”ترقی پذیر ممالک کے تنازعات خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں“

”ترقی پذیر ممالک کے تنازعات خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں“

لاہور(پ ر)ترقی پذیر دنیا کے بڑے حصے میں ترقی و تعمیر کے ساز گار حالات پیدا ہونے کے باوجود بعض تنازعات نے خطوں میں ناصرف عوامی خوشحالی کی راہ روکی ہوئی ہے بلکہ غلبے کی سیاست کے زور پر ان متنازعات کی طوالت سے عالمی امن بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس کے باعث دہشت گردی کا دائرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ اس تشویشناک صورتحال کا تقاضہ ہے کہ دنیاکے مختلف خطوں میں امن کے علمبردار اجتماعی دانش اور دوسرے پر امن ذرائع سے عالمی امن یقینی بنانے کے لئے اپنے تعاون و اشتراک کو بڑھائیں۔ ان خیالات کا اظہاردنیا کے مختلف خطوں کے پیس سکالرز نے لاہور سینٹر فارپیس ریسرچ کے زیر اہتمام ترکی کے تھنک ٹینک ساﺅتھ ایشاء سٹریٹیجک ریسرچ سنٹر (جسام) کے اشتراک سے استنبول میں ہونے والی دوسری سالانہ "انٹرنیشنل کانفرنس آن گلوبل پیس"میںمقررین نے کیا۔ افتتاحی اجلاس میں ترک پارلیمنٹ میں پاک ترک پارلیمنٹیرین فرینڈ شپ گروپ کے چیئرمین علی شاہین نے کی اور اس کے علمی سیشنز سے امریکہ، فرانس، چین، ترکی، پاکستان، ملائشیا، آزربائیجان، بھارت، پولینڈ، سری لنکا، کوسوہ اور رومانیہ کے پیس سکالرز نے بھی شرکت کی۔

کانفرنس کی تھیم "امیرجنس آف ریجنل کواپریشن: شیپنگ پاتھ آف سٹیبلٹی اینڈ پراسیرٹی" پر اپنے مقالے پیش کئے۔، ممتاز ترک سیاست دان اور پارلیمنٹرین علی شان ے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے عالمی امن انسانیت کی فلاح اور ہرگلوبل سیٹیزن کے لئے ناگزیر ہے لیکن خطرات سے گھرا ہوا ہے اور لاکھوں معصوم شہر متنازعات ، خانہ جنگی اور دہشت گردی میں اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں۔ انہوں کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ایسے تمام علاقائی متنازعات اور دوسری وجوحات کو پوری سنجیدگی اور متحدہ کوششوں سے ایڈریس کیا جائے جو عالمی امن میں برسوں سے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ ہی رکاوٹیں دنیا میں دہشت گردی کا سبب بن رہیں ہیں۔ ناگزیر ہو گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کے ذمے دار حلقوں کی بڑی اور فوری ذمے داری بن گئی ہے کہ وہ اس تشویشناک صورتحال میں سرحدوں کے احترا، اقوام کی خودمختیاری و آزادی اور جغرافیائی سرحدوں کو نرم اور باہمی اقتصادی سرگرمیوں، سیاحت کے فروغ اور انسانی رشتوں کو مظبوط بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ ہی وجہ ہے ترک حکومت اور عوامی انٹرریجنل کاپریشن کی ناصرف مکمل تائید اور حمایت کرتے ہیں بلکہ اس کے لئے پرامن دوست ممالک سے مل کر عملا کوشاں ہیں۔آج کی کانفرنس بھی اسی حوالے سے ہے۔چار مرتبہ ترک پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے والے ترک سیاستدان ادریس گوجے نے کہا کہ جو طاقت ورممالک عالمی امن کی بات کرتے ہیں بدقسمتی سے وہ اپنی طاقت کے زور پر اپنے "قومی مفادات"کے لئے اس کی تشریح بھی خود کر رہے ہیں۔ جو متنازعات کے فیصلے بنو پارک میں ہونے چائیں وہ اب کہیں اور ہوتے ہیں پھر اسلحے کی تیاری اور فراہمی بھی ان ممالک سے جاری ہے جو دہشت گردی اور جنگوں میں استعمال ہورہا ہے۔پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے کہا امن اور ترقی کا سفر ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ آج اس کی ایک بڑی شکل انٹر ریجنل کاپریشن ہے سی پیک اس کی بڑی مثال ہے جو چین اور پاکستان کی ترقی کا ہی منصوبہ نہیں بلکہ مختلف خطوں کے ممالک جیسے ایران، افغانستان،حتٰی کہ بھارت بھی اس میں شامل ہو کر اس کا بینی فیشری بن سکتا ہے۔ عالمی امن کا ایک بڑا چیلنج ہے کہ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرنیہ متنازعات کے حل کے لئے ایک پر امن عالمی مہم کا آغاز کیا جائے اور انہیں اقوام متحدہ کی منظور قرار داد وں کے مطابق حل کیا جائے۔ کانفرنس میں نیوزی لینڈ اور سری لنکا میں دہشت گردی سے بڑے پیمانے پر جان گنوانے والے خاندانوں سے یکجہتی اور ہمداردی کے لئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ کانفرنس کے اکیڈیمک سیشن سے خطاب کر تے ہوئے پیس سکالرانٹر ریجنل کو اپریشن کو عالمی اور خطوں کے استحکام و خوشحالی کو لازم قرار دیا۔ سری لنکاکے کالج آف ڈیفنس سروسز کے کمانڈنٹ میجر جنرل کلاتوننگانے کہا کہ یہ پاکستان کا سری لنکا کو تعاون ہی تھا جس کے نتیجے میں سری لنکا میں باہر سے "برآمد"کی گئی دہشت گردی پر قابو پایاگیا تھا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1