پنجاب اسمبلی ، مطیع الرحمٰن نظامی کی پھانسی کیخلاف مذمتی قرار داد منظور

پنجاب اسمبلی ، مطیع الرحمٰن نظامی کی پھانسی کیخلاف مذمتی قرار داد منظور

لاہور( نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بنگلہ دیش کی جانب سے جماعت اسلا می کے امیر مطیع الرحمن نظامی کی پھانسی پر ایک مذمتی قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی اس قرار داد کے متن میں میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیشی نا م نہاد ٹربیونل کے خلاف اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورم پر سیاسی مخا لفین کی پھانسیاں رکوانے کیلئے اقدامات کرے۔جبکہ ایگریکلچراینڈ فوڈ اتھارٹی کا آرڈنینس بھی پیش کیا گیا ہے جس کے مطابق زرعی ادویات کھاد اور خوارک سے متعلقہ اشیاء و خوردونوش کے ٹیسٹ کے لئے فرانزک لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی فوڈ اتھارٹی کے ملازم کی جانب سے غلط رپورٹ دینے کے خلاف کاروائی کی جائے گی غلط رپورٹ دینے یا پھر ردو بدل کرنے پر ایک ماہ سے تین سال تک سزا جبکہ بیس ہزار سے پانچ لاکھ تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ تفصیلات کے مطابق اسمبلی میں قرار دادصوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان ‘میاں محمود الرشید اور وسیم اختر کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی،قرار داد میں مزید کہا بنگلہ دیش میں بھارتی ایماء پر پھانسیاں دی جارہی ہیں ،یہ ایوان اس واقعہ کے پر زور مذمت کرتا ہے اور شہید ہونے والے امیر مطیع الرحمن نظامی کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے،حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں نہام نہاد ٹربیونل کے ذریعے سیاسی مخالفین کو پھانسی دینے 45سال پرانے زخموں پر نمک پاشی کرنے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ انصاف اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور دوست برادر اسلامی ممالک کے تعاون سے رکوانے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ جبکہ وہاڑی کے ایم پی اے ثاقب خورشید نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ امیر مطیع الرحمن کو مطیع الرحمن شہید کا درجہ دیا جائے اور بنگلہ دیش کے سفیر کوفوری طورپر پاکستان سے نکالا جائے۔

مزید : علاقائی


loading...