لاہورمیں وارڈنز کی نا اہلی ،شہرکی اہم شاہراہوں پر بد ترین ٹریفک جام ،وارڈنز ٹریفک چلانے کے بجائے سڑکوں سے غائب

لاہورمیں وارڈنز کی نا اہلی ،شہرکی اہم شاہراہوں پر بد ترین ٹریفک جام ،وارڈنز ...
لاہورمیں وارڈنز کی نا اہلی ،شہرکی اہم شاہراہوں پر بد ترین ٹریفک جام ،وارڈنز ٹریفک چلانے کے بجائے سڑکوں سے غائب

  


لا ہور (کرائم رپورٹر)صوبائی دارالحکومت لاہور میں وارڈنز کی نااہلی و عدم دلچسپی کے باعث ٹریفک کا مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کر گیا ہے۔گزشتہ روزشہر کی تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا بد ترین جام ہو گیااور لوگ گھنٹوں جام ٹریفک میں پھنسے رہے جبکہ وارڈنز ٹریفک کو چلانے کی بجائے سڑکوں سے غائب ہو گئے۔مختلف ترقیاتی کاموں اور اورنج ٹرین سسٹم کی تعمیر کی وجہ سے پہلے ہی شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔دوسری جانب تجاوزات کی وجہ سے بھی سڑکیں سکڑ گئی ہیں۔عملہ تہ بازاری ‘ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کاغذوں تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران کی ناقص حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث شہر میں ٹریفک جام رہتی ہے۔وزیر اعلی پنجاب اس صورتحال کا نوٹس لیں۔ شہریوں کی اپیل۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزشہر کی تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک کا بد ترین جام ہو گیااور لوگ گھنٹوں جام ٹریفک میں پھنسے رہے۔جام ہونے والی اس ٹریفک نے گزشتہ کئی سالوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔مال روڈ اور ریلوے اسٹیشن سے راوی پل کی طرف جانے والی ٹریفک تو شہریوں کے لیے ایک عذاب بن گئی ہے اور اس ٹریفک میں جو گھس جاتا ہے وہ کئی کئی گھنٹے اس میں پھنسا ہی رہتا ہے۔ ان علاقوں میں سفر کرنے والے روزانہ ٹریفک پولیس سمیت پنجاب حکومت کوکوستے ہیں۔ان سڑکوں پر جو حشر ہوتا ہے وہ بیان سے باہرہے۔ایسے دکھائی دیتا ہے کہ جیسے یہ شہری کسی بہت بڑی مصیبت کا شکار ہوگئے ہیں۔ایک نہیں کئی کئی گھنٹے ان راستوں سے نکلنے میں لگ جاتے ہیں۔امکان ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو ان راستوں پر شہری آپس میں الجھ پڑیں گے۔ ایک طرف تعمیراتی کاموں کے باعث روز مرہ کے معمولات بری طرح متاثر ہو رہے ہیں تو آئے روز حکومتی اقدامات اور دیگر معاملات کے خلاف احتجاجی ریلیوں نے عوام کے مسائل کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ جبکہ وارڈنز کی نااہلی و عدم دلچسپی کے باعث ٹریفک کا مسئلہ گھمبیر صورتحال اختیار کر گیا ہے۔گزشتہ روز شہر کی تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک گھنٹوں جام رہی جبکہ وارڈنز ٹریفک کو چلانے کی بجائے سڑکوں سے غائب ہو گئے۔جس سے شہر کی تمام اہم سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں جبکہ مریضوں کولے کر جانے والی ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنسی نظر آئیں۔کینال روڑ، شاہراہ قائداعظم، شارع فاطمہ جناح،راوی روڈ ،بتی چوک ،لوئر مال ،ریلوے سٹیشن،مال روڈ ،راوی پل سمیت شہر کی دیگر اہم شاہراہوں میں بد ترین ٹریفک جام رہی اورشہری گھنٹوں جام ٹریفک میں پھنسے رہے اور ٹریفک پولیس کے افسران و وارڈنز کو ان کی ناقص کاررکردگی پر کوستے رہے۔چیف ٹریفک افسر نے موقف اختیار کیا ہے کہ تجاوزات اور رانگ پارکنگ کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔اور اس حوالے سے مصروف مارکیٹوں کے تاجران سے خصوصی ملاقاتیں بھی کی جا رہی ہیں ۔ٹریفک کو رواں دواں رکھنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاہم بعض علاقوں میں ٹریفک کے جام ہونے کی شکایات موجود ہیں اس کے نظام کو بہتر نے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں ۔

مزید : لاہور


loading...