سوچ بچار

سوچ بچار
سوچ بچار

  



ثواب کیا ہے۔ جذبہ رحم کیا ہے۔ گناہ کیا ہے۔ نیکی کیا ہے۔ بدی کیا ہے۔ اچھائی کیا ہے۔ برائی کیا ہے۔ سزا کیا ہے۔ جزا کیا ہے اور سب سے بڑی بات کہ اخلاقیات کیا ہے۔

دراصل اوپر دیئے ہوئے (abstract) روّیوں سے ہی معاشرے کی تشکیل مکمل ہوتی ہے۔ یہ تمام روّئیے یونیورسل ہیں۔ کسی خاص قوم، مذہب، ملک یا گروہ پر منحصر نہیں ہیں۔ جب میَں اِن روّیوں کا تجزیہ پاکستانی (اور بھارت بھی) مسلمانوں سے کرتا ہوں تو افسوس اور قدرے مایوسی کا شکار ہو جاتا ہوں۔ آج کا مضمون اِسی سوچ بچار پر ہے۔

ٹریفک سگنلزپر بھیک مانگنے والوں کو بھیک ملتی ہے تب ہی وہ سردی،گرمی پابندیِ وقت کے ساتھ نت نئے طریقوں سے ہاتھ پھیلائے کاروں کے بند شیشوں کو کھلو الیتے ہیں اور کچھ نہ کچھ حاصل کر ہی لیتے ہیں۔ 10 کاروں میں سے دو کا روں والے بھیک ضرور دے دیتے ہیں۔ میَں نے تو موٹر سائیکل والوں کو بھی بھیک دیتے دیکھا ہے۔ چلو بھکاری کی گھنٹوں پر منحصر کوشش کو ہم ایک طرف رکھتے ہیں۔

یہ جو بھیک دینے والے ہیں وہ کس جذبے کے تحت بھیک دیتے ہیں حالانکہ اُن میں سے اکثر جانتے ہیں کہ سگنلز پر مانگنے والے 100 فیصد بھکاری پیشہ ور ہوتے ہیں۔ کیا جذبہ ئ رحم کے تحت بھیک دی جاتی ہے؟ جی نہیں۔ یہ لوگ ثواب کمانے کے لئے بھیک دیتے ہیں 5 روپے کا سکہ یا 10،20 کا نوٹ دینے سے مجھے اگر ثواب مل جائے تو یہ تو بڑا سستا سودا ہے اللہ میاں سے۔ ثواب کا لفظی مطلب ہے انعام (Reward)، خدمت، دیانتداری، ایمانداری، قانون کی پابندی اور حکومتی Tax دیئے بغیر اگر مجھے 10، 20 روپے کی خیرات دے کر اللہ سے ثواب حاصل ہو جائے یہ تو بہت ہی فائدہ مند کام ہوا۔ برِصغیر کے مسلمانوں کا اکثر حصہ اپنی معاشرتی اور دین کی اِخلاقی قدروں کو چھوڑ کر اللہ سے ثواب حاصل کرنا چاہتا ہے۔

وظیفوں کے ذریعے، پِیر وں، مخدوموں اور سجادہ نشینوں کے پاؤں کو چھو کر ثواب بھی کمانا چاہتا ہے اور مشکل کشائی بھی چاہتا ہے۔ اللہ نے قرآن میں اور ہمارے رسولؐ اللہ نے جن سماجی، تجارتی، اِخلاقی اور معاشی ہدایات کی تلقین کی ہے اُس پر عمل کرنے سے ہم لوگ کوسوں دُور ہیں۔ خیرات دینے کاعمل، جذبہِ رحم سے اُبھرتا ہے۔رحم دِلی ہمدردی کے جذبے سے پیدا ہوتی ہے، جبکہ ہمدردی کا جذبہ اَفسوس کے جذبے سے پیدا ہوتا ہے۔

ٹریفک سگنل پر خیرات دینے والا اِن جذبوں سے خالی ہوتا ہے۔ اُس کا مقصد کار کے خانوں میں جمع شدہ بے کار سِکوں کا نِکاس ہوتا ہے اور اگر اس عمل سے ثواب بھی مِل جائے تو کیا بات ہے۔ ہم مسلمان جذبہئ رحم کااِ طلاق بھی سوچ سمجھ کر نہیں کرتے۔ غلط جذبہِ رحم خرابی کا باعث بنتا ہے۔ بڑے شہروں میں لاتعداد بھکاریوں کی موجودگی کی وجہ غلط جذبہ ِرحم کے اِطلاق اور بغیر نیک کام کئے ڈھیروں ثواب کمانے کی خواہش سے ہے۔

نیکی اور بدی کا فرق سمجھ میں آتا ہے،لیکن اچھائی اور برائی کا تصور اِسلام کے نیکی اور بدی کے تصور سے مختلف ہے۔ثواب عام طور پر نیکی کے کاموں سے منسلک ہے۔ نیکی کا تعلق روحانیت (Spirtuality) سے ہے جب کہ اچھائی کا تعلق اِخلاقیات اور ہمارے سماجی روّیوں سے ہے۔ ثواب کے حصول کے لئے نیت ضروری ہے خواہ دِل ہی میں ہو، لیکن اچھائی کے لئے نیت کرنا ضروری نہیں ہے۔ ہر نیکی دنیاوی لحاظ سے اچھائی نہیں ہو سکتی۔ اگر ایک مسلمان شوہر اپنی زوجہ کو وہ درجہ نہیں دیتا جو مغربی دنیابیوی کو دیتی ہے۔ تو وہ مسلمان شوہر مغربی روائت کے مطابق اچھائی نہیں کر رہا۔

ہماری خواتین پردہ کرنے کو نیک عمل سمجھتی ہیں لیکن ”روشن خیال“ مسلمان اور مغربی دنیا اس نیک کام کی تضحیک کرتے ہیں۔ Homosexulity ہر مذہب میں بُرائی ہے اور بدی بھی ہے، لیکن دنیا کے اکثر بڑے ممالک نے اس قبیح فعل کی اِجازت دے کر، اس بُرائی کو جائز قرار دے دیا ہے۔اب یہ بُرائی کے زِمرے میں نہیں آتی۔

اسی طرح شراب نوشی ہر مذہب میں بُرائی ہے، لیکن دُنیا کے 80 فیصد ممالک میں شراب نوشی کو بُرا نہیں کہا جاتا۔اسلامی ریاست کے بنائے ہوئے بہت سے قوانین،غیر مُسلم ریاستوں میں بُرائی کے خانے میں آتے ہیں۔

مثلاً حدود کے قوانین،سر قلم کرنے کے قوانین، دیت کے قوانین۔ نیکی کا تعلق روحانیت سے ہے، لیکن ہر اچھائی روحانیت سے تعلق نہیں رکھتی،اچھائی کا تعلق معاشرتی اِخلاقیات سے جُڑا ہوا ہے۔میَں ٹریفک قوانین کی پابندی کرتا ہوں، یہ اچھائی تو ہو سکتی ہے، لیکن نیکی کے زمرے میں نہیں آئے گی۔

میَں ٹیکس کی چوری کرتا ہوں یہ بہت بڑی برائی اور جُرم ہو سکتا ہے، لیکن مذہبی حوالے سے یہ بدی نہیں کہلائے گی۔ ہمارا تاجر طبقہ جو عام طور پر مذہبی رجحانات زیادہ رکھتا ہے وہ ٹیکس چوری کو نہ گناہ سمجھتا ہے اور نہ بدی، حالانکہ یہ ہی طبقہ زکوٰۃ کی ادائیگی میں پیش پیش ہوتا ہے۔ ٹیکس کی رقم سے زیادہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔ یہ ہی حال ہمارے پٹھان بھائیوں کا ہے۔ وہ سمگلنگ کو برائی اور گناہ نہیں سمجھتے۔ وہ اسے محض تجارت سمجھتے ہیں۔ سستے داموں مالِ تجارت خریدا جاتا ہے اورمنافع کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے۔

سمگلروں کی سوچ کے مطابق وہ کوئی گناہ یا بدی نہیں کرتے۔ غیر مسلم ریاستوں کے مقابلے میں مسلمان ریاستوں کے سزا اور جزا کے فلسفے مختلف ہیں۔ مسلمان ریاستوں میں اگر اسلامی قوانین رائج ہیں تو وہاں کسی بھی جُرم کی سزا کا مقصد Retributive (انتقامی) ہو گا۔ Reformative (اصلاحی) نہیں ہوگا۔ آپ تمام اِسلامک Penal code اُٹھا کر دیکھ لیں اُس میں ناخن کے بدلے ناخن اور دانت کے بدلے دانت کا اصول کار فرما ہوگا۔ اگرچہ اسلام معاف کر دینے کو بہت قدر سے دیکھتا ہے۔ معاف کر دینا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے مطابق ہے، لیکن جب کوئی شخص ریاستی جُرم کرے گا یا نہائت ہی گھناؤنا شخصی جرم کرئے گا تو وہاں معاف کر دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔ اِسی لئے صرف قتل کے معاملے میں ہمارا دین دیت کی سہولت دیتا ہے ورنہ مسلمان ریاست میں ہر معاشرتی جرم اور گناہ قابل ِ مواخدہ ہیں۔

ہم مسلمان 99 فیصد ہر کام ثواب حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ ہم حج کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں،مزاروں اور آستانوں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں، ہمسائے کو اگر کھانا بھی بھجواتے ہیں یا بھوکے کو روٹی بھی کھلاتے ہیں تو ثواب کے لئے۔

ہم عبادات کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کا شکر ادا کرنے کو مقدم نہیں سمجھتے۔ ہم تو تمام کام ثواب، یعنی اللہ تعالیٰ سے مزید Reward حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ بادی النظر میں حکم ماننا اوراللہ تعالیٰ سے ثواب حاصل کرنا ایک ہی اَمر نظر آتا ہے، مگر اصل میں اِن دو نظریوں میں بہت فرق ہے۔ حکم ماننے میں جبر کا عنصر آجاتا ہے، جبکہ شکر کرنے میں عاجزی اور احسان مندی کا تصوّر آتا ہے۔

میری ہر نماز اللہ تعالیٰ کے شکریئے کے لئے ہوتی ہے کہ اُس نے مجھے مسلمان کے گھر پیدا کر کے مجھے پیدائش کے وقت ہی اُمت محمدی ؐ میں شامل کر دیا۔ مجھے تعلیم یافتہ ماں باپ دیئے اعلیٰ تعلیم دی۔

اعلیٰ ملازمتیں دیں۔ نیک بیوی اور بچے دیئے،خوشحالی دی، معاشرے میں عزت دی، صحت کے ساتھ عمر رسیدگی دی۔ اِنسانوں سے اور اپنے ماتحتوں سے اچھا سلوک کرنے والی طبیعت دی، محنت اور دیانت سے اپنے فرائض ِ منصبی ادا کرنے کی صلاحیت دی، اَب بتائیے کہ اِن نعمتوں کی نوازشات سے مجھ پر اپنے خالق کا شکر ادا کرنے کا فرض نہیں بنتا؟ دراصل اسلامی عبادات کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔

کہا جائے گا کہ جو لوگ عبادات ادا کرتے ہیں پھر بھی وہ اِتنے خوش نصیب نہیں ہوتے، اُن کے ہاں تنگ دستی ہوتی ہے، بیماری ہوتی ہے، جہالت اور طرح طرح کے مصائب ہوتے ہیں۔ وہ پھر بھی عبادات ادا کرتے ہیں۔ ظاہرہ طور پر اِن کم نصیبوں کے لئے صبر کرنے کا حکم ہے روحانیت پر یقین رکھنے والے ہر حال میں مطمئن رہتے ہیں۔ یہ ہی روحانیت کا سب سے بڑا انعام ہے۔

دراصل ہم مسلمانوں نے ثواب، نیکی، اچھائی، عبادات اور معاشرتی اِخلاقیات کو الگ الگ خانوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہم عبادات میں بڑی گرم جوشی کا اِظہار کرتے ہیں، لیکن معاشرتی اِخلاقیات پر اِتنا دھیان نہیں دیتے۔ہمارے عُلماء بھی عوام کو وقت کی پابندی، وعدہ کی پابندی، ٹیکسوں کی ادائیگی، بغیر ملاوٹ کے اشیائے خوردونوش، ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے بارے تلقین کرتے نظر نہیں آئیں گے۔

تبلیغی اِجتماع کریں گے ثواب سمیٹنے کے لئے۔ یہ نہیں کریں گے کہ اکبری منڈی کے حاجی دکانداروں کو ملاوٹ شدہ اشیاء کی فروخت سے روکیں۔ جب ساری قوم ثواب کے حصول کے پیچھے پڑی ہو گی تو Civil values پر کون دھیان دے گا؟

مزید : رائے /کالم