وہ سکول جو وزیر اعلیٰ کی توجہ کے منتظر ہیں!

وہ سکول جو وزیر اعلیٰ کی توجہ کے منتظر ہیں!
 وہ سکول جو وزیر اعلیٰ کی توجہ کے منتظر ہیں!

  

چند روز قبل سٹی ڈسٹرکٹ ہائی سکول گرین ٹاؤن لاہور میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر دل کو سکون محسوس ہوا کہ مختلف عمراور مختلف کلاسوں کے بچے ایک ہی یونیفارم پہنے رواں دواں سکول کی طرف جا رہے تھے ۔ مستقبل کے ان معماروں کی تعلیم کے لئے لگن میرے لئے جو ایک استاد ہے ،بڑی اطمینان بخش تھی۔ میں نے سکول کی اسمبلی میں شرکت کی تو اپنے زمانہ ء طالب علمی کے وہ مناظر یاد آگئے جب ہمارے استاد قاضی محمد عالم ہمیں دین کی باتیں اور پی ٹی ماسٹر محمدخان ہمیں نظم و ضبط کی تلقین کرتے تھے ۔ ان کے خوف اور ان کی تربیت نے ہمیں وقت کی پابندی اس حد تک سیکھا دی تھی کہ میں لاہور سے گجرات بھی پہلے پیریڈ میں پہنچ کر کلاس لے لیتا تھا۔اس کے باعث میرے شاگرد بھی وقت پر کالج پہنچ جاتے تھے۔ جب اسمبلی کے دوران سکول میں گردوغبار کا وسیع انبار بلکہ طوفانِ بد تمیزی نظر آیا تو حیرت ہوئی کہ اتنے سینئر اور اچھے پرنسپل اس معاملے میں کیوں غافل ہیں ۔ اس پر ان استاد سے جو ہمارے ہمراہ تھے ا س کی وجہ دریافت کی تو بات کھلی کہ اس میں سکول انتظامیہ نہیں ضلعی انتظامیہ قصور وار ہے،جو 2015ء میں اس سکول کے لئے تعمیر ہونے والے اضافی کمروں کی تعمیر کا کام مکمل کرا کر سکول انتظامیہ کے حوالے کرنے کی بجائے خاموش بیٹھی ہے، جبکہ تعمیراتی سامان کا ملبہ اور ریت و بجری کا انبار نہ صرف سکول کے ماحول کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ بچوں کو سانس کے امراض میں مبتلاء کر رہا ہے ۔ ایسے کئی بچے ہم نے خود سکول کی اسمبلی کی بجائے کلاس روم میں بیٹھے دیکھے ہیں۔

جب میں نے اپنے ہمراہی استاد سے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے سکول کے لئے یہ عمارت 2015ء میں مکمل ہو کر سکول کے حوالے ہونا تھی ، مگر ابھی تک اسے مکمل کرکے سکول انتظامیہ کے حوالے نہیں کیا جا رہا ۔ اس سلسلے میں ہم نے اعلیٰ حکام سے کئی بار اپیل کی ہے ، مگر ہماری ہر درخواست نظر انداز کردی جاتی ہے ۔ ہم حیران ہو گئے کہ صوبائی حکومت کے سابق ترجمان اور موجودہ صوبائی وزیر زعیم قادری کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح ممکن ہے؟ یہ سکول نہ صرف انتظامی بلکہ تعلیمی اعتبار سے شہر کے اچھے سکولوں میں شمار ہوتا ہے ۔ مگر اس کے ساتھ یہ تاخیری حربے سمجھ سے باہر ہیں۔ اس پر مجھے یاد آیا کہ جب میں گجرات گیا تو وہاں گورنمنٹ کالج آف کامرس کی نو تعمیر شدہ عمارت کو بھی کالج کے حوالے کرنے میں تاخیری حربے استعمال ہو رہے تھے ،اس پر میں نے اخبار میں یہ خبر لگوا دی کہ گورنر پنجاب غلام جیلانی سے اس کے افتتاح کے لئے درخواست کی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس سے اگلے روز ہی متعلقہ ٹھیکیدار اور بلڈنگ ڈویژن کے افسران نے راتوں رات اس عمارت کو کالج کی انتظامیہ کے حوالے کر دیا ،حالانکہ اس کی تعمیر میں ایسے ایسے استادی حربے اختیار کئے گئے تھے کہ ہر ماہر تعمیر سر پکڑ کر بیٹھنے پر مجبور ہو جائے۔ اس کے بعد اس کے کا معاملہ کھٹائی کی نذر ہو گیا۔ کیونکہ کوئی بھی افسر گورنر غلام جیلانی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔

اسی طرح جب مجھے الیکشن ڈیوٹی پر اجنالہ (گجرات) جانا پڑا تو دیکھا کہ وہاں مقامی سکول کی چھت پر کائی اگی ہوئی تھی اور باقی عمارت کا بھی برا حال تھا ۔ اس پر میں نے چودھری تجمل حسین کو اس کے تدارک کے لئے کہا تو انہوں نے اس مسئلے کو حل کرادیا۔ اس کے بعد مجھے نوشہرہ ورکاں کے علاقے بنگلہ کھیالی میں ایک سکول میں انتخابی ڈیو ٹی کے لئے جانا پڑا تو وہاں بھی عجیب منظر دیکھا ،لڑکیوں کے سکول کی چار دیواری اور لڑکوں کے سکول کی بجلی نہیں تھی۔ سکول کا چوکیدار بھی نہیں، تھا اور سکول کا سامان لوگوں کے گھروں میں رکھا جاتا تھا۔ اسی طرح گونمنٹ کالج آف کامرس علامہ اقبال ٹاؤن کی زمین پر چند بااثر لوگوں کی نظر تھی، جسے کالج انتظامیہ نے ناکام بنا دیا ۔ ایسے کئی واقعات ہیں جو سرکاری تعلیمی اداروں کی زبوں حالی کی داستانیں سناتے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے صوبائی وزیر زعیم قادری اس معاملے کو اپنے اثرورسوخ سے حل کراتے ہیں یااس کے لئے آئندہ کسی اور رکن صوبائی اسمبلی کو یہ کام کرنا پڑے گا۔

ہم وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے بھی گزارش کریں گے کہ وہ نہ صرف سٹی ڈسٹرکٹ سکول گرین ٹاؤن لاہور کی عمارت کی تعمیر کی کوتاہیوں کا نوٹس لیں بلکہ اس کو مکمل کرنے میں ہونے والی تاخیر پر بھی متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کریں تاکہ سکول کے بچوں کو گردوغبار کے طوفان بدتمیزی سے نجات مل سکے ا سی طرح وہ گورنمنٹ این۔ڈی اسلامیہ ہائی سکول اچھرہ کے بچوں کو سکول کے آغاز اور چھٹی کے وقت سڑک کراس کرنے کی سہولت فراہم کرنے کا بھی مناسب انتظام کرکے ننھے منے بچوں کو اس مقام پر تیزی سے گزرنے والی ٹریفک سے نجات دلائیں ۔وہ ان افراد کا بھی محاسبہ کریں، جنہوں نے سڑک کی تعمیر اور یہاں پر میٹرو بس کا روٹ بناتے وقت ان معصوم بچوں کے تحفظ کا قطعاُ خیال نہیں رکھا؟ اللہ انہیں جزادے گا اور غریب بچے انہیں دعا دیں گے۔

مزید :

کالم -