سکھ خاتون نے 72 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ ماں بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ایسی وجہ سامنے آگئی کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

سکھ خاتون نے 72 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ ماں بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ایسی وجہ ...
سکھ خاتون نے 72 سال کی عمر میں پہلی مرتبہ ماں بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ایسی وجہ سامنے آگئی کہ جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) اولاد پیدا کرنے کا مقصد اپنی نسل بڑھانا تو ہوتا ہی ہے مگر برصغیر پاک و ہند میں اس کا مقصد نسل بڑھانے سے بڑھ کر اپنی جائیداد کا وارث پیدا کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ جس آدمی کے ہاں اولاد نہ ہو اس کے بھائی اسے جائیداد سے حصہ دینے سے ہی انکار کر دیتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ بھارتی شہر امرتسر کے باسی مہیندر سنگھ گل اور ان کی اہلیہ دلجندر کور کے ساتھ ہوا، مگر مہیندر سنگھ نے اپنے بھائیوں کو سبق سکھانے کے لیے بہرصورت اولاد پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اولاد کے لیے جدید طبی سائنس کی مدد لی اور اب وہ 79سال کی عمر میں ایک بیٹے کا باپ بن گیا ہے جسے اس کی 72سالہ بیوی نے پیدا کیا ہے۔

اس معمر جوڑے نے بچہ پیدا کرنے کے لیے”آئی وی ایف“نامی طریقہ استعمال کیا۔ اس طریقے میں ڈاکٹر مرد کا سپرم اور عورت کا بیضہ لے کر لیبارٹری میں ان کا ملاپ کرواتے ہیں اور جب اس سے ایمبریو(ابتدائی شکل کا بچہ) بن جاتا ہے تو اسے ماں کے رحم میں رکھ دیتے ہیں جہاں وہ پرورش پاتا ہے اور مقررہ وقت پر پیدا ہو جاتا ہے۔ جو خواتین عمرزیادہ ہونے یا کسی طبی مسئلے کے باعث فطری طریقے سے بچہ پیدا نہیں کر سکتیں وہ بڑی تعداد میںاس طریقے کو اپنا رہی ہیں۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق مہیندر سنگھ کے والد اتم سنگھ نے اپنی زندگی میں ہی اسے اپنی 7کروڑ 54لاکھ روپے کی جائیداد میں سے حصہ دینے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس کے کوئی اولاد نہ تھی۔ گزشتہ 40سال سے مہیندر سنگھ، اس کے باپ اور دیگر بھائیوں میں مقدمہ چل رہا تھا۔ 8سال قبل اس کے باپ کا انتقال ہو گیااور بھائی تمام جائیداد پرقابض ہوئے گئے۔ بالآخر مہیندر سنگھ نے جائیداد میں سے حصہ لینے اور مقدمے بازی سے جان چھڑانے کے لیے آئی وی ایف کے ذریعے ایک بیٹے کا باپ بن گیا۔

5 سالہ بچے کے پیٹ میں مسلسل درد، ڈاکٹروں نے آپریشن کیا تو ایسی چیز نکال لی کہ دیکھ کر والدین بھی چکراگئے، آپ بھی جانئے اور ہمیشہ احتیاط کریں

مہیندر سنگھ کا کہنا تھا کہ ”ہم 40سال سے مقدمہ لڑ رہے تھے، میرے دیگر 4بہن بھائیوں نے عدالت میں یہی موقف اپنا رکھا تھا کہ میرے چونکہ کوئی اولاد نہیں لہٰذا میں جائیداد نہیں لے سکتا۔ میں اور میری بیوی شروع سے ہی بچے کی خواہش رکھتے تھے مگر کچھ طبی پیچیدگیوں کے باعث ہمارے ہاں اولاد نہیں ہو پائی۔ہم نے بہت علاج کروایا اور اب ہم بالکل ہمت ہار چکے تھے۔ پھر ایک روز ہم نے ہریانہ میں ایک افزائش نسل کے کلینک کا اشتہار دیکھا جوآئی وی ایف کے ذریعے علاج کی سہولت دیتا تھا۔ لہٰذا ہم نے وہاں رابطہ کر لیا۔ دوسال کے علاج کے بعد آج ہم ایک صحت مند بچہ پا چکے ہیں۔“ اس کی بیوی دلجندر کور کا کہنا تھاکہ ”آخر خدا نے ہماری دعائیں سن لیں، اب میں خود کو مکمل سمجھ رہی ہوں، میں خود سے زیادہ اپنے بیٹے کا خیال رکھ رہی ہوں اور اسے پا کر میں خود کو توانائی سے بھرپور محسوس کر رہی ہوں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...