، ڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آری ، فیصل آباد ڈاکٹر صغیر احمد، ڈائریکٹر انٹامولوجیکل ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ آری ،فیصل آبادطارق نیاز ،ایگریکلچر ل پبلیکیشن آفیسر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب محمد اسحاق لاشاری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زرعی ٹاسک فورس ڈاکٹر امجد علی اورڈپٹی ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ ڈاکٹر محمد ریاض کے علاوہ دیگر افسران نے شرکت کی ۔ ڈاکٹر انجم علی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں کپاس کاشت کا عمل سست روی کا شکار ہے ۔کاشتکاروں کو کپاس کی جلد کاشت مکمل کرنے کے لیے بھرپور مہم شروع کی گئی ہے ۔کپاس کاشت کے اضلاع میں زرعی ماہرین کی ٹیمیں گاؤں کی سطح پر کاشتکاروں کو کپاس کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے آگاہی کے لئے تربیتی پروگراموں کے انعقاد میں مصروف ہیں ۔چوہدری خالد محمود نے کپاس کی گلابی سنڈی کے تدارک کے متعلق بتایا کہ جننگ فیکٹریوں کے مالکان کومحکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ فیکٹریوں میں کپاس کے کچرے کی تلفی کو یقینی بنائیں ۔ کاشتکار وں کو سفارش کی گئی ہے کہ وہ کھیتوں اور سڑکوں کے کنارے پڑی کپاس کی چھڑیوں کو الٹ پلٹ کر کے ان کھلے ٹینڈوں اور کچرے کو تلف کریں ۔پروفیسر ڈاکٹر رانا آصف علی نے بتایا کہ کپاس کی گلابی سنڈی زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے ۔یہ سنڈی افزائش نسل کے ذریعے اپنی تعداد میں اضافہ کر کے ستمبر اور اکتوبر میں کپاس کے پھولوں، ڈوڈیوں اور ٹینڈوں پر حملہ آور ہو کر نہ صرف پیداوار میں کمی کا سبب بنتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے کپاس کی روئی داغدار ہوجاتی ہے اور اس کا معیار بھی گرجاتا ہے۔

مزید : کامرس


loading...