وزیر اعظم نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کا تجارت ،توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں باہمی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

وزیر اعظم نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کا تجارت ،توانائی ...
وزیر اعظم نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کا تجارت ،توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں باہمی تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

  


دوشنبے (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم محمد نواز شریف اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے  تجارت، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں باہمی تعلقات کو تقویت دینے پر اتفاق کرتے ہوئے  پاکستان اور تاجکستان کے درمیان حکومت اور عوام کی سطح پر قریبی اشتراک کار پر زور دیا ہے ۔

نجی ٹی وی ’’سما نیوز‘‘کے مطابق  تاجکستان میں اعلی سطح کے اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف نے  اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیاء بالخصوص تاجکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے جو تمام وسطی ایشیائی ریاستوں میں جغرافیائی طور پر اس کے قریب ترین ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ’’ کاسا 1000‘‘ منصوبہ بجلی کی قلت کو کم کرنے کے لئے پاکستان کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔

انہوں نے تاجک صدر کو 2018ء تک ملک میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے اپنے وژن کے بارے میں آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ مواصلاتی روابط علاقائی ہم آہنگی کے لئے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔دونوں رہنماوں نے   تاجکستان کی سومون ایئر سے لاہور اور دوشنبے کے درمیان براہ راست پروازوں کے حالیہ آغاز پر اطمینان ظاہر کیا۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت میں 500 ملین ڈالر کے ہدف کے حصول کے لئے تیز تر اقدامات اٹھانے کی ضرورتپر زور دیتے ہوئے کہا کہ  پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ وسیع تر مواصلاتی روابط اور گوادر سے کاشغر تک باہمی ہم آہنگی کے لئے نئے مواقع فراہم کرے گی اور اس کے ساتھ ساتھ مرغب کے ذریعے تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ شاہراتی رابطہ فراہم کرے گی،  انہوں نے تاجکستان کو درآمدات و برآمدات کے لئے پاکستانی بندرگاہیں استعمال کرنے کی پیشکش کی جو مختصر ترین سمندری راستہ فراہم کرتا ہے۔

وزیراعظم ننواز شریف نے  کہا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ سیکورٹی تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے اور انسداد دہشت گردی، انسداد منشیات، انسانی سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی کنٹرول کے نظام کے بارے میں تجربات کے تبادلے کی تجویز دی۔ صدر امام علی رحمانوف نے پاک چین اقتصادی راہداری پر پیشرفت کا خیرمقدم کیا جو پاکستان اور تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان مواصلاتی سہولت بھی فراہم کرے گی۔ انہوں نے چین، قزاخستان، کرغزستان اور پاکستان کے مابین راہداری ٹریفک کے بارے میں چار ملکی معاہدے کے حوالے سے تاجکستان کی درخواست قبول کرنے کے لئے پاکستان کی حمایت کا اعتراف کیا۔تاجک صدر امام علی رحمانوف نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا، وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی، سیکریٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگا اور تاجکستان میں پاکستان کے سفیر طارق اقبال سومرو بھی ضیافت میں موجود تھے۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...