بلاول کی سیاسی تربیت کون کر رہا ہے؟

بلاول کی سیاسی تربیت کون کر رہا ہے؟
بلاول کی سیاسی تربیت کون کر رہا ہے؟

  


بلاول بھٹو زرداری کی جلسوں میں تقاریر سُن کر ذہن میں پہلا سوال یہی اُبھرتا ہے کہ اُن کی سیاسی تربیت کون کر رہا ہے؟انہیں وہ لُغت کون سکھا رہا ہے، جو گھس پٹ چکی ہے اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو زیب نہیں دیتی۔ بلاول بھٹو زرداری ہماری سیاست کا مستقبل ہیں، اگر وہ بھی اس برائی کو اپنے کندھوں پر اُٹھا لیتے ہیں، جس نے ہماری سیاست کو کئی دہائیوں سے گدلا کر رکھا ہے، تو پھر یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ہماری دو تین دہائیوں پر مشتمل اگلی سیاست بھی دشنام طرازی ، کھوکھلے نعروں اور بازاری زبان کے بوجھ تلے دبی رہے گی۔ حیرت یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ویسے تو اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو کی کاپی کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لئے شاید انہوں نے کبھی اُن کی شخصیت کا مطالعہ کیا ہے اور نہ اُن کی تقریریں سنی ہیں۔ اب بھلا اُنہیں آزاد کشمیر کے جلسے میں یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود چھوٹو گینگ کا خاتمہ کرناہے۔ یہ ترکیب انہیں کس نے سکھائی اور کیوں سکھائی؟ایک طرف جمہوریت کی بات کرنا اور دوسری طرف ایک منتخب وزیراعلیٰ کو ایک جرم سے تشبیہہ دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اُن کے جو بھی مشیر ہیں، وہ بلاول بھٹو زرداری کا امیج ایک بڑھک باز سیاست دان جیسا بنانا چاہتے ہیں، حالانکہ ایسے سیاست دانوں کی پہلے ہی پاکستان میں کمی نہیں۔ بلاول بھٹو تو پاکستان کی سیاست کا نیا چہرہ ہیں، پھر نجانے کیوں انہیں ایک فرسودہ، منفی اور گھٹیا درجے کا چہرہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ پیپلزپارٹی کے پاس فی الوقت بلاول کے سوا بیچنے کو اور کچھ ہے بھی نہیں۔ پیپلزپارٹی کے بڑے بڑے جغادری لیڈر بلاول بھٹو زرداری کے بغیر چند لوگ اکٹھے نہیں کر سکتے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کو ایک اینگری ینگ مین بنا کرہی پیش کیا جائے۔ اینگری ینگ مین بھی ایسا کہ جو سیاسی مخالفین پر لفظوں کے تیر چلا رہا ہو۔ ایک منتخب وزیراعظم کو بھرے جلسے میں ’’را‘‘ کا ایجنٹ اور مودی کا یار کہنے سے شاید وقتی طور پرتو تالیاں بج جائیں اور ٹی وی چینلوں پر بریکنگ نیوز چل جائے، مگر عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں کیا تاثر جنم لے گا، اس کی شاید بلاول کے سکرپٹ لکھنے والوں کو کوئی پروا نہیں۔۔۔’’ گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو‘‘۔۔۔ کا نعرہ آج سے نصف صدی پہلے ایجاد ہوا تھا،اب یہ نعرہ بلاول کی زبان میں بھی ڈال دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو کی تقریروں سے تو لگتا ہے کہ ہماری سیاست کا کچھ بھی نہیں بدلا، بلکہ اُلٹا ہم80ء اور90ء کی سیاست کو زیادہ شدت سے دہرانے لگے ہیں۔یہ مضحکہ خیز صورتِ حال خود بلاول بھٹو زرداری نے ہر گز پیدا نہیں کی، انہیں تو جو سکرپٹ لکھ کر دیا جاتا ہے ، وہ اسے جلسوں میں پڑھ دیتے ہیں۔ ان کی تقریر بھی چونکہ رومن اُردو میں لکھی جاتی ہے، اِس لئے ان کی والدہ کی طرح ان کے بھی تلفظ کے مسائل اُٹھے ہیں، انہیں مطلب کا علم شاید نہ بھی ہوتا ہو، تاہم ان کے جوش وخروش سے تو یہی لگتا ہے کہ وہ ہر لفظ کو جوش و خروش سے بولنے کو ہی تقریر سمجھتے ہیں۔حالانکہ تقریر میں زیر کے ساتھ بم بھی ہوتے ہیں، ساری تقریر میں ایک ہی طرح کا لہجہ چنداں پسندیدہ نہیں ہوتا اس کا اندازہ انہیں جلد ہی ہو جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیربھٹو کے سیاسی وارث ہیں، مگر ان کی سیاسی تربیت سے لگتا ہے کہ ان پر صرف اپنے والد آصف علی زرداری کا اثر ہے،یا پھروہ لوگ جو ان کے اِردگرد ہیں، آصف علی زرداری کے اِس قدر زیادہ زیر اثر ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی ان کے رنگ میں رنگ دینا چاہتے ہیں۔ آصف علی زرداری جلسوں میں اپنے سیاسی مخالفین کو جس زبان میں مخاطب کرتے رہے ہیں، وہی لغت بلاول کو دی جارہی ہے، آصف علی زردای تو اپنی اِس عادت سے اس قدر مجبور تھے کہ انہوں نے فوج کوبھی نہیں بخشا اورجرنیلوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا بیان تک داغ، دیا جس کے نتیجے میں ان کی اپنی اینٹ سلامت نہ رہی اور انہیں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنا پڑی۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کوکم از کم یہ سبق تو پڑھا دیا ہے کہ وہ اپنا قبلہ صرف نواز شریف تک محدود رکھیں اورفوج یا کسی اورلیڈر پر تنقید نہ کریں، سو آج ان کا روئے سخن صرف شریف فیملی کی طرف ہے۔ وہ آئے روز وزیر اعظم نواز شریف سے استعفا مانگتے ہیں، لیکن ان کی جماعت اپوزیشن کے متحدہ اجلاس میں استعفے سے مُکر جاتی ہے، جس کے بارے میں چودھری شجاعت حسین نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں واضح انکشاف بھی کیا ہے، جس کی پیپلز پارٹی کی طرف سے ابھی تک کوئی تردید سامنے نہیں آئی۔ بلاول بھٹو زرداری پانامہ لیکس کے حوالے سے وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان سے آگے نکل جانا چاہتے ہیں، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کرپشن ایک ایسا موضوع ہے ،جس میں پیپلز پارٹی ہمیشہ سے ایک شہ سرخی کے طور پر موجود رہی ہے۔ انہیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ عوام آج بھی اس لڑائی کو نورا کشتی سمجھتے ہیں، جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں جاری ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے اس ساری مہم سے خود کو علیحدہ رکھا ہوا ہے، اور سب جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا پتہ بھی آصف علی زرداری کے بغیر نہیں ہلتا، چاہے بلاول کتنی ہی مخالفانہ تقریر یں کرتے رہیں۔ میرا آج بھی یہ پختہ یقین ہے کہ آصف علی زرداری سب کچھ کریں گے، لیکن نواز شریف کی حکومت کو نہیں گرنے دیں گے، کیونکہ موجودہ حالات میں یہ کسی بھی طرح پیپلز پارٹی کے حق میں نہیں۔

یوں بھی آصف علی زرداری سیاسی وعدوں کے پکے ہیں، وہ ماضی میں علی الاعلان یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ نواز شریف کی حکومت کے پانچ سال پورے کرائیں گے۔ اب وہ اس وعدے کو کیوں توڑیں گے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ انہوں نے بلاول بھٹو کو دھواں دھار تقریروں کے ساتھ اس لئے اُتارا ہے کہ سیاسی حالات کے پریشر ککر کی بھاپ نکلتی رہے اور وہ پھٹنے نہ پائے۔۔۔ مقصد چاہے کچھ بھی ہو، مگر میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو آعاز ہی میں جس قسم کی سیاسی لغت کا عادی بنایا جا رہا ہے، اُس کے باعث یہ امید دم توڑ جائے گی کہ مستقبل میں ہماری سیاست کے طور پر اطوار بدلیں گے یا وہ شائستگی آئے گی، جو دُنیا کی مہذب جمہوریتوں میں موجود ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے پاس اگر وقت ہو تو وہ اپنے عظیم نانا کے جلسوں کی وڈیو فلمیں دیکھیں۔ انہیں اپنے نانا کے لہجے میں جوش بھی نظر آئے گا اور خطابت کی دبنگ اور دِلوں پر اثر کرنے والی صورت بھی۔ وہ اپنے خطابات میں شخصیات کو رگیدتے نظر نہیں آئیں گے، صرف نظام کو ہدفِ تنقید بناتے ملیں گے۔ وہ عوام کو ظالمانہ نظام کے خلاف لڑنے مرنے پر تو اکساتے دکھائی دیں گے، مگر یہ کہتے نہیں پائیں جائیں گے کہ فلاں چور ہے، فلاں لٹیرا ہے، فلاں چھوٹو گینگ چلا رہا ہے یا فلاں دہشت گردوں کا ساتھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست اور سیاسی کردار پر آج بھی کوئی انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔ پاکستان کو پھر ایک ایسے ہی بڑے لیڈر کی ضرورت ہے، جو سیاست کے اعلیٰ معیارات کو سمجھتا ہو، کسی دوسرے کو گالی دے کر اپنا قد بڑھانے پر یقین نہ رکھتا ہو، جو نظام میں تبدیلی کا خواہاں ہو اور جس کے لب و لہجے میں شائستگی و برد باری ہو۔ جب بلاول سیاست میں نہیں آئے تھے، تو اُن کے بارے میں امید یہی تھی کہ وہ یورپ کے ماحول میں پلے بڑھے ہیں،انہوں نے مغرب کی معاشرت اور جمہوریت کو قریب سے دیکھا ہے، وہ پاکستانی سیاست کی اُس رو میں نہیں بہہ جائیں گے، جو ذاتیات پر مبنی ہے اور جس میں اپنی خوبیاں گنوانے کی بجائے مخالف کی خامیاں گنوانے پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، مگر بلاول بھٹو زرداری کے موجودہ طرزِ سیاست کو دیکھ کر یہ توقع پوری ہوتی نظر نہیں آئی۔ ان کی سیاسی تربیت جو بھی کر رہا ہے، وہ نہ صرف اُن کے سیاسی امیج کو نقصان پہنچا رہا ہے، بلکہ وہ پاکستانی سیاست میں نئی نسل کے آنے سے شائستگی و تہذیبی روایات کی اُس امید کو بھی ختم کر رہا ہے، ہماری نسل کے لوگ نوجوان نسل سے وابستہ کئے ہوئے ہیں۔

مزید : کالم


loading...