پی سی گوادر پر حملہ ، کیا واقعی لاپتہ افراد میں شامل حمل بلوچ ہی حملہ آوروں کا ساتھی تھا؟ حامد میر نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

پی سی گوادر پر حملہ ، کیا واقعی لاپتہ افراد میں شامل حمل بلوچ ہی حملہ آوروں ...
پی سی گوادر پر حملہ ، کیا واقعی لاپتہ افراد میں شامل حمل بلوچ ہی حملہ آوروں کا ساتھی تھا؟ حامد میر نے انتہائی حیران کن انکشاف کردیا

  


گوادر (ڈیلی پاکستان آن لائن )تین دہشتگردوں نے گزشتہ شام چار بجے کے قریب گوادر میں واقع پر ل کانٹیننٹل ہوٹل پر حملہ کیا جسے پاک فوج نے ناکام بنا دیا اور تینوں دہشتگردوں کو ٹھکانے لگا دیا گیاتاہم اس دورا ن انہیں روکنے کی کوشش اور مزاحمت میں ایک گارڈ شہید ہو گیا ۔

تفصیلات کے مطابق مارے جانے والے تینوں دہشتگردوں کی شناخت کر لی گئی ہے تاہم ان میں سے ایک کے بارے میں انتہائی حیران کن انکشاف ہوا ہے ۔سینئر صحافی حامد میر نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ”یہ تصویر حمل فتح بلوچ کی ہے جو پی سی گوادر پر حملے میں مارا گیا، یہ کیچ مکران کا رہنے والا تھا لیکن کل سے کچھ لوگ اسے لاپتہ افراد میں سے ایک قرار دے رہے ہیں جو غلط ہے۔ سردار اختر مینگل کی طرف سے لاپتہ افراد کی جو فہرست حکومت کو دی گئی تھی اس میں شامل حمل خان کا تعلق کوہلو سے ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی وی اے آر وائے نیوز کی جانب سے خبر نشر کی گئی کہ ہلاک ہونے والے دہشتگرد کا نام مسنگ پرسن لسٹ میں تھا اور وہ گزشتہ تین سالوں سے غائب ہے اور دشمن ممالک میں دہشتگردی کی ٹریننگ لے رہا تھا تاہم اب حامد میرنے انکشاف کیاہے کہ یہ وہ شخص نہیں ہے ۔

مزید : قومی