حکومت نے سی پیک رول بیک کر دیا،اگلا سال الیکشن کا بنانا پڑے گا:احسن اقبال

حکومت نے سی پیک رول بیک کر دیا،اگلا سال الیکشن کا بنانا پڑے گا:احسن اقبال

اسلام آباد (صباح نیوز) مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ مسلم لیگ  (ن)، پیپلز پارٹی اور متحدہ مجلس عمل تمام معاملات پر مشاورت کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ا یک دوسرے کو اعتماد میں لے کر فیصلے کریں۔ موجودہ حکومت نے 10ماہ میں پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں کسی بھی حکومت سے زیادہ قرضہ لے لیا ہے۔ لیکن حکومت نے کوئی ایک اینٹ نہیں رکھی اور کوئی ترقیاتی کام نہیں کروایا۔ اپوزیشن کا اتفاق ہے کہ معیشت کے حوالہ سے ہم نے مربوط طور پر حکومت کو بجٹ میں ٹف ٹائم دینا ہے اور عوام کا کیس پیش کرنا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت 700ارب کے ٹیکس لگانے جا رہی ہے اور بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانے جا رہی ہے اس سے تو ایک عام آدمی کا معاشی قتل ہو جائے گا وہ زندہ نہیں رہ سکے گا۔ اگر ہم نے ملک کو کسی بڑے بحران سے بچانا ہے تو ہمیں 2020کو الیکشن کا سال بنانا پڑے گا۔ میں سمجھتا ہوں موجودہ حکومت نے سی پیک کو عملاً رول بیک کر دیا ہے۔ عمران خان نے خود کہا تھا کہ اگر جہانگیر خان ترین کو سزا ہو گئی تو میں اسے پارٹی سے نکال دوں گا،پارٹی سے نکالنا تو درکناران کو تو نائب وزیر اعظم کا درجہ دے دیا  گیا ہے اور وہ ہر کابینہ کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اور وزیر اعظم ہاؤس کے اجلاسوں  میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار احسن اقبال نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف نے بڑے مختصر وقت  میں پارٹی میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے مریم نواز کو  پارٹی میں عہدہ ملنے کے نتیجہ میں پارٹی مضبوط ہو گی۔

 احسن اقبال 

مزید : پشاورصفحہ آخر