تہر ے قتل میں 3مرتبہ سزائے موت پانے والے مجرم کو تختہ دار پر لٹکادیا گیا

تہر ے قتل میں 3مرتبہ سزائے موت پانے والے مجرم کو تختہ دار پر لٹکادیا گیا

ملتان(کرائم رپورٹر)نیو سنٹرل جیل ملتان میں 22سال قبل ہونے والے تہرے قتل میں 3 مرتبہ سزائے موت پانے والے مجرم کو گزشتہ صبح تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔تفصیل کے مطابق 8 اکتوبر 1993ء کو مو ضح شجا عت پو ر کے اللہ وسایا نے تھا نہ سٹی جلا لپو ر پیر والہ میں مقدمہ درج کرایا کہ (بقیہ نمبر27صفحہ12پر )

مجرم غضنفر عباس کی ہمشیرہ اغواء ہو گئی جو بعد میں کراچی سے برآمدہو کر گھر واپس آگئی لیکن مجرم کو اس کے بھتیجے منظور حسین پر اغواء کاشبہ تھا جس پر اس نے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ گھر میں آکرفائرنگ کر دی جس سے اس کا بھائی اللہ دتہ ، رشتہ دار جیون مائی اور نذیر مائی جاں بحق ہو گئے جبکہ نسرین مائی اور ریاض حسین بھی زخمی ہوگئے بعد ازاں سیشن جج ملتا ن نے 12 جنوری 1997 ء میں مجرم غضنفر عباس کو 3 مرتبہ سزائے موت اور دیگر قید و جرمانوں کی سزاوں کا حکم دیا اس کے بعد 2اگست 2001ء کو ہائیکورٹ ملتان بنچ اور 15 اپریل 2002ء کو سپریم کورٹ سے سزا کے خلاف اپیلیں خارج ہونے کے بعد اب 16 مارچ کومجرم کی رحم اپیل بھی خارج ہوچکی ہے ۔جس پر مجرم کو گزشتہ رو ز ا لصبح تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ پھانسی پانے والے غضنفر عباس کے قریبی عزیزوں کا کہنا تھا کہ غضنفر عباس نے اپنی بہن کی عزت بچانے کے لیے ایسا اقدام کیا مدعیان سے صلح کی کوششیں کی گئیں تاہم وہ نہ مانے،پھانسی کے وقت جیل کے اطراف سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...