مطیع الرحمن نظامی کومتحدہ پاکستان کے تحفظ کی سزا دی گئی،سید منور حسن

مطیع الرحمن نظامی کومتحدہ پاکستان کے تحفظ کی سزا دی گئی،سید منور حسن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن نے کہا کہ مطیع الرحمن نظامی شہید کو اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے کے جرم کی سزا دی گئی ہے۔ان کی زندگی اور موت قابل رشک ہیں۔انہوں نے سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت حاصل کی ہے ۔بھارت نواز شیخ حسینہ واجد حکومت 1974ء کے سہہ فریقی معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے حکومت پاکستان کو اس خلاف ورزی پر اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیئے تھا جو اس نے ادا نہیں کیا۔ہمیں ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو ملک اور نظریہ پاکستان کی حفاظت کرنے والے ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز مزار قائد ،نمائش چورنگی پر امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمن نظامی شہید کی غائبانہ نماز جنازہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ،جمعیت العلمائے اسلام (ف)کے رہنما قاری عثمان ،جماعۃالدعوہ کراچی کے رہنما ڈاکٹر مزمل ہاشمی ،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما افضل خان ،متحدہ پاکستان مسلم لیگ کے رہنما خواجہ خیر الدین کے صاحبزادے خواجہ سلمان الدین ،جمعیت غرباء الحدیث کے علامہ عامر عبد اللہ ،جمعیت العلمائے اسلام (س)کے رہنما مولانا حافظ احمد علی ،مسلم الائنس کے رہنماحسین بخش اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔سید منور حسن کی امامت میں مطیع الرحمن نظامی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں ہزروں افراد نے شرکت کی۔شرکاء نے بنگلہ دیش میں بھارت نواز شیخ حسینہ واجد حکومت اور اس کی سرپرستی میں قائم نام نہاد ٹریبونل کی جانب سے اسلام اور پاکستان سے محبت کے جرم میں مطیع الرحمن نظامی سمیت دیگر رہنماؤں اور قائدین کے عدالتی قتل کی شدید مذمت کی اور ان کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔73سالہ مطیع الرحمن نظامی کو منگل کے روز ڈھاکہ میں پھانسی کی سزا دیدی گئی۔شرکاء نے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینرز اٹھائے ہوئے تھے۔جن پر یہ نعرے درج تھے "امیر جماعت اسلا می بنگلہ دیش مطیع الرحمن نظامی کی شہادت پر پوری امت مسلمہ کا سلام ،پاکستان کے حکمرانوں کا شرمناک اور افسوسناک کردار قابل مذمت ہے۔ Stop Judicial Killing in Bangladesh۔شرکاء نے قومی پرچم اور جماعت اسلامی کے جھنڈے بھی اٹھائے ہوئے تھے۔سید منور حسن نے کہا کہ مطیع الرحمن دنیا میں اپنا مشن پورا کر کے اپنے رب کی طرف چل دیے ہیں۔ان کی زندگی اور موت دونوں قابل رشک اور سعاد ت ہیں ،دنیا بھر میں اسلامی تحریکوں کو بنیاد پرستی اور انتہا پرستی کا طعنہ دیا جاتاہے لیکن حقیقت میں اسلامی تحریکوں نے پرامن اور جمہوری طریقے اختیار کیے ہیں دعوت اور تبلیغ کا راستہ اختیار کیا ہے۔غلبہ دین کی تحریک کے لیے دعوت و تبلیغ کے میدان ہی اصل میدان ہے۔جوکہ داعی اللہ کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔اسلامی تحریکوں کو حالات کے چیلنجز کو سمجھنا ہوگا اور سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا اور نئی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی۔ترکی کے صدر خراج تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس حوالے سے جرات مندی کا مظاہرہ کیا اور اپنی بات کی۔شیخ مجیب الرحمن ،اندراگاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان 1974ء میں معاہد ہوا تھا کہ جنگی بنیادوں پر مقدمات قائم نہیں کیے جائیں گے۔بنگلہ دیش کی حکومت نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔حکومت پاکستان کو اس خلاف ورزی کرنے پر بنگلہ دیش کی حکومت کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھانا چاہیئے۔اللہ تعالی ٰ مطیع الرحمن کی قربانیوں کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کے مشن اور راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ان کا پیغام ہمارے لیے یہی ہے کہ ہم سعادت کی زندگی اور شہادت کی تمنا کریں اور اسی پیغا م کو عام کریں۔ہم پورے اہل پاکستان کی طرف سے مطیع الرحمن نظامی کے اہل خانہ سے بھی تعزیت اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک پر ایسے حکمران مسلط ہیں جو نہ ملک کی حفاظت کر نے والے ہیں اور نہ نظریہ پاکستان کو تحفظ دینے والے ہیں۔وزیر اعظم نواز شریف نے اس مسئلے پر اپنی زبان سے ایک لفظ نہیں نکالا۔صرف قراردادوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ حکمرانوں کو اپنانام ملک کے غداروں میں نہیں لکھوانا چاہیے بلکہ اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔۔چیف آف آرمی اسٹاف جنر ل راحیل شریف کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنا کردار کریں۔بنگلہ دیش میں اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کو پھانسی دی جارہی ہے۔مطیع الرحمن نظامی نے پھانسی کا پھندہ چوم کر نئی تاریخ رقم کی ہے اور ایک مثا ل قائم کی ہے لیکن انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت سے معافی نہیں مانگی۔قاری عثمان نے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت نے ظلم اور سفاکیت کا مظاہرہ کیا ہے۔مطیع الرحمن نے صرف اسلام اور پاکستان سے محبت کی تھی۔اور اس محبت کے جرم میں ان کو تختہ دار پر چڑھایاگیا۔ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے پاک فوج کے ساتھ بھارت اور ملک کو دولخت کرنے والوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔حکومت پاکستان کو اپنی بزدلانہ پالیسی ترک کرنی ہوگی اور اس مسئلے کو OICاور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لے جائے۔ڈاکٹر مزمل ہاشمی نے کہا کہ آج ہم سب کادل غمگین ہے۔ہمارے ماتھے کے جھومر مطیع الرحمن نظامی اسلا م کے سر کا تاج بن کر ہم سے رخصت ہوئے ہیں۔اور آج یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اسلام پر مر مٹنے والے کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکتے۔ مولانا نظامی نے جرات اور استقامت کی داستان رقم کی ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت بہت جلد اپنے انجام سے دوچار ہوگی۔افضل خان نے کہا کہ مطیع الرحمن کی قربانی کلمہ طیبہ کی بنیاد پر دی جانے والی قربانی ہے اور یہ قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔پاکستان کی حکومت اس پر بنگلہ دیش کی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کرے اور اس معاملے کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔خواجہ خیر الدین کے صاحبزادے خواجہ سلمان الدین نے کہا کہ مطیع الرحمن نظامی نے آج ٹیپو سلطان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جام شہاد ت نوش کیا ہے اور بنگلہ دیش کی حکومت سے معافی مانگنے کو قبول نہیں کیا۔علامہ عامر عبد اللہ نے کہا کہ آج مطیع الرحمن نظامی کی شہادت پر کراچی سمیت پورے ملک کے اندر احتجاج اس بات کا اعلان ہے کہ ان سے ہمارا رشتہ قائم ہے اور دو قومی نظریہ آج بھی زندہ ہے۔مولانا حافظ احمد علی نے کہا کہ آج پاکستان سے محبت کرنے والے 73سالہ شخص کو پھانسی دی گئی ہے جو انتہائی شرمناک اور قابل مذمت فعل ہے۔بنگلہ دیش کی حکومت کواس خون کا حساب دینا ہوگا اور بہت جلد وہ انجام سے دوچار ہوگی۔حسین بخش نے کہا کہ آج مطیع الرحمن نظامی کو 1971ء میں متحدہ پاکستان کے تحفظ کی جدوجہد میں قربانیاں دینے کے جرم میں پھانسی پر چڑھایا گیا ۔بنگلہ دیش کی حکومت صرف جماعت اسلامی کے ساتھ ہی نہیں بلکہ پاکستان سے اپنے نفرت اور بغض کا مظاہرہ کررہی ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...