پنجاب پولیس کا مورال بلند کرنے اور جرائم کے ؟خاتمہ کیلئے آئی جی مثبت اقدامات

پنجاب پولیس کا مورال بلند کرنے اور جرائم کے ؟خاتمہ کیلئے آئی جی مثبت اقدامات
 پنجاب پولیس کا مورال بلند کرنے اور جرائم کے ؟خاتمہ کیلئے آئی جی مثبت اقدامات

  


 آئی جی پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو روکنے،اغوا برائے تاوان کی وارداتوں مویشی چوری اور چوری شدہ گاڑیوں کی صوبے سے باہر ٹرانسپورٹیشن کی روک تھام اور جرائم پیشہ افراد کی محفوظ ٹھکانوں پر پہنچنے کے تمام دریائی راستوں پر 49ریورائن پولیس پوسٹوں کے لئے بھرتی کیے گئے 687کانسٹیبلز میں سے 673نے بیسک کورس پاس کرنے کے بعد پاکستان آرمی کی زیرنگرانی Combat Trainingکورسز شروع کر دئیے ہیں جس میں سے 183کانسٹیبلز پر مشتمل پہلا بیچ تین ماہ کی ٹریننگ کا عمل مکمل کر کے ڈیوٹیوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ آئی جی پولیس پنجاب کا یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے براہ راست عوام کو فائدہ ہو گا جبکہ متعدد نوجوانوں کو روزگار کا موقعہ دیکر یہ ایک نیکی کا کام کیا گیا ہے ۔مشتاق احمد سکھیرانے جب سے بطور پنجاب پولیس کے سربراہ چارج سنبھالا ہے وہ اس فورس کے مورال کو بلند کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں ۔آئی جی پولیس پنجاب کی تعیناتی کے پہلے ہی روز سانحہ ماڈل ٹاؤن پیش آیا تھا جس سے ہر کوئی پولیس کو شک کی نظروں سے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے یہ شہریوں کی حفاظت کے لیے نہیں کسی خاص مقصد کے لیے عمل میں لائی گئی ہے ۔آئی جی پولیس پنجاب کی زیر نگرانی چند روز قبل ایک اجلاس ہوا جس میں انویسٹی گیشن سسٹم کو مزید بہتر کرنے اور اس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ لیگل کیسز کو پایہ تکمیل تک پہنچانے، محکمے میں ٹرانسفر/پوسٹنگ کے سسٹم کو شفاف بنانے کے لئے کمپیوٹرائزڈ سنٹرل ٹرانسفر پالیسی کے علاوہ دفتروں میں حاضری کے لئے استعمال کیے جانے والے بائیومیٹرک سسٹم کو مزید بہتر بنانے اور اس سلسلے میں شروع کیے جانے والے I.Tبیسڈ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیاتا کہ آئی جی پنجاب براہِ راست کسی بھی آفیسر یا اہلکار کے سروس ریکارڈ کو چیک کرنے کے بعد ٹرانسفرکے احکامات جاری کر سکیں۔اس سسٹم سے سفارش کلچر کا مکمل خاتمہ بھی ممکن ہو سکے گا۔ اسی طرح لیگل ڈیپارٹمنٹ میں ایک سافٹ وےئر کے ذریعے عدالتوں میں پولیس سے متعلق تمام زیر التواء کیسز کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا کام بھی جاری ہے جس کے تحت سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور سول کورٹس میں زیر التواء مقدمات کے بارے میں بروقت Updateحاصل ہو سکیں گی جس سے قانونی کارروائی کو تیز کر کے مجرموں کو سزائیں دلانے کے عمل میں تیزی لائی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ پولیس کے افسروں اور اہلکاروں کی مختلف شکایات کا جلد ازالہ بھی ممکن بنایا جا سکے گاا ور اس کے علاوہ عدالتی احکامات پر عملدر آمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اس عمل میں تاخیری ہربے اختیار کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کو ممکن بنایا جا سکے گا۔ پنجاب پولیس میں کرپشن اور سفارش کا کلچر رواج پا جانے کی وجہ سے آئی جی پولیس پنجاب کو یہ اقدام کرنا پڑا ہے ہر کوئی شخٓص یہ بات کہنے سے گریز نہیں کرتا کہ سپاہی سے لیکر ایس پی تک سب ہی سفارش کے بل بوتے پر تعیناتی حاصل کرتے ہیں ۔آئی جی پولیس پنجاب کا یہ اقدام اس بات کی نفی کرتا ہے کہ تعیناتی سفارش یا مبینہ کرپشن کے بل بوتے پر ہوگی ۔انہوں نے نظام میں ایک ایسے سسٹم کو متعارف کروانے کی کوشش کی ہے جس سے نہ صرف فورس کے اندر ایماندار اور تجربہ کا ر افسروں کو میرٹ پر تعینات کیا جائے گا بلکہ ایسے افسروں کی بھی نشاندہی خود بخود ہی ہو جائے گی جو نکمے اور مبینہ لوٹ مار کے لیے اپنی تعیناتی کرواتے ہیں اگر اس سسٹم کا رواج شروع ہو گیا تو یقیناًپنجاب پولیس کا جہاں مورال بلند ہو گا وہاں کام کرنے والے افسروں کی عزت اور وقار کو بھی مجروح نہیں کیا جا سکے گاَ ۔پولیس میں یہ بات بھی ہر زبان زد عام ہے کہ متعدد اہلکار ملازمت کرنے کی بجائے غائب رہتے ہیں اور وہ حاضری لگوانے کے لیے وہاں پر معمور اہلکاروں سے مک مکا کر لیتے ہیں اس سسٹم کے بعد یہ شکایت بھی ختم ہو جائے گی ۔آئی جی پولیس پنجاب نے تھانہ شالیمار میں تفتیش کے دوران تشدد کے واقعات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے آئندہ اس طرح کے تمام فرسودہ اور غیر انسانی طریقوں پر پابندی لگاتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ تفتیش کے لئے جدیدطریقوں اورسافٹ طریقوں کا استعما ل کریں ۔آئی جی پولیس پنجاب نے ڈالفن فورس کی کارکردگی کو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کرنے کا حکم دیا ہے ۔اور کہا ہے کہ ان کی حاضری کو بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے یقینی بنایا جائے ۔پولیس کو جہاں بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔وہاں اگر ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ان کی حوصلہ افزائی بھی ضرور کرنی چاہیے ملک بھر میں اگر دوسرے محکموں کا پنجاب پولیس سے موازنہ کیا جائے یہاں توجزا و سزا کا عمل نظر آتا ہے مگر دیگر محکمے چاہے وہ ایجوکیشن ،واپڈا ،سوئی گیس ،صحت ،ریلوے ہوں تو ان میں پائی جانے والی خرابیاں تو اپنی جگہ موجود ہوں گی مگر شنوائی کے لیے کوئی پرسان حال نہیں ہوتا مگر پولیس میں اگر ایس ایچ او بات نہیں سنتا تو ڈی ایس پی سے لیکر آئی جی پولیس پنجاب تک سب ہی کے دروازے کھلے نظر آتے ہیں۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ پولیس اہلکار جو تھانے میں ایک صندوق کا ڈبہ لیکر بیٹھا ہے جس میں اس کے کپڑے کھانے پینے کا دیگر سامان اور سونے کے لیے ایک چارپائی تک میسر نہ ہو اسے پینے کے لیے صاف پانی نہ ملتا ہو تو اسے ایسے اہلکاروں جن کے پاس علاج معالجہ کی سہولت بھی موجود نہ ہو اور بچوں کو معیاری سکولوں میں پڑھانے کے لیے وسائل تک نہ ہوں اس فورس سے بہتر نتائج کی امید سے قبل انہیں وسائل سے مالا مال کرنا ہو گاتاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کسی کو انگلی اٹھانے کی جرات پیدا نہ ہو سکے۔

مزید : کالم


loading...