سُپر ٹیکس لگانے اور جی ایس ٹی بڑھانے سے معیشت مزید بیٹھ جائے گی ،سراج الحق

  سُپر ٹیکس لگانے اور جی ایس ٹی بڑھانے سے معیشت مزید بیٹھ جائے گی ،سراج الحق

لاہور (آئی این پی )امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کرکے ملک کو عملاً گروی رکھنے جارہی ہے اور قومی خزانے کی چابیاں آئی ایم ایف کے حوالے کی جا رہی ہیں ۔آج ملک کی سب سے اہم وزارت آئی ایم ایف کے پٹواریوں کے ہاتھ میں ہے ۔ حکومت حقائق کی بجائے خواہشات کی بنیاد پر فیصلے کررہی ہے۔ حکومت نے آٹھ ارب ڈالر کی لمبی زنجیر عوام کے ہاتھوں میں ڈال دی ہے ۔سپر ٹیکس لگانے اور جی ایس ٹی بڑھانے سے معیشت اور بھی بیٹھ جائے گی۔جہاں نالائقی اور تکبر ایک ہوجائیں وہاں تباہی یقینی ہوتی ہے ۔قدرت کسی پر ظلم نہیں کرتی ،اللہ نے ہر انسان کو ترقی کے مساوی مواقع دیئے ہیں ،ہر انسان کے پاس 12ماہ ،چوبیس گھنٹے اور تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں لیکن کچھ اپنی نالائقی کی وجہ سے ناکام ہوجاتے ہیں اور کچھ وقت کا درست استعمال کرکے کامیابیاں سمیٹ لیتے ہیں۔حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو اب تک ایک ٹریلین روپے کا نقصان ہوچکا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کوستارہ مارکیٹ گراﺅنڈ اسلام آباد میں اسلام آبادکے شہریوں کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر اور سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب سے امیر العظیم ، نائب امیر لیاقت بلوچ اور میاں محمد اسلم نے بھی خطاب کیا ۔سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ آغاز میں حکومت کا موقف تھا کہ 10 ارب ڈالر مل جائیں تواسے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔حکومت کو سعودی عرب اور عرب امارات سے آٹھ اعشاریہ پانچ ارب ڈالر مل گئے مگر اس کے باوجود وہ آئی ایم ایف کے در پر جھک گئی ۔حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کوایک ٹریلین کا نقصان اٹھا نا پڑاہے ۔حکومت نے گزشتہ حکومتوں کی معاشی پالیسیوں کو ہی جاری رکھا ہے ،جس طرح سابقہ حکومتوں نے آئی ایم ایف کو اپنا مشکل کشا بنایا ہوا تھا اسی طرح موجودہ حکومت آئی ایم ایف کو اپنی ہر پریشانی کا حل سمجھتی ہے ۔

سراج الحق

مزید : صفحہ آخر