کپتان کی شاعری

کپتان کی شاعری
کپتان کی شاعری

  


میانوالی کے پٹھان کا گماں ہے کہ دنیا میں آج بھی بہشت بنانے کا فارمولا ان کے پاس موجود ہے۔غیابِ جنت کے لئے کپتان اس کے سووا اور کیا دلیل پیش کریں کہ ان کی سکیم نواز شریف کی سازشوں کا شکار ہو گئی۔ہاتھ کی ہتھیلی برابر پتلی جتنی گہرائی ہوتی ہے۔۔۔خان صاحب کے سیاسی شعور میں بھی اتنی ہی سنجیدگی ٹھہری۔عمر کے جس مرحلے پر لوگ طیش نہیں تحمل ،جوش نہیں ہوش کے لئے کمر کستے ہیں۔۔۔کپتان اس مقام پر کھولنے چلے ہیں۔ وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کاغم ان کو کھائے جا رہا ہے، بُرا ہو اس نجومی کا جس نے نہ جانے کس حساب کے ساتھ انہیں وزیراعظم بنوا ڈالا تھا۔ ماتم و نالہ سے وہ حب کلام کے بھی رسیا ہو چکے۔بولنا ،بار بار بولنا اور بے تکان بولنا انہیں مسرت عنایت کرتا ہے ۔یہ الگ بات کہ بولنے کے مقابل سنناایک ریاضت چاہتا ہے ۔

سیانے کہتے ہیں کثرت کلام سے قلب کی آنکھیں ویران اور کثرت سماع سے دل کی دنیا روشن ہو جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب ایک بار کوئی گستاخ صد ا کا عادی ہو جائے تو پھر دریدہ دہنی سے کم تر کوئی چیز اس کی نگاہوں میں جچتی نہیں۔الفاظ پر مت جایئے کہ وہ کیا کہا کئے۔۔۔ بس آپ ان کی شاعری سنا کئے ۔کون سی بات خلاف عقل ہے اور کون سا تخیل خلاف سیاست ہے ؟یہ بحث چھوڑیئے کہ کپتان ارتکاز کی اس منزل پر جا پہنچے ہیں کہ انہیں الفاظ و معنی سے کوئی سروکار نہیں ۔الفاظ و معنی کیا حقیقت تک سے وہ پشت کئے کھڑے ہیں۔بس ان کی سر مستی کی سرور آمیز کیفیت ہے اور ان کی شاعری۔خالی خولی نعرے بازیاں ہیں اور ان کی اسطوری خوش گپیاں۔

سیاست کا ظرف یہی ہے کہ بے شعور لوگوں کے زیر سایہ دشنام طرازی اور نجی تلخی پروان چڑھتی رہے؟لنکا کے دیس میں ہر آدمی باون گزا ہے تو طے کیجئے کہ زبان کتنی بڑی ہے؟پشاور کے مجمع عام میں سوشل میڈیا پر کپتان کی للکار،یلغار اور پکار کی گھن گرج کا راج تھا۔شب کی ساعتیں ٹوٹتی تھیں کہ رہ رہ کر اپنے محترم مدیر کی بات یاد آتی رہی۔کچھ باتیں دماغ میں دبے پاؤں یوں اترتی ہیں کہ پھر ان کے نقش مٹائے نہ مٹیں۔تم کیا سمجھتے ہو خان صاحب نارمل انسان ہیں؟پھر عالمانہ سا سوال داغ دیا ۔۔۔ نارملٹی اور ایب نارملٹی میں بھلا کتنا فرق ہوتا ہے؟بس بال برابر۔انہوں نے خود ہی جواب دیا اور نیوز روم سے یہ جا وہ جا۔فلک کج رفتار کی طرح کپتان کی چال بھی الٹی ٹھہری کہ وہ آگ کھاکر شعلے اگلتے ہوئے اپنے درد کا مداوا چاہتے ہیں۔زمین کے انسان کو جب نخوت و سطوت میں راحت ملنے لگے ۔۔۔تب اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ آسمان کو چھو لے۔آسمان چھونے کے شوق میں اس کے پاؤں بھی زمین سے اکھڑنے لگتے ہیں۔بس یہی خان صاحب کا المیہ ٹھہرا ۔

بھلے سے وہ خود آئے روز نواز شریف سے بد تمیز بچے کی طرح استعفا مانگتے پھریں۔۔۔مجال ہے کوئی اکرم درانی انہیں انہی کے سکوں میں ادائیگی کرے تو وہ ٹھنڈے پیٹوں ہضم کر پائیں۔اٹھتے بیٹھتے،سوتے جاگتے ہانکے پکارے وہ جاتی عمرہ کاگھیراؤ کرنے کی دھمکی دیں۔۔۔پر انہیں یہ کب گوارا ہے کہ کوئی سعد رفیق انہیں بنی گالہ کا راستہ یاد دلائے۔کسی تخیلاتی کرکٹ میں وکٹ گرانے کی وہ شاعر ی کریں۔۔۔ان کے مصرح طرح پر کوئی گرہ لگائے یاا نہی کی زمیں میں کلام موزوں کرے تو ان کے غیظ و غضب کو ہوا دینے کے لئے بس یہی کافی ہے۔مصحفی خود تو چوٹیں کرتا پھرے اگر انشا ء کی باری آئے تو پھر کیوں تلملائے؟دھرنے کے دجل سے قبل انتخابی دھاندلی کو جو اسطورہ تراشا گیا ۔۔۔اس میں انہوں نے ردیف و قافیہ کا خیال رکھے بغیر دل کھول کر شاعری کی۔ نام نہاد اور جانبدار نقادوں نے کپتان کی شاعری کی خوب خوب داددی۔وقت کے بڑے بڑے ممتاز مفتی اور اونچے اونچے قدرت اللہ شہاب نے بھی دھاندلی کے اسطورے اور خاکے میں کمال کے رنگ بھرے ۔کچھ بہروپیوں نے تو ایسے ایسے ناٹک رچائے اور سوانگ بھرے کہ جھوٹ پر سچ کا دھوکہ ہونے لگا۔وہ تو خدا خیر کرے عدالتی کمیشن کی کہ صدق و کذب اور رطب و یابس الگ الگ چھانٹ دیا۔

پانامہ لیکس یا آف شو ر کمپنیوں پر کپتان کا تازہ کلام کچھ سماعتوں میں بلاشبہ رس گھولتا ہو گا۔ملکی سیاست ،خود کپتان کا سیاسی مستقبل اور اس کے اسرار و عواقب کے مگر اثرات کیا ہوں گے؟مفادات کی سوداگری اور جذبات کی تاجری کرنے والوں کو چھوڑیئے کہ ان کا رزق اس سے وابستہ ٹھہرا۔آئے روز حکومتیں ادلتی بدلتی رہیں، تخت گرائے اور تاج اچھالے جاتے رہیں کہ ان کے گھر کا چولہا سلگتا رہے ۔کون نہیں جانتا کہ معیشت کی مضبوطی ، ملکی تعمیروترقی اور قومی تحریک و ارتقا کے لئے استحکام واستقلال درکار ہوا کئے۔انتشار واضطراب اور حتیٰ کہ انقلاب بھی اقوام و ملل کو سکون و اطمینان عطا نہیں کرتا۔ سیاست عمل کی پونچی مانگتی ہے ،کپتان کی شاعر ی نہیں۔ بھلا خیبر پختونخوا میں کون سا فلک چھم چھم موتی برسا رہا ہے کہ مرکز کے مدعیوں کے حوالے ملک بھی کر دیا جائے۔ تاریخ میں نظام سقہ ایک ہی ہو گزرا ہے کہ جس کے مچل جانے پر ہمایوں نے اسے سریرآرائے سلطنت کر دیا تھا ۔بھلا خواب او ر خواہشیں وصال یار کا سبب کب بنتی ہیں۔باالفاظ دیگر یوں جانئے کہ حقیقتوں کے راستے معجزوں کی رہنمائی میں بھلا کب کے طے ہونے لگے ہیں۔البتہ شاعری،کہانی اور قصیدہ نگاری کی بات دوسری ٹھہری کہ یہاں تو کچے گھڑے پر بھی دریا کے پار اُترنے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ یہ کچا گھڑا بھی ڈوب گیا تھا سو سیاست میں کچے گھڑے کب سے تیرنے لگے ہیں؟

مزید : کالم


loading...