گومل یونیورسٹی میں جسٹس(ر) داؤد کی سربراہی میں سنڈیکیٹ کمیٹی کا اجلاس

      گومل یونیورسٹی میں جسٹس(ر) داؤد کی سربراہی میں سنڈیکیٹ کمیٹی کا اجلاس

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)گومل یونیورسٹی کے کمیٹی روم میں جسٹس(ر) داؤد کی سربراہی میں سنڈیکیٹ کی بنائی ہوئی خصوصی کمیٹی کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوااور کمیٹی کے امور نمٹانے کیلئے شرائط کے حوالہ جات کو فائنل شکل دی گئی۔ کمیٹی کا دوسرا اجلاس 14مئی2019کو بوقت 11بجے کمیٹی روم میں دوبارہ ہو گا۔ کمیٹی میں ریحان ملک ایڈووکیٹ،نمائندہ گورنر خیبرپختونخوا، پروفیسر ڈاکٹر شادی اللہ خان، کوارڈینیٹر گریجویٹ اسٹیڈیز، اسلم پرویز، کنٹرولر امتحانات، ریاض احمدبیٹنی،ڈپٹی رجسٹرار اسٹیبلشمنٹ اور ظاہر شاہ، اسسٹنٹ رجسٹرار میٹنگ نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران میں کمیٹی نے درج ذیل فیصلہ کئے (1)کمیٹی کورم 5میں سے3ممبران پر ہوگا(2)ہر دن 20سے25ٹیچرز اور ملازمین کو سننے کا موقع دیا جائے گا(3)تمام فیصلے باہمی مشاورت اور رضامندی سے ہوں گے لیکن اختلاف کی شکل میں ہر ممبر تحریری سفارشات اسی وقت لکھ کر کنوینیئر کے حوالے کرے گا اور کنوینیئر ممبران کی سفارشات کو دیکھنے اورپرکھنے کے بعد اپنا آخری فیصلہ سنڈیکیٹ کے سامنے رکھے گا اختلاف کی صورت میں کوینئیر کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ (4)کمیٹی کی باضابطہ میٹنگ 20مئی2019سے بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی (5)ذاتی شنوائی والا کوئی بھی افسر یا ٹیچر اپنے مسئلہ/شوکاز نوٹس میں دیئے گئے الزامات کے جوابات تک محدود رہیں گے اور اس کے علاوہ ادھر ْادھر کسی بھی بات کی ان کو اجازت نہیں ہوگی۔ (6)کوئی بھی ممبر دوران کارروائی موبائل کا استعمال قطعن نہیں کرے گااور موبائل استعمال پر پابندی رہے گی اور یہی اصول ذاتی شنوائی دینے والے ٹیچر اور ملازمین پر بھی لاگو ہو گی۔ (7)گومل یونیورسٹی باقی تمام تر ریکارڈ اور دفتری امداد مہیا کرنے کی پابند ہو گی۔(8)دوران کارروائی یونیورسٹی کے مجاز افسران موجود رہیں گے

مزید : پشاورصفحہ آخر