آمریت اور ترقی (1)

آمریت اور ترقی (1)
 آمریت اور ترقی (1)

  

نوٹ:آج سے 250سال کم وبیش پہلے اٹلی کے ایک مصنف نے ’’ڈیلاامیڈے‘‘ نے نام سے کتاب لکھی یہ واقعہ انقلاب فرانس سے تھوڑی دیر پہلے کا ہے۔ اس وقت چونکہ پورے یورپ میں ایک طرح کی سیاسی بے چینی اور ابتری پھیلی ہوئی تھی لوگ آمرانہ اور شخصی نظام حکومت سے بیزار ہوچکے تھے۔ اس لئے صاحب کتاب کو بے پناہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کتاب کا بے شمار زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ اس کا پہلا پہلا ترجمہ 1967ء میں کیا گیا اس دور میں ایوب خان کے خلاف عوام آہستہ آہستہ بیدار ہورہے تھے اس لئے اس کتاب کی اہمیت بڑھ گئی تھی کتاب کا ٹائٹل ’’آمریت‘‘ تھا اوراس میں 10 مضامین تھے۔ باخبر قارئین کے لئے کتاب سے ’’آمریت اور ترقی‘‘ کاباب پیش خدمت ہے۔ پاکستان کے عوام مختلف ادوار میں فوجی آمریتوں کے سائے سے گزرے ہیں یہ مضمون دلچسپی سے خالی نہ ہوگا اس لئے اس کاانتخاب کیا گیا ہے۔ (امان اللہ شادیزئی)

آمریت اور ترقی:کائنات کا ہر ذرہ ہر آن متحرک ہے۔ حرکت کے دو رخ ہیں ایک بلندی کی طرف جس میں ابھار اور اٹھان پائی جاتی ہے۔ اور دوسرا نشیب کی جانب جس میں جھکاؤ اور پستی ہوتی ہے یہ قانون قدرت، جس طرح مادہ اور مادے کی مختلف شکلوں پر حاوی ہے اسی طرح ذہنی اور روحانی دنیا میں بھی کارفرما ہے اس مفہوم کو مورخین اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ’’تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے‘ اور اسی کو فلسفیوں نے یوں بیان کیا ہے ’’موت وحیات دو قدرتی مظاہر ہیں‘‘۔۔۔حرکت کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ ایک ہی رخ پر قائم رہے، بلکہ میزان حرکت کی طرح وہ ہر لحظہ بدلتی رہتی ہے، لیکن اس کے رخ کے بارے میں کوئی فیصلہ غالب رجحان کو دیکھ کر کیا جاتا ہے چنانچہ اگر کسی قوم کے افراد کی حرکت ترقی کی طرف ہوتو کہا جائے گا کہ یہ قوم زندہ ہے، لیکن اگر اس کے برخلاف اس کارجحان پستی کی طرف ہو تو فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ قوم زوال پذیر ہے اس لئے کہ قوم افراد کا مجموعہ ہوتی ہے ،جنہیں نسلی وطنی لسانی اور مذہبی رشتے بالکل اسطرح جوڑتے اور ایک دوسرے سے پیوست کرتے ہیں، جس طرح کوئی عمارت ایک ایک اینٹ کے چناؤ اور ربط سے وجود میں آتی ہے، چنانچہ قوم کے ایک حقیر سے حقیر فرد کی بلندی اور پستی افرد کے پورے مجموعہ یعنی قوم پر اسی طرح اثرانداز ہوتی ہے، جس طرح ایک حقیر مچھلی کسی عظیم الشان جہاز کے ایک پہلو پربیٹھ کر اسے کچھ نہ کچھ ضرور جھکادیتی ہے گوکہ آنکھ اس جھکاؤ کو محسوس نہیں کرسکتی۔

حقیقی ترقی جس کی محبت اور حمایت انسان کی سرشت میں ہے اولین معنی میں جسم کی ترقی ہے جو تندرستی اور مادی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کا ذریعہ ہے پھر خاندان اور قبیلہ کی ترقی ہے پھر علم اور مال ودولت کی ترقی ہے پھر اخلاق وعادات اور ذاتی صلاحیتوں کی ترقی ہے۔ان تمام ترقیوں سے بالاتر ایک اور ترقی بھی ہے جس کا تعلق انسانی روح سے ہے ہر انسان اپنے اندر واضح یا مبہم احساس رکھتا ہے کہ موجودہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے، جس میں روح اخلاقی عظمت اور اعمال حسنہ کا زینہ طے کرتے ہوئے ترقی کے اعلی ترین مدارج پر پہنچ جائے گی مذہب پرست لوگ قیامت یا آواگون کے قائل ہیں۔ ثواب کی خواہش کرتے ہیں۔ عذاب سے خوف کھاتے ہیں۔ اسی طرح بے دین اور دہریے بھی اگر عملی جزا وسزا کے نہیں تو تاریخی زندگی کے ضرور قائل ہیں ان کیبھی یہی آرزو ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اچھے لفظوں میں یادکئے جائیں۔ ان تمام ترقیوں کے لئے انسان اول سے کوشش کررہا ہے اور ابد تک کرتا رہے گا۔ اگر کسی شخص کی زندگی بسرکرنے کے انداز کو اس سے مختلف پاؤ تو سمجھ لو کہ اس کی راہ میں کوئی ایسی مضبوط رکاوٹ پیش آگئی ہے، جس نے اس کے ارادہ و اختیار کو سلب کرکے اسے ترقی کی خواہش سے محروم کردیا ہے یہ رکاوٹ کبھی فطری ہوتی ہے اور کبھی منحوس آمریت کی شکل میں راستہ روکے کھڑی ہوتی ہیں، لیکن قدرت زیادہ عرصے تک کسی کی ترقی نہیں روکتی برعکس اس کے آمریت کی رکاوٹ شدید اور دائمی ہوتی ہے وہ صرف یہی نہیں کرتی کہ ترقی کو روک دیتی ہے، بلکہ اسے شرمناک تنزل میں بدل دیتی ہے وہ انسان کو بلندی کی بجائے پستی کی طرف کھینچتی ہے اسے سربلندکرنے کے بجائے پیروں تلے روندتی اور اپنے جہنمی سنور کا ایندھن بناتی ہے۔ وہ زہریلی جونک کی طرح قوم کے جسم سے چمٹ جاتی ہے اور برابر اس کا خون چوستی ہے اور اس کی رگوں میں اپنا زہر داخل کرتی جاتی ہے حتی کہ رفتہ رفتہ قوم انسانیت کی سطح سے گرکر حیوانیت کے درجے پر پہنچ جاتی ہے جس کے بعد اسے اپنی حیوانی زندگی کے سوا کسی بات کا ہوش نہیں رہتا ہے حد تو یہ ہے کہ پھر اس کی یہ ادنیٰ زندگی بھی فراغت اور سکون سے بسر نہیں ہوتی اور آمریت کے متواتر پوشیدہ اور اعلانیہ حملوں کا نشانہ بنی رہتی ہے۔

کبھی کبھی آمریت کا زہر قاتل قوم میں اس قدر سرایت کر جاتا ہے کہ اسی کے اندر ترقی کا طبعی میلان بھی پستی کی جانب راغب ہوجاتا ہے چنانچہ اگر اسے زبردستی بھی بلندی کی طرف لے جایا جائے تو وہ اڑیل ٹٹو کی طرح آگے بڑھنے سے صاف انکار کردیتی ہے اور رفعت وبلندی کی روشنی سے اس طرح بھاگتی ہے، جس طرح چمگادڑ روشنی سے بھاگتا ہے اگر اسے زبردستی آزاد کردیا جائے تو خوشی اور خوش بختی سے ہمکنار ہونے کے بجائے بدنصیبی اور گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے ، بلکہ کبھی تو آزادی کے بعد بالکل اسی طرح مٹ جاتی ہے، جیسے بھیڑ بکری جیسے پالتو جانور کھلے چھوڑ دینے سے موت کاشکار ہوجاتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ آمریت قوم کاخون چوس کر اور موٹی ہوکر اس کا پیچھا چھوڑدے، بلکہ یہ ایک دفعہ نازل ہوجانے کے بعد ہمیشہ سایہ کی طرح اس کے ساتھ لگی رہتی ہے اور گھن کی طرح اسے کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ مٹ جائے اور اس کے ساتھ خود بھی فنا ہوجائے۔

انسانی معاملات میں ترقی و تنزلی کی حرکت کوکبھی یوں ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ ایک دائرے کی حرکت ہے جو ایک دائرے کی شکل میں آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے اور یہ اس طرح کہ انسان پیدا ہوتا ہے اور تمام مخلوقات سے سے زیادہ حرکت وادراک کا اہل ہوتا ہے، لہٰذا بتدریج ترقی شروع کرتا ہے اور نفسی اور عقلی محرکات سے آگے دھکیلتے ہیں۔ انسان کاقدم اس وقت تک مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے جب تک آگے اور پیچھے کی حرکت کی کیفیتوں میں بجلی کی مثبت اور منفی لہروں کی طرح توازن قائم رہے، لیکن جونہی فطرت (نیچر ) یامزاحمت اس پر غالب آجاتی ہے۔ فوراً اس کاقدم پیچھے کی طرف ہٹنے لگتا ہے۔ آگے بڑھنے اور ترقی کرنے میں اگر عقل نفس پر غالب رہے تو حرکت کا رخ حکمت کی طرف ہوتا ہے اور اگر نفس عقل کو زیر کرلے تو رخ گمراہی کی طرف ہوجاتا ہے رہی پیچھے ہٹنے کی صلاحیت تو اس میں اعتدال عمل کو جاری رکھنے کا باعث ہے، البتہ اس میں شدت اور بے اعتدالی مہلک ہوتی ہے۔ اور حرکت کو روک دیتی ہے۔

منحوس آمریت جو بدقسمتی سے اس وقت ہمارا موضوع بحث ہے۔ رجعت پسندی کو جنم دیتی ہے اورعقل و شعور کو جامد اور غیر متحرک بناکر رکھ دیتی ہے ،چنانچہ آمریت کے مارے ہوئے سخت بدنصیب ہوتے ہیں۔ آمریت کے اسیر بالخصوص وہ جو مفلس ہوں، سب کے سب بدنصیب ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی حرکت نہیں ہوتی ان کا شعور پست ہوتا ہے۔ ان کااحساس پست ہوتا ہے ان کا اخلاق پست ہوتا ہے۔ کسی نے انہیں پتھر کے کیڑے سے کیا ہی خوب تشبیب دی ہے، لیکن انہیں لعن طعن کرنے کے بجائے ان پر ترس کھانا چاہیے اور پتھر کی اس چٹان یعنی آمریت کو توڑنا چاہیے۔ خواہ ناخنوں سے کھرچ کھرچ ہی ایسا کرنا پڑے۔ (جاری ہے)

مزید :

کالم -