عوامی تحریک کے استغاثہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت

عوامی تحریک کے استغاثہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت

لاہور(نامہ نگار)سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف پاکستان عوامی تحریک کے استغاثہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت ہوئی، دو کارکنوں نے استغاثہ کے حق میں اپنے بیانات قلمبند کرائے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج چودھری محمد اعظم نے عوامی تحریک کے استغاثے کی سماعت شروع کی توعوامی تحریک کے دو کارکنوں نے اپنے بیانات قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے پولیس نے کارکنوں کو قتل کیا اور اسی صورتحال پیدا کی جس سے کارکن مشتعل ہوں، تجاوزات ہٹانے کی آڑ میں پولیس نے ادارہ منہاج القران کو کرین اور بلڈرز اور سے مسمار کرنے کی کوشش کی۔

اور ڈاکٹر طاہر القادری کے گھر کے گیٹ کو بھی توڑ دیا جس سے کارکن مشتعل ہوئے اور پولیس نے مذاحمت پر کارکنوں کو سیدھی گولیاں ماریں۔

پاکستان عوامی تحریک کے استغاثہ میں مدعی جواد حامد نے موقف اختیار کررکھا ہے کہ حکومت نے پولیس کے ذریعے ادارہ منہاج القرآن پر حملہ کرایا۔ عوامی تحریک کے استغاثہ میں وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہبازشریف سمیت 139افراد کے نام شامل ہیں،استغاثہ کی مزید سماعت اب 13مئی کو ہو گی۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...