اگلی مرتبہ اوبر یا کریم ٹیکسی منگوائیں تو بیٹھنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں، سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی

اگلی مرتبہ اوبر یا کریم ٹیکسی منگوائیں تو بیٹھنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں، ...
اگلی مرتبہ اوبر یا کریم ٹیکسی منگوائیں تو بیٹھنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھ لیں، سائنسدانوں نے وارننگ جاری کردی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) اوبر اور کریم جیسی ٹیکسی سروسز باقی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بہت مقبول ہو چکی ہیں لیکن اب ان کے متعلق سائنسدانوں نے ایسی وارننگ جاری کر دی ہے کہ لوگ ان میں بیٹھتے ہوئے دو بار سوچیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق معروف انشورنس کمپنی نیٹ کوٹ(Netquote)نے سائنسدانوں کے ذریعے ایک تحقیق کروائی ہے جس میں ان ٹیکسی سروسز کی گاڑیوں کی سیٹوں پر گندگی، خطرناک جراثیموں اور بیماریاں پھیلانے والے بیکٹیریا کی موجودگی کا پتا چلایا گیا۔ سائنسدانوں نے مختلف ممالک سے اوبر اور کریم سمیت کئی ٹیکسی سروسز کی گاڑیوں کی پچھلی سیٹوں سے نمونے لیے اور ان کے ٹیسٹ کیے، جن کے نتائج میں یہ خوفناک انکشاف ہوا کہ ان کی پچھلی سیٹیں ٹوائلٹ کی سیٹ سے35ہزار گنا زیادہ گندی ہوتی ہیں اور ان پر اتنے گنا ہی زیادہ جراثیم ہوتے ہیں۔

اس تحقیق میں عام ٹیکسیوں کے نمونے بھی شامل کیے گئے تھے۔ ان کے اوبر وغیرہ کی گاڑیوں کے نمونوں سے موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اوبر جیسی ٹیکسی سروسز کی گاڑیوں کی پچھلی سیٹوں پر عام ٹیکسیوں کی پچھلی سیٹوں کی نسبت 219گنا زیادہ جراثیم اور بیکٹیریا ہوتے ہیں۔تحقیقاتی نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”ان ٹیکسی سروسز کی گاڑیوں کی پچھلی سیٹوں پر سیٹ بیلٹ اور ونڈو بٹن سب سے زیادہ گندے ہوتے ہیں اوران پر سب سے زیادہ جراثیم پائے جاتے ہیں۔ ان گاڑیوں میں جو جراثیم پائے گئے ان میں بیسیلس (Bacillus)بھی شامل تھا جو خطرناک قسم کی انفیکشنز اور فوڈ پوائزننگ کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ ان میں کوشی (Cocci)نامی جراثیم بھی تھا جو جلدی انفیکشنز کا باعث بنتا ہے۔ سائنسدانوں نے تحقیق میں ایک فہرست مرتب کی جس کے مطابق اوبر اور کریم جیسی ٹیکسی سروسز کی گاڑیوں میں اوسطاً60لاکھ جراثیم پائے جاتے ہیں۔ رینٹل کاروں میں 20لاکھ، عام ٹیکسیوں میں 27ہزار 593، ٹوائلٹ کی سیٹ پر 171اور ٹوتھ برش کے ہولڈر پر 21لاکھ جراثیم پائے جاتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ