سعودی نجی شعبے میں 89 لاکھ تارکین وطن کام کررہے ہیں:وزارت محنت

سعودی نجی شعبے میں 89 لاکھ تارکین وطن کام کررہے ہیں:وزارت محنت
سعودی نجی شعبے میں 89 لاکھ تارکین وطن کام کررہے ہیں:وزارت محنت

  


جدہ (محمد اکرم اسد/بیوروچیف) وزارت محنت کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے نجی شعبے میں 89 لاکھ تارکین وطن جبکہ 18 لاکھ کے قریب سعودی شہری ملازمت کرتے ہیں۔ وزارت کی طرف سے جاری سروے کے مطابق اس وقت مشرقی ریجن کے نجی سیکٹرمیں سعودی کارکنوں کی تعداد 4 لاکھ 21 ہزار ہے جبکہ اس کے مقابلے میں تارکین کی تعداد 17 لاکھ ہے۔ ملک کے جغرافیائی اعدادوشمار کے حساب سے نجی سیکٹر میں کام کرنے والوں کے بارے میں ایک رپورٹ کے مطابق ریاض ریجن میں سعودی کارکن کی تعداد 6 لاکھ 90 ہزار ہے جبکہ غیر ملکی 33 لاکھ ملازمت کرتے ہیں۔ شمالی ریجن میں سعودیوں کی تعداد صرف 7 ہزار ہے جبکہ نجی شعبے میں کام کرنے والے تارکین کی تعداد 50 ہزار ہے۔ مکہ مکرمہ ریجن میں سعودی کارکنوں کی تعداد 4 لاکھ 6 ہزار ہے جبکہ غیر ملکیوں کی تعداد 21 لاکھ ہے۔ الباحہ میں سعودی کارکنوں کی تعداد 8 ہزار، نجران میں 18 ہزار جبکہ ان دونوں علاقوں میں غیر ملکیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 43 ہزار ہے۔ وزیر محنت نے کہا کہ سعودائزیشن کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور تعاون کیا جائے تاکہ مقرر اہداف حاصل کئے جاسکیں۔ نجی شعبے کے لئے قواعد و ضوابط مقرر کئے ہیں، جن پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔ قوانین میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ سعودیوں کے لئے مقررہ ملازمتوں میں غیر ملکیوں کو ملازمت دینا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ پہلی دفعہ خلاف ورزی پر 25ہزار ریال جرمانہ اور کمپنی کے لئے 6 ماہ کے لئے ویزوں کا اجراءبند کردیا جاتا ہے اور اگر اس کا ڈائریکٹر غیر ملکی ہوگا تو اسے ملک بدر کردیا جائے گا۔ دوسری دفعہ خلاف ورزی پر 50 ہزار ریال جرمانہ ویزوں کا اجراءدو برس کی پابندی اور اگر کمپنی کا ڈائریکٹر غیر ملکی ہوگا تو اسے 6 ماہ قید کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔ اپنے کفیلوں کے علاوہ کسی اور جگہ کام کرنا غیر قانونی ہے۔ علاوہ ازیں مقامی شہریوں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی تارکین کو ملازمت فراہم کریں۔

مزید : عرب دنیا


loading...