ای۔ او۔ بی۔ آئی پنشنروں کا المیہ!

ای۔ او۔ بی۔ آئی پنشنروں کا المیہ!

  

ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن کے مدار المہام حضرات نے بزرگ پنشنروں کے زبردست احتجاج کے بعد اپریل کی پنشن دس روز کے بعد جاری کر دی۔ تاہم اس میں وہ اضافہ شامل نہیں جو موجودہ حکومت کی طرف سے یکم جنوری 2020ء سے دو ہزار روپے ماہوار کے حساب سے دیا گیا۔ بتایا گیا کہ ایسا مجبوراً کیا گیا، کیونکہ حکومتی اعلان کے بعد ای او بی آئی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے اجلاس کے بعد دو ہزارر وپے اضافہ منظور کیا اور اجازت کے لئے سمری کابینہ کو بھجوا دی۔ اس عرصہ میں منظوری کی توقع میں بورڈ نے اپریل میں پنشنروں کو اضافے کے ساتھ پنشن ادا کر دی لیکن یہ سمری کابینہ کے اجلاس کے ایجنڈے میں موجود ہونے کے باوجود زیر غور ہی نہ آئی، لہٰذا مئی میں اپریل کی پنشن روک لی گئی اور پنشنروں کو اطلاع دی گئی کہ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے اس بار پنشن 8 مئی کو ادا ہو گی۔ یہ بھی کابینہ سے منظوری کی آس پر فیصلہ ہوا، تاہم فنڈ نہ جا سکا، 8 مئی کو پنشن نہ آئی تو ساڑھے چھ لاکھ بوڑھوں، بزرگوں اور معمر حضرات نے زبردست احتجاج کیا۔ اس پر 10 مئی کو پنشن جاری کر دی گئی۔ مگر دو ہزار اضافہ نہ دیا گیا۔ البتہ جنوری سے اپریل تک دیئے گئے چھ ہزار (اضافی) میں کٹوتی نہ کی گئی اور ادائیگی ساڑھے چھ ہزار روپے ہوئی۔ یوں ان لاکھوں معمر پنشنروں کو پھر سے صدمے کا شکار ہونا پڑا۔ ان بزرگوں نے اب یہ مطالبہ کیا کہ ای او بی آئی بورڈ کو ختم کر کے یہ انتظام ”اخوت“ کے سپرد کیا جائے تاکہ کروڑوں کے اخراجات بھی بچ سکیں جو تنخواہوں اور مراعات کی صورت میں لئے جاتے ہیں۔ اولڈ ایج بینی فٹ ایک طے شدہ قانون کا حصہ ہے، اس کے تحت ادارے رجسٹر ہوتے ہیں یہ ادارے اپنے ملازمین کی تعداد کے حوالے سے ای او بی آئی کو ماہانہ رقم جمع کراتے ہیں جو آجر اور اجیر کے مشترکہ حساب کے مطابق ہوتی ہے یوں یہ رقم سرکاری نہیں نجی اور مزدوروں کی ہوتی ہے۔ ان رجسٹر اداروں کے وہ ریٹائر ملازم جو 60 سال کے ہو جاتے ہیں۔ اس پنشن کے حق دار ہیں۔ جو رجسٹرڈ اداروں کے ملازم تھے چنانچہ یہ رقم ان کی اپنی ہوتی ہے۔ یہ پنشن دو ہزار روپے ماہوار تھی جو سابقہ حکومتوں کے ادوار میں اضافے کے ساتھ ساڑھے چھ ہزار ہو گئی۔ یہ پنشنر زیادہ عمر کے ہونے کی و جہ سے ضعیف اور بیمار بھی ہیں۔ زیادہ پیسے ان کی ادویات پر اٹھ جاتے ہیں، وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے باقاعدہ اعلان کیا کہ جنوری سے پنشن میں دو ہزار روپے ماہوار اضافہ کر دیا گیا اور حال وہ ہوا جو بیان کیا گیا۔ اس فنڈ میں اربوں روپے جمع ہوئے۔ ماضی میں خورد برد کے سکینڈل سامنے آئے کہ سستی تر زمینیں مہنگے داموں خرید کر رقوم خورد برد کی گئیں نیب نے نوٹس لیا۔ گرفتاریاں عمل میں آئیں ایک چیئرمین بھی گرفتار ہوئے جو بعد ازاں ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اس کے بعد چیئرمین (سابق) کا سارا خاندان حکومتی جماعت میں شامل ہو گیا۔ نیب کی تفتیش اور کارروائی وہیں رک گئی جہاں تھی، اس بورڈ میں اور بورڈ کے تحت کثیر تعداد میں لوگ سیاسی بنیادوں پر بھرتی کئے گئے جو آجر اور اجیر کی رقوم سے ماہانہ کروڑوں روپے مشاہرے اور مراعات لیتے ہیں اور پنشنر حضرات کو تنگ کرتے ہیں۔ اب مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹر توڑ دیا جائے اور یہ سارا نظام ”اخوت“ کے سپرد کیا جائے جو رضا کارانہ کام کرتی ا ور اس کی کارکردگی بے مثال ہے یوں نہ صرف کروڑوں کی بچت ہو گی بلکہ نظام بھی بہتر ہوگا اور کرپشن رک جائے گی جو حکمران جماعت کا مشن ہے ویسے حیرت ہے کہ کرپٹ لوگ کرپشن کے خلاف جہاد کرنے والی جماعت میں کیسے شامل ہو گئے؟

مزید :

رائے -اداریہ -