لاکھوں روپے ماہانہ کے فنڈ خوردبرد ، 390سکولوں میں مضر صحت پانی ، بچے بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے

لاکھوں روپے ماہانہ کے فنڈ خوردبرد ، 390سکولوں میں مضر صحت پانی ، بچے بیماریوں ...

 لاہور(لیاقت کھرل)صوبائی دارالحکومت کے 390 سرکاری سکولوں میں مضر صحت پانی استعمال کرنے کی رپورٹ، خراب ٹینکیاں، کئی کئی سال پرانی اور بوسیدہ سپلائی لائنوں سے آنے والے بدبو دار پانی کے نمونوں نے محکمہ تعلیم لاہور کے افسران کی کارکردگی کا پول کھول دیا، وزیر تعلیم کے نوٹس میں معاملہ آنے پر قائم مقام ای ڈی او تعلیم لاہور اور ڈی ای اوز کی دوڑیں لگ گئیں، ’’پاکستان‘‘ کو محکمہ تعلیم لاہور کے ذرائع سے بتایا گیا ہے کہ لاہور میں قائم 1265سرکاری سکولوں میں سے اکثریتی سکولوں میں بچے مضر صحت بدبو دار، گندہ اور جراثیم زدہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور ٹھنڈے اور صاف پانی کے لئے جمع ہونے والے لاکھوں روپے ماہانہ کے فنڈ مبینہ طور پر ہڑپ کر جاتے ہیں اور اس میں فروغ تعلیم فنڈز اور این ایس پی فنڈز کی پانی کے کولرز کی خریداری اور ٹینکیوں کی مرمت کے نام پر بوگس رسیدیں تیار کر کے افسران کو مطمئن اور سب اچھاکی رپورٹ دی جاتی ہے، گرم اور مضر صحت پانی پینے سے بچوں کی ایک بڑی تعداد پیٹ، یرقان ،بخار، ٹائی فیڈ اور گلے کے امراض کا شکار ہو کر رہ گئے ہیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ ا س میں لاہور کے 390سے زائد سرکاری سکول ہیں، جہاں پانی کے ٹھنڈے کولرتک نہیں اور ان سکولوں میں اگر پانی کے کولریا ٹینکیاں ہیں تو کئی کئی سال پرانی اور خستہ حال ہو چکی ہیں ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر تعلیم کے حکم پر مختلف محکموں کی ٹیموں نے اس حوالے سے گزشتہ دنوں لاہور کے 600سے زائد سکولوں کے دورے بھی کئے جس میں 390 سکولوں میں پانی کی خراب ٹینکیوں، خستہ حال اور بوسیدہ سپلائی لائنوں کا ذکر کیا گیا اور ان سکولوں میں پینے کے پانی کے نمونے حاصل کئے گئے جس کے بعد پانی مضر صحت اور جان لیوا ڈیکلیئر کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس حوالے سے وزیر تعلیم کو آج باقاعدہ رپورٹ پیش کی جائے گی ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ جن سکولوں میں پانی کی ٹینکیاں خراب ، ٹوٹ پھوٹ کا شکار یا پانی کی سپلائی لائنیں خستہ حال، انتہائی بوسیدہ ہیں، ان سرکاری سکولوں میں گورنمنٹ سینٹ فزانزنس پانی سکول انار کلی، گورنمنٹ پرائمری سکول پنڈی راجپوتاں، گورنمنٹ ہائی سکول رام پورہ جلو پنڈ، منہالہ، کوٹلی پیر عبدالرحمٰن، گورنمنٹ پرائمری سکول گل بہار کالونی اور گورنمنٹ پروگریسو ہائی سکول ماڈل ٹاؤن سمیت سینکڑوں ایسے سکولوں کے ناموں کا رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے، اس طرح ہربنس پورہ، شاہدرہ، سمیت برکی، بھسین گاؤں، سندر اور مانگا منڈی کماہاں روڈ اور چونگی امرسدھو سمیت کوٹ لکھپت کے علاقہ میں واقع پرائمری اور مڈل سکولوں میں سب سے زیادہ بدبو دار اور گندے اور جراثیم زدہ پانی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح گورنمنٹ بوائز ہائی سکول لوئر مال لاہور میں بھی بچوں کو فراہم کئے جانے والے پانی کو صحت مند پانی قرار نہیں دیا گیا۔واضح رہے کہ سکولوں کے ہیڈ ماسٹروں اور ہیڈ مسٹریس کی سخت سرزنش اور جواب طلبی کے بارے میں رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے اور سکولوں کی انتظامیہ سے این ایس بی اور ایف ٹی ایف فنڈز کے مناسب استعمال نہ ہونے پر بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر تعلیم نے سکولوں میں مضر صحت پانی کی روک تھام میں ناکامی پر سخت نوٹس لینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور رپورٹ پیش ہونے کے خوف پر سیکرٹری تعلیم نے بھی نوٹس لے لیا ہے اور قائم مقام ای ڈی او تعلیم لاہور سمیت ڈی ای اوز اور ڈپٹی ڈی ای اوز اور اے ای اوز حرکت میں آ گئے ہیں جس میں ٹاؤنز کی سطح پر سپیشل سکواڈ اور چھاپہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے قائم مقام ڈی ای او سیکنڈری اور ڈی ای او کینٹ شیخ حسنات احمد نے بتایا کہ شہر کے تمام سکولوں میں مضر صحت پانی کی روک تھام کے لئے پی ڈبلیو ڈی واسا سٹی گورنمنٹ اور محکمہ تعلیم کے افسران پر مشتمل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور اکثریتی سکولوں کے دورے کئے جا چکے ہیں آج بھی دورے کئے جائیں گے بچوں کو ہر حال میں صحت مند پانی اور بالخصوص ٹھنڈے پانی کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...