تحریک انصاف اور جیتی ہار؟ (1)

تحریک انصاف اور جیتی ہار؟ (1)
تحریک انصاف اور جیتی ہار؟ (1)

  

بظاہر عمران خان حکمران جماعت کو دیوار سے لگا بیٹھے ہیں۔ قریبی رفقاء انہیں تسلسل سے باور کروا رہے ہیں آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ نواز کا دھڑن تختہ ہوجائے گا۔مرکز میں پی ٹی آئی تخت حکمرانی پر جلوہ افروز ہوگی ، پنجاب میں نیا دربار سجے گا ، خیبر پختونخوامیں لشکری دوبارہ خیموں میں جام لنڈھائیں گے اور سندھ میں بھی اکا دکا پیامبر بوسیدہ فصیلوں میں نقب لگانے کی کوشش کریں گے۔ ویل۔۔۔ کیا واقعی ایسی سوچ زمینی حقائق کے عین مطابق ہے؟عمران خان سے قوم نے بے پناہ پیار بھی کیا اور غلط فیصلوں پر جی بھر کر کوسا بھی۔ اس کی شدید محنت نے ہمیشہ پرانی غلطیوں کو دھندلایا۔ وہ جہاں بھی گیا، پیار سمیٹا، امید کی کرن بنا ۔ سیاسی محاذ ، مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کئے ، پروپیگنڈہ اس قدر شدت سے کیا جیسے ہمالیائی تو دوں سے پھوٹتا پانی۔ اوسط درجے کی جماعت، ستر فیصد ناتجربہ کار کارکن لیکن تبدیلی کے نعرے نے ایک زمانے کو مسحور کیا۔ تاہم تبھی۔۔۔تبھی یہ سوال پوری شدتوں سے اٹھا کیا عمران خان جیتی ہوئی بازی ہار رہے ہیں؟۔

بازی کیا تھی؟ پرانے حریفوں کو ٹھکانے لگانا۔ وہ ساٹھ فیصد کامیاب بھی رہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو ابتدائی جھٹکوں میں اس قدر بے توقیر کر دیا کہ پنجاب میں عزت بچانا مشکل۔ جلسے جلوس، دھرنے اور پانامہ اسکینڈل کے فالو اپ کی صورت عمران خان متواتر بلندی پر گئے۔ اتنی بلندی ۔۔۔اتنی بلندی۔۔۔کہ وہ نیچے بکھرے کارکنوں، تنظیمات کو ہی بھلا بیٹھے۔آخر پی ٹی آئی میں مسئلہ کیا چل رہا ہے؟۔ چوہدری سرور کی صورت پنجاب کے ضلعوں، قصبوں میں اٹھان لیتی پی ٹی آئی کو پاتال سی گہرائیوں میں دھکیلنے والے کون ہیں؟۔ عمران خان کو بن بتی کے سائیکل چلانے پر کون مجبور کر رہا ہے؟۔ جہانگیر ترین ، علیم خان۔ کیا ان احباب نے عمران خان کی سوچ کو ہائی جیک کر لیا یا بنی گالہ کی نشستوں میں مستقبل کی کامیابیوں کے سرور نے پنجاب میں نمودار ہوتی تباہی کو ڈھانپ لیا۔ اگر تنظیمات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو جناب عمران خان صاحب ،چئیرمین پاکستان تحریک انصاف ،پنجاب میں بہت بڑی ہار آپ کا انتظار کر رہی ہوگی۔ قطعا یہ نہ سمجھئے گا وجہ مسلم لیگ نواز کی مقبولیت ہوگی، یہ بھی خیال نہ کیجئے گا لوگ آپ سے خفا ہو چکے ہیں اور یہ گمان بھی قریب نہ پھٹکنے دیجئے آئندہ دھاندلی ہوگی۔ ایسا کچھ بھی نہیں اپنی جیتی بازی ہارنے کے براہ راست ذمہ دار آپ اور صرف آپ خود ہوں گے۔ آپ اپنی ٹیم میں موجود کھلاڑیوں کو فرنٹ پر لانے کی بجائے دوسری ٹیموں کے’’ گھوڑوں‘‘ کے انتظار میں سونے سے بھی زیادہ قیمتی وقت گنوا رہے ہیں۔ کارکن کان لگا کر سننے کی کوشش کرتے ہیں عمران خان آج کل کہاں ہیں۔ تخت ہوا پر سوار ایک ہی بازگشت سنائی دیتی ہے۔’’بنی گالہ‘‘۔ دوسرے شہر تو اس قابل ہی نہیں رہے کہ عمران خان تنظیمات پر براہ راست توجہ دے سکیں البتہ کبھی کبھار یہ ضرور سننے میں آتاہے خان صاحب ایک’’روزہ دورے‘‘ پر لاہور تشریف لارہے ہیں۔ یہ وقت لاہور میں مستقل ڈیرے لگانے کا تھا۔ یہ ساعتیں پنجاب بھر کے طوفانی تنظیمی دورے کرنے کی تھیں۔ لیکن خان صاحب کو کمرے کی حد تک محدود کر دیا گیا۔عوامی پذیرائی، ہموار سیاسی میدان اور موافق حالات کی اس سے بڑی بے توقیر ی اور ناشکری نہیں ہوسکتی۔ مقبول لیڈرشپ کا گردونواح میں ایک دورہ علاقائی سیاست میں برسوں ڈسکس کیا جاتا ہے۔یہ دورے لوکل لیڈر شپ کو مضبوط اور ووٹر کے لئے باعث اطمینان ہوتے ہیں۔ اگر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب یا جناب سراج الحق کو عمران خان جتنی مقبولیت کا پچیس فیصد بھی نصیب ہوچکا ہوتا تو انہوں نے آرام حرام اور پنجاب کے گلی کوچوں سے اس وقت تک نہیں نکلنا تھا جب تک کلین سویپ کی صدا ہواؤں میں رقصاں نہ ہو جاتی۔

موجودہ پی ٹی آئی، ایسے بے بس لاوارث کارکن، اس قدر پھسپھسی تنظیمیں، کسی کو کوئی ہوش نہیں کون انہیں ہدایات دے گا، کس کو جوابدہی کرنا ہوگی، بس سبھی سیاسی حریف کی متوقع نا اہلی کے رقص میں دم پر دم مارے جا رہے ہیں۔راجن پور، ڈی جی خان،ملتان ، خانیوال، بہاولپور،لیہ، اوکاڑہ، ساہیوال، گجرات، جہلم سمیت تقریبا پورے پنجاب میں تنظیمات جامد، مقامی قیادتیں سر سے پاؤں تک باہمی اختلافات میں لتھڑی اور کارکن منتشر نظر آرہے ہیں۔ ذرا گوجرانوالہ پر نظر دوڑائیں۔ پرانے عہدیداران،نئے نامزد لیڈر اور نظریاتی کارکن سبھی عالم لاہوت میں جھانک رہے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے ایم پی اے، ایم این اے گلیوں محلوں میں سائے کی مانند لوگوں کے تعاقب میں اور پی ٹی آئی رہنما و کارکن تاریک شاہراؤں پر کالے شاپروں کی مانند فٹ پاتھوں سے سر ٹکرا تے۔ کہاں ہیں ایس اے حمید ،شاید کسی ٹاک شو کو دیکھتے رات گذارتے۔ کہاں ہیں علی اشرف مغل، شاید کسی سے سیاسی مشورہ کرتے۔ کہاں ہیں چوہدری محمد علی، شاید اپنے طور پارٹی کی حرارت واسطے میڈیا، فنکشنز ،کارکنوں پر روپیہ لگاتے ۔ کہاں ہیں خالد عزیز لون، شاید، عوامی رابطہ مہم سے منہ موڑ کر مرکز سے آتی مزید آہٹ سننے کے منتظر۔ کہاں ہیں فاروق عالم انصاری، شاید ممکنہ جیت بارے اعدادوشمار اکٹھے کرتے۔ سید حسن جعفری، عمران یوسف گجر، شہباز مہر، ظفر سانسی، انصر نت، عقیل ڈار، رانا نعیم الرحمان، یونس مہر سمیت ڈائی ہارڈ ورکرز کی بہت بڑی تعداد خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی ہے۔ اب ان حالات میں جبکہ ضلعی و سٹی قیادتیں گھروں میں محصور ہو چکی ہیں، کارکنوں کو متحرک کون کرے گا؟۔ عمران خان یہ کام کر سکتے تھے۔ لیکن بنی گالہ پر قابض ٹولے نے انہیں ٹریپ کرتے ہوئے کہا وہ مستقبل کے وزیراعظم ہیں، تنظیمات اور کارکنوں کو ہمارے حوالے کریں یہ چھوٹے موٹے معاملات ہم نمٹا لیں گے۔

عمران خان نے ان پر یقین کرتے ہوئے عہدے تفویض کئے۔ بس اسی دن سے تباہی شروع ہوگئی۔ پنجاب کا مرکزی علاقہ علیم خان کے سپرد ہوا، اور علیم خان نے خود کو کارکنوں سے دور کہیں بہت ہی دور چھپا لیا۔ اب ایسے حالات میں سواء معجزے کے تخت پنجاب چھیننے کی باتیں مذاق نہیں تو اور کیا ہوں گی۔ تاہم پنجاب اگر مسلم لیگ نواز کے ہاتھوں سے نکلا تو کمال عمران خان کا نہیں بلکہ ان پہاڑ جیسی غلطیوں کا ہوگا جو نواز لیگ سے سرزد ہو رہی ہیں۔ پنجاب بھر کے این اے حلقوں میں بیشتر ایم پی اے حضرات اپنے ہی ایم این ایز کے خلاف صف آرا ہو چکے ہیں۔ این اے 96 سے وفاقی وزیر برائے تجارت خرم دستگیر کے پاور پوائنٹ ایریا محلہ نورباوا کی آٹھ گلیوں میں سے آدھی گلیوں میں عامر جمیل بٹ نقب لگا چکے ہیں۔ جس دن عامر جمیل بٹ پی ٹی آئی سے ہاتھ ملا بیٹھا اس علاقے میں سیاسی اپ سیٹ منتظر ہوگا۔ اسی طرح ماڈل ٹاؤن، گرجاکھی دروازہ، جڑ محلہ، محلہ دارالسلام، نعمانیہ روڈ، کرشنا نگر سمیت کئی علاقوں میں رائے عامہ ڈانواں ڈول ہو چکی ہے۔ اگرچہ خرم دستگیر ہفتے اور اتوار کو پورا دن اپنے حلقے کا وزٹ کرتے ہیں لیکن کشمیری برادری میں سے ہی ان کے مقابلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے صغیر بٹ کی سرپرائز لانچنگ بھی ہو سکتی ہے۔ صغیر بٹ بہت بڑی تعداد میں بٹ برادری کا ووٹ تقسیم کرواسکتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے لئے بھی فیصلہ کن وقت چل رہا ہے۔ کارکن یہاں بھی نالاں نظر آرہے ہیں۔شاید کارکنوں سے سلوک کے معاملے پر مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی ایک ہی صف میں کھڑی ہو چکی ہیں۔

تحریک انصاف کا ایک دھڑا جو محنت کا سخت دشمن اور کارکنوں کی اہمیت سے نابلد ہے وہ ہر روز عمران خان کے سامنے راگ الاپتا ہے کہ’’ جناب سونامی کی کراؤڈ پلنگ جیسی قوت بدستور قائم دائم ہے اور ہم کھڑکی توڑ رش کا مرحلہ پھلانگ کر گلی کوچوں میں ہوا بنا چکے ہیں۔ مہنگائی کے تھپیڑے کھا تے لوگوں کے پاس آپ کے سوا کوئی آپشن نہیں ۔ نوجوانوں کے لئے نہ تو سرکار کے پاس روزگار ہے اور نہ ہی کاروباری مواقع۔ ان حالات میں پاکستان کے یہ رومانوی، افسانوی اور کنگال نوجوان آپ کے پیچھے نہیں بھاگیں گے تو اور کیا کریں گے‘‘۔ یوں بنی گالہ میں ایک اور دن رات میں ڈھل جاتا ہے، رات سورج کی تلاش میں تاروں سے ہمکلام ہوجاتی ہے اور عمران خان کو نرگسیت کے تالاب میں دھکا دینے والے گھروں کی راہ پکڑتے ہیں۔ حقیقیت یہ ہے ایسے تمام احباب عمران خان پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں عمران خان کو تنظیمات کے درمیان گلی محلوں میں ہونا چاہئے تھا، تنظیمی معاملات میں طاقت ،اتھارٹی اور گرج چمک دکھانی چاہئے تھی ، پرانے نئے کارکنوں سے براہ راست ٹیلی فون رابطوں میں رہنا چاہئے تھا، انہیں انتخاب لڑانے سے قبل ان کے ہونے اور اہمیت کا احساس دلانا چاہئے تھا ۔۔۔لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ کارکنوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اپنے قائدین کے رویوں سے نالاں ہوکر سائیڈ لائن پر ہو چکا ہے۔ انہیں دوبارہ مین سٹریم میں لانے کی خاطر عمران خان کو سب سے پہلے ان مرکزی عہدیداروں سے بازپرس کرنی چاہئے جو پنجاب میں’’رائی کے دانے‘‘ جیسے جماعتی اختلافات کو حل کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ دوسرا نمبر ان نامزد عہدیداران کا ہونا چاہئے جو ورکرز کنونشن، کارنر میٹنگز اور پرائمری یونٹس کے افتتاح جیسے ابتدائی سیاسی اسباق کو بھلا کر اخباری بیانات تک محدود ہوگئے ہیں۔ عمران خان نے جن عہدیداران کو نامز د کیا وہ پی ٹی آئی کو پنجاب میں مرحلہ وار سیاسی موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں ۔ نہ عمران خان کو تنظیمات تک رسائی دے رہے ہیں نہ ہی کارکنوں سے ون ٹو ون میٹنگز کا سلسلہ شروع کروایا گیا ہے۔ شاید عمران خان بھی سمجھتے ہیں کارکنوں کا مورال جلسوں کی سیاست سے بحال ہو جائے گا۔ ایسا ایک دو دن کے لئے تو ہوسکتا ہے لیکن ورکرز میں کرنٹ بھرنے کے لئے عمران خان کو خود گلیوں ، محلوں میں جانا پڑے گا۔ کسی محلے میں ناشتہ، کسی کے ہاں لنچ اور کہیں ڈنر۔ سیاسی حدت کے اس فیصلہ کن مرحلے پر بار ، بزنس کمیونٹی اور این جی اوز سے خطاب صریحا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ اب جبکہ تمام اعشاریے نشاندہی کر رہے ہیں تحریک انصاف بڑے مقابل کے طور پر سامنے آچکی ہے۔ دو متحارب حریفوں میں سے کسی ایک کی سیاسی ہوا اکھڑے گی۔ متذبذب رائے عامہ یا تو مسلم لیگ نواز کی طرف متوجہ ہوگی یا پوری کی پوری پی ٹی آئی کی جھولی میں گرے گی۔ایسے حالات میں اگر عمران خان پوری طرح چوکس نہ رہے تو’’ وہ‘‘ بھی مایوس ہوں گے جہاں مکمل پشت پناہی بارے سوچ و بچار کی جا رہی ہے۔

فرض کرتے ہیں پانامہ کیس کا فیصلہ حکومت کے خلاف آجاتا ہے اور یہ بھی فرض کرلیتے ہیں عام انتخابات کا اعلان ہو جاتا ہے۔ دونوں صورت میں کیا عمران خان دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے؟۔ اگر پی ٹی آئی کے موجودہ طرزفکر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی تباہی دیکھیں تو یہ حقیقت بھی نہیں جھٹلائی جا سکتی کہ مسلم لیگ نواز بدستور مضبوط نظر آرہی ہے۔ تاہم اگر تحریک انصاف تنظیمات کو متحرک اور نیک نام امیدوار فائنل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو معاملہ یکسر مختلف ہو جائے گا۔ تگڑے اور نیک نام امیدوار ہر جگہ موجود ہیں۔ بات ان تک رسائی کی ہے۔ عمران خان رسائی کی خاطر شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، علیم خان اور دیگر احباب کی رائے پر تکیہ کر رہے ہیں۔ یہ احباب اپنی گروپ بندیوں کو ترجیح دیتے ہوئے کمزور امیدواروں کو بھی ٹارزن کے روپ میں پیش کر رہے ہیں۔ یاد رہے اگر عمران خان نے پاکستان پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ ق یا مسلم لیگ نواز سے دھتکارے ’’بڑے ناموں‘‘ کو ٹکٹ پکڑائے تو ایک سو ایک فیصد ہار ان کا مقدر ہوگی۔ لوگ باریکیوں میں نہیں جائیں گے وہ صرف یہ کہہ کر دوبارہ مسلم لیگ نواز کو ووٹ دینے چل پڑیں گے’’اوئے چھڈو جی ایہناں بندیاں نال عمران خان نے چھنکنا تبدیل لیانی وے‘‘۔ کامیابی کا گر یہ ہوگا امیدوار اپنی جماعت کے اندر سے نکالیں۔اب کی مرتبہ انتخابات میں عام ووٹر نیک نامی کو ترجیح دے گا۔ لیکن خدشہ ہے عمران خان کو کارکنوں سے اسی لئے نہیں ملنے دیا جا رہا کہ پانامہ فیصلے کے بعد مسلم لیگ نواز میں ٹوٹ پھوٹ کا انتظار کیا جائے گا۔ نتیجے میں جیتنے والے گھوڑے سر جھکائے خودبخود عمران خان کے اصطبل میں آجائیں گے۔ اگر یہ سوچ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں سرایت کر چکی ہے تو پھر اگلے الیکشنز میں ان کا اللہ ہی حافظ۔ عمران خان بڑا خطرناک جوا کھیل رہے ہیں۔ وننگ ہارسسز کے انتظار میں اپنے پاس موجود گھوڑوں کو بھی نقاہت زدہ کر رہے ہیں۔ خدشہ ہے پانامہ کے بطن سے جنم لینے والا موقع پھر ضائع ہو جائے گا۔ یہاں یہ بھی بہت بہتر ہوگا اگر وزیر اعلی کے پی کے خٹک صاحب عمران خان کو پنجاب میں سیاسی ناکامی سے بچانے کی خاطر اپنا کردار ادا کریں۔اب کی دفعہ پنجاب میں ناکامی کا مطلب ’’اینڈ آف خان‘‘۔ اب دیکھتے ہیں عمران خان اپنی جیتی بازی کو ہارنے پر تلے رہتے ہیں یا شہروں میں ڈیرے لگا کر کارکنوں میں متحرک کرتے ہیں۔

مزید :

کالم -