پہاڑی پورہ ، خاتون کا گھر مین اندھا قتل پولیس کیلئے معمہ بن گیا

پہاڑی پورہ ، خاتون کا گھر مین اندھا قتل پولیس کیلئے معمہ بن گیا

 پشاور(عمران رشید ) پہاڑی پورہ کے علاقے حسین آباد میں چار روز پہلے گھر میں اکیلی جوانسال خاتون کے قتل کا معمہ حل نہ ہو سکا، پولیس کے مطابق مجرم کوئی شواہد چھوڑ کر نہیں گئے تاہم شبہات کی بنیاد پر کچھ افراد کو شک کے دائرے میں لایا گیا ہے جبکہ مکان کرائے پر دینے والے پراپرٹی ڈیلر کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا ہے، نادیہ بی بی دختر اطلس خان کے بارے معلوم ہوا ہے کہ وہ پانچ بچوں کی ماں تھی، جو شوہر کے دوسری شادی کرنے پر حسین آباد میں دو منزلہ عمارت کی بالائی منزل پر چھ ہزار روپے ماہوار کرائے پر مقیم تھی جبکہ اس کا شوہر نادیہ بی بی کو طلاق دیئے بغیر دوسری بیوی کے ساتھ بڈھ بیر میں رہائش پذیر ہے، نادیہ کے تین بیٹے باپ کے پاس ہیں، دو بیٹیاں ماں کے پاس تھیں، جن میں سے ایک بیٹی کی شادی کرا دی گئی، جبکہ دوسری کو نانی کے گھر کے قریب مدرسے میں داخل کیا گیا ہے، مقتولہ خاوند سے علیحدگی کے بعد مکان کا کرایہ اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لئے اپنے گاؤں تاروجبہ میں خواتین کو قسطوں پر کپڑ ے فروخت کرنے کے علاوہ سلائی کا کام بھی کرتی تھی، اس کے علاوہ تاروجبہ کے رہائشی اس کے تین بھائی بھی اخراجات میں اس کی مدد کرتے تھے، مقتولہ کے بھائی سردار علی کے مطابق وقوعہ کے روز انہیں ایک رشتہ دار کا فون آیا جس نے بتایا کہ صبح سے نادیہ کا موبائل فون بند آرہا ہے جس پر اس کا والد اورگھر کے دیگر افراد نادیہ کے گھر حسین آباد پہنچے، گھر کا دروازہ باہر سے بند تھا، کھول کراندر داخل ہوئے اور نادیہ کو تلاش کرنے لگے، اچانک انکی نظر ایک کونے میں رضائیوں کے ڈھیر پر پڑی جس کے اوپر صندوق رکھا ہوا تھا، انہی رضائیوں کے نیچے لاش کو چھپایا گیا تھا، عینی شاہدین کے اندازے کے مطابق مقتولہ کو منہ اور گلے میں رسیاں ڈال کر دونوں اطراف سے کھینچتے ہوئے انتہائی بے رحمانہ انداز سے قتل کیا گیا، جس سے اسکا چہرہ بھی خراب ہوگیا تھا، گھر سے چار تولے سونا، پچیس ہزار روپے نقد اور موبائل فون بھی غائب تھا، قتل کی اس واردات کے بعد گھر کی نچلی منزل میں رہنے والا خاندان بھی خوف کے مارے گھر چھوڑ کر کہیں جا چکا ہے، مقتولہ کا ایک بھائی جو پولیس میں ملازم تھا کو دو سال قبل اسی کے دوست نے قتل کردیا تھا جس سے انکی دشمنی چلی آرہی ہے مقتولہ کے والد نے اس دشمنی کا ذکر ایف آئی آر میں بھی کیا ہے تاہم انکا کہنا ہے کہ واقعہ دشمنی کا شاخسانہ ہے یا خونی ڈکیتی؟ اس کا پتہ چلانے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے وہ پولیس سے آس لگائے بیٹھے ہیں، دوسری جانب تھانہ پہاڑی پورہ کے تفتیشی افسر ذاکر خان کے مطابق جائے وقوعہ سے کوئی ایسے شواہد نہیں ملے جن سے مجرموں کے بارے میں کچھ سراغ مل سکے، البتہ مقتولہ موبائل فون استعمال کرتی تھی، کال ڈیٹا ریکارڈ کی مدد سے چند مشکوک افراد کو شک کے دائرے میں لایا گیا ہے جبکہ مکان کرائے پر دینے والے پراپرٹی ڈیلر کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...