ٹیکس وصولیوں کا ہدف اور غیر ملکی قرضے

ٹیکس وصولیوں کا ہدف اور غیر ملکی قرضے

آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آؤٹ پیکیج کے لئے مذاکرات توقع سے زیادہ طول کھینچتے جا رہے ہیں، امکان تھا کہ جمعہ تک سٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا،کیونکہ مذاکرات کے لئے آئے ہوئے آئی ایم ایف کے وفد نے اسی روز رات کو واپسی کے لئے کنفرم فضائی ٹکٹ بنوا رکھے تھے، تاہم ان صبر آزما مذاکرات کی غیر معمولی طوالت کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اب بھی حکومت ِ پاکستان اور آئی ایم ایف کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان بعض امور میں اختلاف موجود ہے، جس کا مقام اتصال تلاش کیا جا رہا ہے، خصوصاً اگلے مالی سال کے بجٹ کے لئے جو ٹیکس اہداف آئی ایم ایف تجویز کر رہا ہے،حکومت ِ پاکستان کے خیال میں ان کا حصول ممکن نہیں ہو گا،اِس لئے پاکستان کے مذاکرات کاروں کو وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کروایا جائے، راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انہیں احساس ہے کہ لوگ مہنگائی کی وجہ سے پریشان ہیں،مگر قرضے اتارنے تک عوام کو مشکلات برداشت کرنا ہوں گی، بجلی، گیس کے ادارے مقروض ہو چکے تھے، قوم کرپشن اور غربت سے نجات چاہتی ہے، مایوس نہیں کریں گے،معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اگر قرضے اُترنے تک عوام کو مہنگائی برداشت کرنے کی تلقین کی گئی ہے تو اس کا مطلب ”تا تریاق از عراق آوردہ شود، مار گزیدہ مُردہ شود“ والا معاملہ ہے،کیونکہ قرضوں کا بوجھ تو اِس قدر ہے کہ برسوں بلکہ عشروں میں آسانی سے اُترتا نظر نہیں آتا اور نہ کہیں اِس امر کے آثار نظر آتے ہیں کہ پاکستان معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اِس وقت تو نظر یہی آتا ہے کہ اقتصادی ترقی کی رفتار تھم چکی ہے، سٹاک ایکسچینج ساڑھے تین سال کی کم ترین سطح پر آ چکی ہے، بجٹ خسارہ بڑھا ہوا ہے، افراطِ زر اور مہنگائی بے قابو،بلکہ بے لگام ہے، سرمایہ کاری رُک گئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی نہیں ہو رہی ہے،برآمدات بڑھنے کی امید بر نہیں آئی اور رواں مالی سال کے اختتام تک جی ڈی پی کی شرح نمو تین فیصد سے بھی کم رہنے کا امکان ہے، ٹیکس ریونیو ہدف کے قریب پہنچتا نظر نہیں آتا، گردشی قرضے بڑھ رہے ہیں، حکومت نے آٹھ ماہ کے دوران ریکارڈ قرضے لئے ہیں اس کے باوجود ماضی کے حکمرانوں کو اس سلسلے میں رگیدا جا رہا ہے، حالانکہ موجودہ حکومت کے لئے تو ماضی کے حکمران لائق ِ اتباع نہیں ہیں۔ وہ کیوں قرضے لے رہی ہے ایک بار اسد عمر نے تسلیم کیا، سابق حکمرانوں نے بھی مجبوراً قرضے لئے، ہم بھی مجبوراً لے رہے ہیں۔ اسد عمر کو وزارتِ خزانہ سے ہٹا کر اُن کی جگہ خزانے کی نگرانی ڈاکٹر حفیظ شیخ کے سپرد کی گئی وہ پہلے بھی پیپلزپارٹی کے دور میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور لُطف کی بات یہ ہے کہ اس دور کی اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کو حکومت کے وزیر مشیر ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔ حکومت نے نہیں سوچا، اگر حفیظ شیخ کی اس وقت کی پالیسیاں کوئی برگ و بار نہ لا سکی تھیں تو وہ اب کیا تیر مار لیں گے؟ ویسے وزیراعظم نے تو کھل کر اُن کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے،بلکہ ایسے ہی مزید گوہر تابدار امپورٹ کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا وزیراعظم کہا کرتے تھے کہ آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنا توکوئی مسئلہ ہی نہیں،کیونکہ اوپر اگر دیانت دار آدمی بیٹھا ہو تو لوگ خوشی خوشی ٹیکس دیتے ہیں،لیکن لگتا ہے آٹھ مہینوں ہی میں دیانتدار وزیراعظم کی یہ خوش فہمی پوری طرح دور ہو گئی ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اپنی مذاکراتی ٹیم کو یہ ہدایت کیوں کرتے کہ آئی ایم ایف سے ٹیکس وصولیوں کا ہدف کم کرانے کی کوشش کی جائے۔ آئی ایم ایف نے یہ ہدف5500ارب روپے تجویز کر رکھا ہے جو وزیراعظم کے اپنے خیالی آٹھ ہزار ارب روپے سے پھر بھی بہت کم ہے،کیا وزیراعظم سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر وہ ٹیکس ریونیو دگنا کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے تو کیا یہ خواب اب حتمی طور پر منتشر ہو چکا ہے؟ ٹیکس ریونیو کا جو ہدف آئی ایم ایف تجویز کر رہا ہے وہ حقیقی ہے یا غیر حقیقی،قابل ِ حصول ہے یا اس کا حاصل ہونا ممکنات میں سے نہیں، اس بحث میں پڑے بغیر ہمارا تو سوال صرف اتنا ہے کہ آٹھ ہزار ارب روپے ٹیکس(بلکہ اس سے بھی زیادہ) جمع کرنے کا خواب کس عالم میں اور کس حال میں دیکھا گیا، انہوں نے یہ بات کوئی ایک بار کہی ہوتی تو اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا،لیکن بار بار اُن کے اس فرمودے کو سننے کے بعد اور اب تازہ ہدایت کی روشنی میں تو صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ سابق حکومتوں کے دور میں جو ناخوب تھا وہ بتدریج خوب ہو چکا ہے اور خواب تھا جوکچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا۔

آئی ایم ایف سے جو بھی معاہدہ ہو گا اُسے پارلیمینٹ میں پیش کرنے کا حکومت نے اعلان کر رکھا ہے تاہم اگر یہ وہاں پیش نہ بھی کیا گیا تو بھی اس کے اثرات تو ہر کسی کو کھلی آنکھوں سے نظر آ ہی جائیں گے، کیونکہ اس کے بعد مہنگائی کی جو نئی لہر آئے گی اُسے بھگتنا تو عوام ہی نے ہے، بجلی کی قیمتیں تو اِس وقت بھی ناقابل ِ برداشت ہیں اور غریبوں کی آدھی سے زیادہ آمدنی تو پہلے ہی بجلی، گیس،پانی وغیرہ کے بلوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتی ہے،بچوں کے پرائیویٹ سکولوں کی بھاری فیسیں ادا کرنے کے بعد عوام کے لئے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا محال ہو چکا ہے،اب لازماً مزید مہنگائی ہو گی اور عوام چیخ پکار کریں گے اس عالم میں کون یہ بات ماننے کے لئے تیار ہو گا کہ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے، کوئی ایک مہینہ ہوتا ہے ایک غیر سنجیدہ وفاقی وزیر نے اعلان کیا تھا کہ پندرہ دن میں لاکھوں نوکریاں آنے والی ہیں۔ایک مہینہ گزر گیا پھر وزیر صاحب نے کوئی خوشخبری نہیں سنائی۔ البتہ سُنا تھا وہ اپنے ذاتی سرمائے سے تھوڑی بہت نوکریاں پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہیں تاکہ ان کی بات کا بھرم رہ سکے،لیکن اب تک ایسی بھی کوئی اطلاع نہیں آئی۔

حکومت کے وزیر مشیر اور حامی روزانہ بیان بازی کے ذریعے خوشحال مستقبل کی جو تصویر دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اس پر کوئی یقین کرنے کو کیونکر تیار ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان جن قرضوں کے خاتمے کی بات کرتے ہیں موجودہ اقتصادی حالات میں ان سے نجات پانا دیوانے کی بڑ کے سوا کچھ نہیں،88ارب ڈالر سے زیادہ کا غیر ملکی قرضہ آئی ایم ایف پیکیج کے بعد بڑھ جائے گا، جن قرضوں کے سود کی اقساط اگلے چند ماہ میں ادا کی جانی ہیں۔ وہ شاید اس قرضے سے ادا ہوں، اندرون ملک بھی قرضوں کے پرانے ریکارڈ توڑے اور نئے قائم کئے جا رہے ہیں، ایسے میں شاید اگلے کئی عشرے تک غیر ملکی قرضے نہ اُتر سکیں،کیونکہ اگر آئندہ چار چھ مہینوں میں روپیہ مزید ڈی ویلیو ہو گیا،جس کا تعین اب معاہدے کے مطابق سٹیٹ بینک نہیں ”مارکیٹ فورسز“ کریں گی تو قرضے کی رقم راتوں رات مزید بڑھ جائے گی۔معلوم نہیں ایسے قرضے اُتارنے کی کوئی منصوبہ بندی بھی ہے یا صرف اسی طرح اعلانات کئے جا رہے ہیں جیسے آٹھ ہزار ارب کا ٹیکس جمع کرنے کے نعرے لگائے اور دعوے کئے جا رہے تھے۔

مزید : رائے /اداریہ