غیر قانونی سگریٹ سے سالانہ 24 بلین خسارے کا سامنا ہے، جواد ریاض

غیر قانونی سگریٹ سے سالانہ 24 بلین خسارے کا سامنا ہے، جواد ریاض

کراچی(اسٹاف رپورٹر) غیر قانونی سگریٹ کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ 24 بلین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ پاکستان غیر قانونی سگریٹ استعمال کرنے کے حوالے سے ایشیا میں چوتھے نمبرپر ہے۔ان خیالات کا اظہار نیلسن پاکستان کے سینئر مینجر جواد ریاض نے غیر قانونی سگریٹ کے کاروبار کے حوالے سے میڈیا انٹریکٹیو ورکشاپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ کا اہتمام سی آ رایس کمیونیکیشنز کی جانب سے کیا گیا تھا جس میں کراچی کے سینئر صحافیوں نے شرکت کی ۔ ورکشاپ کے شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والا ہر چوتھا سگریٹ غیر قانونی ہوتا ہے۔ صرف 2014 کے دوران پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق تقریباً 19.5 بلین غیر قانونی سگریٹ استعمال ہوئے۔جس میں سے 17.3 بلین یعنی 89 فیصد مقامی اور ڈیوٹی نہ دینے والے سگریٹس کی ہے جبکہ دوبلین سے زائد سگریٹس ہر سال پاکستان میں سمگل ہوکر آتے ہیں ۔اس موقع پر نیلسن کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی جس کے مطابق پاکستان میں سالانہ فروخت ہونے والے سگریٹ میں 23.7 فیصد حصہ غیر قانونی سگریٹس کا ہوتا ہے ۔ شرکاء کو مزید بتایاگیا کہ قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ مقامی غیر قانونی سگریٹس کے استعمال سے عوام کی صحت پر بھی مضر اثرات پڑ رہے ہیں۔ اس طرح متعلقہ اداروں کی جانب سے مناسب روک تھام نہ ہونے کی وجہ سے غیر قانونی سگریٹ کے استعمال میں روزبروز اضافہ ہورہاہے ۔ شرکاء سے اپنے خطاب میں سی آر ایس کمیونیکیشنز کے سی ای او انیق ظفر کا کہنا تھا کہ یہی بہترین وقت ہے جب فیصلہ سازوں کو غیر قانونی اور غیر ٹیکس ادا شدہ سگریٹ کی روک تھام کیلئے مناسب قانون سازی میں مدد دینی چاہیے تاکہ حکومت کی محصولات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

مزید : کراچی صفحہ آخر


loading...