ورلڈ کپ سے قبل ،شاہینوں کا امتحان جاری

ورلڈ کپ سے قبل ،شاہینوں کا امتحان جاری

پاکستان کرکٹ ٹیم کے لئے ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کرنابڑا امتحان ہے ۔پاکستانی ٹیم بھرپور تیاری کے ساتھ ایونٹ میں شرکت کے لئے گئی ہوئی ہے اور اس نے کاﺅنٹی میچز میں اپنی اہلیت کو کسی حد تک ثابت بھی کیا ہے مگر اس کے باوجود ابھی اصل امتحان انگلش ٹیم کےخلاف جاری ون ڈے سیریز ہے ۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 5 ون ڈے میچوںکی سیریز کا تیسرا میچ 14 مئی ، چوتھا میچ 17 مئی ، پانچواں اور آخری ون ڈے 19مئی کو کھیلا جائے گا۔ اس سے قبل واحد ٹی ٹونٹی کرکٹ میچ میں میزبان ٹیم نے پاکستان کو 7وکٹوں سے شکست دی تھی۔ دونوں ٹیموں کے مابین اب تک کھیلے گئے ون ڈے میچوں میں میزبان ٹیم کو برتری حاصل ہے ابتک دونوں ٹیموں کے مابین82ایک روزہ میچز کھیلے گئے جس میں پاکستان نے31اور انگلینڈ نے49میچوں میں فتح حاصل کی جبکہ2میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوئے۔انگلش سرزمین پر دونوں ٹیمیں 42بار مقابل ہوئیں،گرین شرٹس15میں کامیاب ہوئے،26میں میزبان ٹیم نے برتری ثابت کردی،ایک میچ بے نتیجہ رہا، دونوں ملکوں کے مابین آخری باہمی سیریز اگست، ستمبر 2016میں کھیلی گئی،انگلینڈ نے ابتدائی تینوں میچز جیتے۔جبکہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں بھی پاکستان ٹیم میں تجربات کا سلسلہ جاری ۔شاداب خان کا خلا پر کرنے کے لیے محمد نواز کا نام بھی زیر غور آگیا، ورلڈ کپ سے قبل اپنے اسکواڈ کو متوازن بنانے کے خواہاں پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں اہم فیصلے کرنا ہیں، خطرناک وائرس کا شکار شاداب خان زیر علاج اور ان کی اسکواڈ میں شمولیت کے حوالے سے یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا، متبادل کے طور پر یاسر شاہ اس وقت انگلینڈ میں اسکواڈ کے ہمراہ ہیں لیکن محدود اوورز کی کرکٹ میں ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان موجود ہے۔انگلینڈ کے خلاف میچز میں آزمائش پر پورا نہ اتر سکے تو متبادل کے طور پر محمد نواز کو ورلڈکپ میں شرکت کا پروانہ جاری ہوسکتا ہے، آل راونڈر پی ایس ایل میں اچھی فارم میں نظر آئے تھے، بیٹنگ میں بھی یاسر شاہ سے بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی سیریز میں پاکستان کو محمد عامر اور آصف علی کے حوالے سے بھی فیصلے کرنا ہیں، دونوں ورلڈ کپ کے 15 رکنی اسکواڈ میں شامل نہیں، آصف علی کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ٹیم میں موجود پاور ہٹر کا خلا پر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آل رانڈر محمد حفیظ تاحال میچ فٹنس حاصل نہیں کر پائے، 2 ماہ کے قریب کرکٹ کے میدانوں سے دوری کے بعد فوری طور پر فارم اور فٹنس ثابت کرنا ان کے لیے بہت بڑا چیلنج ہوگا، محمد حفیظ ناکام رہے تو ٹیم کمبی نیشن بہتر بنانے کے لیے مینجمنٹ کو نئے سرے سے پلاننگ کرنا ہوگی۔جبکہسابق ٹیسٹ کرکٹر اور ڈائریکٹر اکیڈمیز مدثر نذر نے فاسٹ بولر محمد عامر کو ورلڈ کپ کیلئے ضروری قرار دےدیا۔ اس حوالے سے مدثر نذر کا کہنا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ محمد عامر کو ورلڈ کپ ٹیم میں ہونا چاہیے، وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں وکٹیں لےکر فارم میں آئیں سخت محنت کریں کیونکہ محمد عامر تجربہ کار ہیں ان کے لیے ورلڈ کپ کھیلنا بہت ضروری ہے۔مدثر نذر نے کہا کہ پاکستان ٹیم 1982ءسے لےکر اب تک انگلینڈ میں اچھا پرفارم کرتی آرہی ہے، چیمپیئنز ٹرافی میں آغاز اچھا نہیں تھا لیکن پھر بھی پاکستان ٹیم چمپئن بنی۔انہوں نے شاداب خان سے متعلق بھی امید ظاہر کی اور کہا کہ وہ ورلڈ کپ کھیلیں گے کیونکہ اکیڈمی میں سب ان کے بارے میں بہت مثبت ہیں۔ جبکہورلڈکپ سے قبل گرین شرٹس کی کارکردگی میں عدم تسلسل کا خوف مکی آرتھرکو ستانے لگا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کہاکہ2سال قبل انگلینڈ میں ہی چیمپئنز ٹرافی فتح کی یادیں آج بھی تازہ ہیں،گرین شرٹس نے شاندار انداز میں مشن مکمل کیا،وہ پاکستان کرکٹ کے حیران کن 3ہفتے تھے،توقعات کے برعکس ہم ایک مضبوط ٹیم بن کر ابھرے،اس کے بعد بھی مسلسل مزید استحکام کیلیے کام کیا ہے۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ میری سب سے بڑی تشویش کارکردگی میں تسلسل کے حوالے سے ہے۔ نوجوان ٹیموں میں اس طرح کے مسائل ہوتے ہیں،ہم چیمپئنز ٹرافی میں درست ٹریک کی جانب گامزن ہوئے،ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی غیر معمولی رہی،مضبوط حریفوں کیخلاف مشکل کرکٹ میں بھی تاثر چھوڑا،آسٹریلیا کیخلاف سیریز میں 8اہم کھلاڑیوں کو آرام دیا اور بی ٹیم کے ساتھ کھیلے جس کی سخت ضرورت بھی تھی۔انہوں نے کہا کہ مسلسل کرکٹ کی وجہ سے جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے بھی ورلڈکپ سے قبل فٹنس مسائل سامنے آئے ہیں،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینگروز کیخلاف ہوم سیریز میں کھلاڑیوں کو آرام دینے کا ہمارا فیصلہ غلط نہیں تھا،ہمارا مقصد تھا کہ ورلڈکپ میں تازہ دم،سپر فٹ، مضبوط اور مستعد کھلاڑیوں پر مشتمل اسکواڈ کے ساتھ میدان میں اتریں،ویسٹ انڈیز کیخلاف میچ سے اپنی مہم کا آغاز کریں تو کوئی مسائل نہ ہوں۔مکی آرتھر نے کہا کہ گرین شرٹس کی بیٹنگ اور بولنگ میں مہارت بہترین لیکن فیلڈنگ اور فٹنس پر کام کرنے اوربہتری لانے کی ضرورت تھی، فیلڈرز نے کئی بار جہاں ایک رن بنتا تھا2دیے، یا2کے بجائے3رنز بن گئے،مجموعی طور پر ہر اننگز میں 20سے 30رنز زیادہ بنے جس کا نتائج پر بھی اثر پڑا، ہم نے فٹنس میں بہتری کیلیے کام کیا، اس وقت ہمارے ڈریسنگ روم میں چند کھلاڑی جونٹی رہوڈز تو نہیں لیکن سپر فٹ اور اچھے فیلڈرز ضرور ہیں، 2 سال کی محنت کے ثمرات نظر آنے لگے ہیں۔انھوں نے کہا کہ امید ہے کہ محمد عامر اپنی اصل فارم میں واپس آجائیں گے،چیمپئنز ٹرافی کے بعد پیسر نے رنز تو زیادہ نہیں دیے، اکانومی ریٹ 4.7برا نہیں،وہ حیران کن مہارت رکھنے والے بولر ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ محمد عامر تسلسل کے ساتھ وکٹیں حاصل کریں،کسی بھی حریف کو محدود رکھنے کیلیے وکٹوں کا حصول ضروری ہے،دوسری جانب ہمیں حیران کن ٹیلنٹ میسر آیا ہے، 19سال عمر کے شاہین شاہ آفریدی اور محمد حسنین کو عالمی معیار کی بولنگ کرتے دیکھنا بڑا ہی خوشگوار تجربہ ہوتا ہے،دونوں طویل عرصے تک پاکستان کرکٹ کی خدمت کریں گے۔مکی آرتھر نے کہا کہ پی ایس ایل نوجوان کرکٹرز کو سخت مقابلوں اور مشکل صورتحال میں ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ہنر سکھاتی اور ڈومیسٹک کرکٹ سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے عالمی معیار کی کرکٹ کھیلنے کا موقع ملتا ہے،قومی ٹیموں کیلیے اسٹارز دبا سے بھرپور میچز میں ہی تیار کیے جا سکتے ہیں۔جبکہ دوسری جانب پی سی بی نے انگلش کرکٹ بورڈ کو2021ء میں شیڈول سیریز پاکستان میں ہی کھیلنے کا پیغام دیدیا۔پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی آہستہ آہستہ واپسی ہونے لگی ہے، رواں برس پی ایس ایل کے8میچز سے پی سی بی کا اعتماد بڑھ گیا اور اب اس نے دیگر ٹیموں کو بھی مدعو کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ اگلے سال ایم سی سی سکواڈ کو بھی دورے پر بلانے کا ارادہ ہے۔ لندن میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کلب کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ پاکستان میں اب سکیورٹی صورتحال پہلے سے کافی بہتر ہے، آئندہ سال تک مزید فرق آئےگا لہذا اپنی ٹیم بھیجیں، اس سے ہمیں بڑے ممالک کے سکیورٹی خدشات بھی دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے قبل احسان مانی کی انگلش کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ٹام ہیریسن سے بھی اہم میٹنگ ہوئی، پاکستانی بورڈ کے سربراہ نے ان سے2021ء میں شیڈول سیریز کے میچز پاکستان میں ہی کھیلنے کا کہا ، البتہ ہیریسن نے کسی وعدے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھایا جائےگا۔ احسان مانی اپنے دورئہ انگلینڈ میں ملاقاتوں سے بہت خوش تھے تاہم لاہور میں دھماکے سے ملک میںکرکٹ کی واپسی کو دھچکا لگا ہے،ایسے اکادکا واقعات ہی غیرملکی ٹیموں کو دورے سے روک دیتے ہیں، البتہ چیئرمین کو امید ہے کہ مجوزہ ٹورز تک حالات میں بہتری آجائےگی۔ پاکستان نے 2009 ء سے اپنی سرزمین پر کسی ٹیسٹ کی میزبانی نہیں کی،اس وقت3 مارچ کو لاہور میں دہشت گردوں نے سری لنکن ٹیم پر حملہ کر دیا تھا جس کے بعد سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے، طویل عرصے یو اے ای میں ہوم میچز کے بعد 2015ءمیں زمبابوے نے 2 ٹی ٹونٹی اور3 ون ڈے میچز کیلئے پاکستان کا دورہ کیا، ستمبر 2017 ءمیں ورلڈ الیون 3 ٹی 20 اور اکتوبر میں سری لنکن ٹیم ایک ٹی ٹونٹی کھیلنے لاہور آئی۔ویسٹ انڈیز نے گزشتہ برس اپریل میں کراچی میں تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلے، پی ایس ایل میچز کا بھی انعقاد ہوا، رواں برس تو8میچز کراچی میں کھیلے گئے،انکے پرامن انداز میں انعقاد نے اب مزید مقابلوں کی راہ ہموار کر دی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1