سچ بولنے کا رواج ختم ہو چکا ، حکومتی ذ مہ داروں نے بھی سچ بولنا چھوڑ دیا ، چیف جسٹس

سچ بولنے کا رواج ختم ہو چکا ، حکومتی ذ مہ داروں نے بھی سچ بولنا چھوڑ دیا ، چیف ...

 اسلام آباد (آن لائن) چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں سچ بولنے کا رواج ختم ہو چکا حکومتی ذمہ دار پہلے عدالتوں میں سچ بولتے تھے اب انہوں نے بھی سچ بولنا چھوڑ دیا کیا عدالت اس مقدمہ میں بھی ٹریبونل تشکیل دے کر گواہیاں ریکارڈ کرے ۔ چھوٹا سا کیس سننے کے لئے بٹھیں تو انڈے بچے نکل آتے ہیں ۔یہ ریمارکس انہوں نے بدھ کے روز ملک بھر میں بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران دیئے مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے سرکاری وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ دونوں صوبوں کی مقامی حکومتوں کو فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں اس پر درخواست گزار راجہ ربنواز نے فاضل عدالت کو بتایا کہ حکومتوں کی جانب سے ایک پیسہ بھی فنڈز کی مد میں جاری نہیں کیا گیا اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حکوموں کا مقامی حکومتوں بارے رویہ اتنا بے دل کیوں ہے مقامی حکومتیں تاحال فعال نہیں ہو سکی جب ایک کام کرنا ہے تو اس کو رینگ رینگ کر کیوں کیا جا رہا ۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ مقامی حکومتوں کو جو فنڈز جاری ہوئے ہیں وہ تنخواہوں کی مد میں جاری ہوئے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز جاری نہیں کئے گئے اس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں سچ بولنے کا رواج ختم ہو چکا حکومتی ذمہ دار عدالتوں میں سچ بولا کرتے تھے اب وہ بھی نہیں بولتے چھوٹا سا کیس بھی سننے بیٹھ جائیں تو انڈے بچے نکل آتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر ججز ٹی وی کی خبروں پ ر کام کریں تو پھر عدالتیں چل چکی ۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد فاضل عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے فنڈز کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے تمام فریقین سے جواب طلب کر کے مقدمہ کی سماعت جون کے پہلے ہفتہ تک ملتوی کر دی ہے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...