سویا بین سیڈ کی درآمد

سویا بین سیڈ کی درآمد
 سویا بین سیڈ کی درآمد

  

گزشتہ کالم میں ہم سویا بین سیڈ کی درآمد کی حوصلہ افزائی اور سویا مِیل کی درآمد کی حوصلہ شکنی کامختصر تقابلی جائزہ پیش کر چکے ہیں۔ آج اسی موضوع کا تسلسل برقرار رکھتے ہوے سویا بین سیڈ کی درآمد میں حکومتی تعاون کے دور رس قومی مفادات کا جائزہ قارئین کے پیش خدمت کریں گے ۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ سویا بین کی حیثیت سالونٹ انڈسٹری کے خام مال کی ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ خام مال کی درآمد سے نہ صرف ریاست کا زرمبادلہ کم خرچ ہوتا ہے، بلکہ متعلقہ صنعت حکومتی خزانے کو خاطر خواہ براہ راست اور بالواسطہ ٹیکس بھی ادا کرتی ہے ملکی معیشت کا پہیہ زیادہ فعال ہو جاتا ہے، زیادہ روزگار کے مواقع پیداہوتے ہیں اور نتیجتاًہم مجموعی مْلکی خوشحالی کی طرف قدم بڑھانے میں ممدد ہوتے ہیں۔

مزید براں دو اور پہلو بھی مدِنظر رکھنے ضرْوری ہیں اوّل یہ کہ جب ہم اپنی مْلکی ضرورت کے مطابق سویا میل بنانا شروع کردیں یعنی تقریباً پچیس لاکھ ٹن سالانہ تو مزید مِیل بنا کر دْنیا میں کہیں بھی برآمد کر سکتے ہیں، جس کے لئے تھوڑا سا حکو متی تعاون درکار ہو گا۔ جیسے کہ بھارتی حکومت اپنے سویا مِیل کے برآمد کنندگان کو تقریباً پانچ فی صد برآمد ی وظیفہ دیتی ہے اور ہمیں قوی بھروسہ ہے۔ اپنے محب وطن اور زیرک متعلقہ افسران سے کہ وہ ہمیں کسی بھی صْورت میں بھارتی برآمد کْنندگان سے پیچھے نہیں رہنے دیں گے ۔دوسرا بہت اہم پہلویہ ہے کہ جب ہمارا کاشتکار مشاہدہ کرے گا کہ اِس جنس کا اتنا بڑا گاہک موجود ہے تو اْس کا سویا بین کی کاشت کی طرف متوجہ اور راغب ہونا ایک فطری عمل ہوگا اور وہ وقت ہوگا۔ صحیح معنوں میں زرعی انقلاب کی شروعات کا ۔

اندازِبیاں اتنا بھی کم شوخ نہیں ہے

کہ اْتر نہ سکے ترے دِل میں میری بات

مزید :

کالم -