مطیع الرحمٰن کو پھانسی انتہائی افسو سناک اور جمہوری اقدار کے منافی ہے ، پاکستان

مطیع الرحمٰن کو پھانسی انتہائی افسو سناک اور جمہوری اقدار کے منافی ہے ، ...

 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ +مانٹیرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے کہا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کیساتھ روا رکھا جانے والا رویہ غیرانسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق وزیرداخلہ چودھری نثار نے بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کے اکابرین سے روا رکھے جانے والے رویے کا مسئلہ وزیر اعظم پاکستان سے اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں سے کیا جانے والا سلوک غیرانسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جماعت اسلامی کی جن شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے انکا واحد قصور 45 سال پہلے پاکستان سے وفاداری ہے۔وزیر داخلہ نے افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا اس معاملے پر خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس غیرانسانی پالیسی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ وزیر داخلہ کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور پرائم منسٹر سیکریٹریٹ کی باہمی مشاورت سے اس سلسلے میں واضح پالیسی مرتب کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ بعد ازاں وزیر داخلہ نے اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کے مشترکہ اجلاس کی صدرات کی جس میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بھی شرکت کی۔دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ محمد نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ مطیع الرحمان نظامی کو 1971ء سے پہلے کے مبینہ جرائم پر پھانسی دی گئی۔ مطیع الرحمان نظامی کا واحد قصور پاکستانی قانون اور آئین کی پاسداری تھا۔ پاکستان مطیع الرحمان نظامی کے خاندان اور ان کے چاہنے والوں سے تعزیت کرتا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں اپوزیشن رہنماؤں کو متنازع عدالتی عمل کے ذریعے پھانسی دیئے جانا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ متعدد بین الاقوامی تنظیمیں بنگلہ دیش میں حالیہ عدالتی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھا چکی ہیں۔ ملزمان کے وکلا اور گواہوں کو ہراساں کئے جانا سب کے سامنے ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ 1974 کے سہ فریقی معاہدے میں بنگلا دیشی حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ بدلہ لینے کی غرض سے عدالتی کارروائی نہیں چلائی جائیگی۔ بنگلہ دیشی حکومت سہ فریقی معاہدے کی پاسداری کرے۔

مزید : صفحہ اول


loading...