سرکاری افسروں کا تنخواہیں بڑھانے کے لئے مظاہرہ!

سرکاری افسروں کا تنخواہیں بڑھانے کے لئے مظاہرہ!

اسلام آباد میں اعلیٰ سرکاری افسروں نے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے لئے وزارتِ خزانہ کے باہر مظاہرہ کیا،اور اپنے مطالبات کی فہرست مشیر خزانہ کو پیش کی کہ آئندہ بجٹ میں ان کی تنخواہ بڑھائی جائے، الاؤنسز میں اضافہ کیا جائے، ان افسروں نے جن میں گریڈ 17سے19 تک کے افسر شامل تھے یہ بھی کہا کہ پچاس ہزار ماہوار تنخواہ میں گذارہ نہیں ہوتا۔یہ اپنی نوعیت کا شاید پہلا مظاہرہ ہے،جو وفاق کے افسروں نے وفاقی حکومت سے مطالبات منظور کرانے کے لئے کیا،اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مہنگائی اِس قدر بڑھ چکی کہ یہ اعلیٰ افسر بھی احتجاج پر مجبور ہو گئے ہیں کہ تنخواہوں میں گذارہ مشکل ہو چکا اور جو ملازم اسی پر انحصار کرتے ہیں وہ گھریلو اخراجات پورے نہیں کر سکتے، یہ تو وہ افسر ہیں جن کی تنخواہیں پچاس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ ہیں اور ان کو مختلف نوعیت کے الاؤنس بھی ملتے ہیں، ان کے مطابق یہ بھی ناکافی ہیں، اب اگر ان اعلیٰ افسروں کا اتنی تنخواہوں اور الاؤنسوں میں گذارہ نہیں تو گریڈ 1سے5 اور گریڈ 6سے16 تک کے ملازمین کیا کرتے ہوں گے؟اسی طرح نجی اداروں کے ملازمین اور وہ مزدور اور محنت کش جو سات ہزار سے10ہزار اور زیادہ سے زیادہ 15، 20ہزار روپے ماہوار مختانہ وصول کرتے ہیں، ان کا گذارہ کس طرح ممکن ہے؟ ماضی میں بھی گرانی کے سبب یہ تفاوت پیدا ہوتا تو کہا جاتا تھا کہ اس کا حل اشیاء ضرورت کو سستا کرنا اور مہنگائی کو کم سے کم رکھنا ہے،تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا رہے گا تو بھی گذارہ نہیں ہو گا کہ کبھی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہیں نہیں بڑھائی گئیں،ان حالات میں بھی وزیراعظم نے پھر عوام کو صبر کا مشورہ دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس کے اخراجات پورے نہیں ہوں گے وہ کس طرح یہ نصیحت ہضم کر سکتا ہے، حکومت کو اس لحاظ سے توجہ دینا ہو گی۔

مزید : رائے /اداریہ