ادلب: امت مسلمہ کا امتحان یا زوال؟

ادلب: امت مسلمہ کا امتحان یا زوال؟

لہو لہو شام جہاں پر وقت کے فرعونوں نے آٹھ سال سے رقص ابلیس برپا کر رکھا ہے۔جس کے نتیجے میں سات لاکھ کے قریب بے گناہ مسلمان بچے، بوڑھے اور عورتیں شہید کرنے کے ساتھ ساتھ اتنی ہی تعداد میں زخمی اور معذور کر دیئے گئے ہیں۔ جہاں کی آدھی سے زیادہ آبادی کو اپنا گھر بار چھوڑکر دنیا بھر میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا گیا۔ ایک دفعہ پھر بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخی بن چکا ہے۔ گذشتہ چند روز سے بین الاقوامی میڈیا میں متواتر کے ساتھ ہلا دینے والی خبریں آرہی ہے کہ بین الاقوامی برادری کی مخالفت کے باجود بشار اور روسی فورسز کی جانب سے شمال مغربی اور ترکی کی سرحد کے ساتھ ملنے والے صوبے ادلب پروقفے وقفے سے فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں۔ جس کے نتیجے میں ایک ہفتے کے اندر درجنوں شامی مسلمان شہید اور 1.5 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ شام سے متعلق اقوام متحدہ کے زیر انتظام تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ پاؤلوبینیرونے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”ادلب صوبے میں کسی بھی فوجی کاروائی کے نتیجے میں ایک ایسا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے جس کا تصور ممکن نہیں“۔

مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اپنی ہی قوم کے سفاک قاتل نصیری بشار الاسد کی حکومت ایک دفعہ پھر بڑے پیمانے پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے بارے میں سوچ وبچار کر رہی ہے۔ جبکہ اس سے قبل بشار حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف 9دفعہ کیمیائی گیس استعما ل کر چکی ہے۔ جس میں اگست 2013میں ہونے والا وہ اندوہناک سانحہ بھی شامل ہے جب ان واحد میں سوئے ہوئے 1400سے زائد مسلمان لقمہ اجل بن گئے تھے جن میں اکثریت بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی تھی۔یہ دلخراش واقعہ آج بھی شامی مسلمانوں کے لیئے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ ادلب جہاں پر 30لاکھ کے قریب بے یارومددگار مسلمان شدید خوف وہراس اور ہیزیانی کیفیت میں دن گزار رہے ہیں۔ انہیں ایک خوفناک موت اپنے سروں پر منڈلاتی دکھائی دے رہی ہے۔

بشار حکومت نے اپنے حلیفوں کی مدد سے ادلب کی اکثر گذرگاہیں بند کر دی ہیں۔اور اس کے ساتھ ساتھ نہتے شہریوں کو وہاں سے نکلنے پر پابندی لگا دی ہے۔ گذرگاہوں کی بندش سے اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ شامی حکومت کے اس وحشیانہ طرز عمل سے وہاں کے مسلمانوں کے پاس زندگی بچانے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔ اپنی ہی قوم کے سفاک قاتل نصیری بشار الاسد کا جنگی جنون ایک دفعہ پھر لاکھوں بے گناہ اور نہتے شہریوں کی شہادت کا باعث بن سکتا ہے۔ جس کے نتائج انتہائی خطرناک اور بھیانک ہو سکتے ہیں جو تیسری عالمی جنگ کا موجب بھی بن سکتی ہے۔ کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پہلے ہی ادلب پر تینوں ملکوں (روس، ایران اور شامی حکومت)کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میں ناگزیر تباہی کا انتباہ جاری کر چکی ہے۔ افسوس! اس تباہی کا نشانہ کوئی اور نہیں بلکہ وہاں کے بے گناہ مسلمان ہی ہوں گے۔

اس سے قبل شام میں قیام امن کے حوالے سے جینوا میں ہونے والے مذاکرات روس، ایران اور شامی حکومتوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ناکام ہو چکے ہیں۔انتہائی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ادلب اور اس کے گرد ونواح میں جہاں ایک جانب روس، ایران اپنی اپنی مسلح فورسز کے ساتھ براجمان ہیں تو دوسری جانب غیر ملکی قابض فورسز کے خلاف برسرپیکار شامی حریت پسندوں کے بھی ہزاروں جنگجوؤں آخری معرکہ لڑنے کی تیاری کر چکے ہیں۔ ترکی کے ذرائع ابلا غ کے مطابق غیر ملکی فورسز کی جارحیت کے خلاف ترکی حکومت نے ہزاروں ترک فوجی اہلکاروں کو ادلب بھیجنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ جبکہ ترکی کے صدر طیب اردگان پہلے ہی امریکہ اخبار ”وال اسٹریٹ جرنل“ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ادلب پر حملہ ہوا تو ”پوری دنیا اس کی قیمت چکائے گی“۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ادلب میں حلب کی المناک تاریخ دہرانے کی کوشش کی جائے گی۔ جہاں دو سال قبل روسی، ایرانی اور بشار کی فورسز نے مساجد، طبی مراکز، تعلیمی اداروں،مارکیٹوں اور سول آبادیوں میں بدترین رقص ابلیس برپا کر دیا تھا۔ وہ کونسا اسلحہ تھا جومحمد ﷺ کے جان لیواؤں پر نہیں آزمایا گیا، بیرل بم، کلسٹر بم، فاسفورس بم، کارپٹ بمباری، تباہ کن میزائلوں کے وحشیانہ حملے، کیمیائی حملے حتیٰ کہ بموں کی ماں تک برسا دی گئی۔ اور محض چند دنوں میں حلب کے پچاس ہزار بے گناہ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ صرف اس پر بس نہیں کیا گیا بلکہ محلوں کے محلوں کو گھیرکر ان میں چھپی ہوئی، سہمی ہوئی، خوا کی بے بس و لاچار عزت مآب مسلمان بیٹیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جو امت مسلمہ کی غیرت ایمانی سے عاری دینی اور مذہبی قیادتوں سمیت نام نہاد جہادیوں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ تھا۔ بہرحال معرکہ ادلب بہت جلد امت مسلمہ کے مستقبل کے خدوخال کو واضح کر دے گا۔ سالار اعظم و رحمت اللعالمین محمد ﷺ نے چودہ صدیاں قبل واضح الفاظ میں تنبیہ کر دی تھی کہ ”جب اہل شام تباہی وبربادی کا شکار ہوجائیں تو پھر تم (امت مسلمہ) میں کوئی خیر باقی نہ رہے گی“سنن ترمذی 2192۔

.

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ