بلوچستان اسمبلی میں شیرخوار بچہ ساتھ لانے  پر خاتون رکن سے ہتک آمیز سلوک 

 بلوچستان اسمبلی میں شیرخوار بچہ ساتھ لانے  پر خاتون رکن سے ہتک آمیز سلوک 

 کوئٹہ (آئی این پی)خاتون رکن اسمبلی کو اپنے بیٹے کو گود میں لے کر ایوان میں آنا مہنگا پڑگیا، اراکین کی تنقید پر خاتون روتی ہوئی باہر چلی گئیں حالانکہ اکثر ممالک میں بچوں کیساتھ پارلیمنٹ آنیوالی خواتین کو خوش آمدید کہا گیا۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کی خاتون رکن ماہ جبیں اپنے بیٹے کو گود میں لے کر اسمبلی ہال پہنچی تو وہاں موجود دیگر اراکین نے اعتراض کرتے ہوئے ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کی جلی کٹی باتیں سن کر ماہ جبیں کی آنکھیں بھرآئیں یہاں تک کہ ان کو اسمبلی سے باہر جانے کا کہہ دیا گیا اور وہ مایوسی کے عالم میں اپنے بیٹے کو لیکر ایوان سے باہر چلی گئیں۔واضح رہے دنیا کے کئی ملکوں میں بچوں کیساتھ پارلیمنٹ آنیوالی خواتین کو خوش آمدید کہا گیا ہے، اس کی تازہ مثال کرائسٹ چرچ حملے کے بعد مسلمانوں سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنیوالی نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنے بیٹے کو لے کر پہنچیں لیکن کسی نے ان پر تنقید نہیں کی۔جیسنڈا آرڈرن کو اقوام متحدہ کی جانب سے پاس بھی جاری کیا گیا تھا، اس کے علاوہ۔ اٹلی کی رکن پارلیمنٹ کی بیٹی بھی ایوان میں بیٹھتی ہے۔ آسٹریلیا اور اسپین کی خاتون ارکان بھی بچے ساتھ لاچکی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے بلوچستان اسمبلی میں خاتون رکن پر بچہ ساتھ لانے پرتنقید کیوں کی گئی؟

ہتک آمیز سلوک

مزید : صفحہ اول