پاکستانی بچے بڑے کب ہوں گے؟

پاکستانی بچے بڑے کب ہوں گے؟
پاکستانی بچے بڑے کب ہوں گے؟

  

پرویزمشرف کے اس فوجی دور میں تمام سیاستدان انتہائی کرپٹ ٹھہرے اور ٹھہرے بھی جا بیرون ملک، جس میاں نواز شریف پر غداری اور جہاز اغوا کا مقدمہ ثابت بھی ہوا اور عدلیہ سے سزا بھی سنائی گئی ان کو ایک عجیب و غریب معائدے کے تحت خاندان سمیت باعزت پاک کر کے ایک پاک ملک میں بھیج دیا گیا۔ جبکہ ان کے حریف پیپلزپارٹی کے راہنماوں کو بھی خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور کر دیا گیا اور عوام کو باور کروایا گیا کہ یہ سب ملک لوٹ رہے تھے اب ان کو دوبارہ یہ موقع ہر گز نہیں دیا جائے گا اور ہم ملک کو ان کی پہنچ سے دور رکھ کر ترقی دیں گے۔ لیکن کچھ ہی عرصے میں پیپلزپارٹی کے ان لوگوں کو جن پر میگا کرپشن کے مقدمات عدالتوں میں چل رہے تھے کو راؤ سکندر کی قیادت میں حکومت میں شامل کر لیا گیا اور نواز شریف کے سابق ساتھی چوہدری شجاعت کی قیادت میں ایک نئی مسلم لیگ بنائی گئی یعنی ق لیگ جس کے سہارے فوجی حکومت کو دوام بخشا گیا اور پاکستانی بچے پھر بھول گئے کہ پرویز مشرف صاحب تو کرپشن ختم کرنے لگے تھے۔ 2002ء کے قومی انتخابات میں ق لیگ کامیاب ہوئی اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ایم ایم اے بھی ایک قوت کے طور پر ابھرا اور خیبر پختون خواہ میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب رہا پھر سب نے مل کر ایک بار پھر آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا۔ اس طرح پرویز مشرف صاحب کو مزید وقت مل گیا لیکن اگلے انتخابات سے پہلے بین الاقوامی دباؤ بڑھا کہ حقیقی جمہوریت بحال کی جائے اور حکومت میں پیپلزپارٹی کو بھی حصہ دیا جائے پھر

این آر او ہو ا جس کا ترجمہ اور تشریح یوں کی جا سکتی ہے کہ پچھلے گناہ معاف اور نئے سرے سے سب مل جل کر لوٹ مار کریں گے۔ بینظیر بھٹو صاحبہ خوشی خوشی واپس وطن آئیں اور انتخابی مہم پر نکل پڑیں جو کہ این آر او معائدے میں شاید شامل نہ تھا پھر اس کا نتیجہ وہی ہونا تھا جو لیاقت باغ میں ہوا کرتا ہے۔ باقی تاریخ ہے۔

پھر 2008 ء کے انتخابات میں بینظیر صاحبہ کی قربانی کے سبب پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی جس کے وعدوں میں ایک بڑا وعدہ بینظیر صاحبہ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا تھا۔ پیپلزپارٹی نے زرداری صاحب کی قیادت اور ان کی نئی پالیسی افہام و تفہیم میں جیسے تیسے اپنے پانچ سال پورے کیے لیکن بینظیر کے قاتلوں کو سامنے لایا گیا نہ اس مقدمے کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا، اسی دور کے دوران اعلی عدالتوں کے جج صاحبان جنہیں پرویزمشرف نے معطل کیا ہوا تھا بحال ہوئے اور سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کا طوطی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ انہوں نے این آر او کے مقدمہ میں ایک وزیراعظم کو بھی کھڑے کھڑے سزا سنا کر نااہل کر کے وزارت عظمی سے فارغ کیا، اس کے ساتھ اور از خود نوٹس کے ذریعے میموگیٹ کا مقدمہ سماعت کیا۔ لیکن عدالتی نظام کو درست کرنے کی طرف کچھ بھی نہ کیا۔ اور جن مقدمات میں شہرت حاصل کی ان کا نتیجہ بھی صفر رہا۔ 2011 ء میں تحریک انصاف نے لاہور کے ایک جلسے سے اپنی پرواز بلند کی اور 2013 ء کے انتخابات میں ن لیگ کا بھرپور مقابلہ کیا لیکن حکومت ایک بار پھر ن لیگ کی جھولی میں آگئی۔ لیکن عمران خان صاحب کی قیادت میں حکومت مخالف تحریک کا آغاز کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔ بات پہلے دھرنے، دوسرے دھرنے اور پھر عدالتی کمیشن سے ہوتی ہوئی پاناما کیس تک جا پہنچی اور میاں نواز شریف کی وزارت عظمی کے خاتمے پر منتج ہوئی۔

پھر مئی 2018 ء میں انتخابات ہوئے جس میں نئے پاکستان اور احتساب کا نعرہ لیے تحریک انصاف کامیاب ہوئی، لیکن اس کامیابی کے دو برس مکمل ہونے میں کچھ دن باقی لیکن 2013 کی دھاندلی کا کچھ پتا چلا نہ پاناما کی کوئی خبر اب تو کورونا بھی آگیا لیکن پاناما کا کیا بنا کوئی بتا سکتا ہے؟ میاں نواز شریف صاحب نے بھی ایک تحریک شروع کی تھی۔" ووٹ کو عزت دو" اس کا کیا ہوا؟ کیا ووٹ کو عزت مل گئی ہے؟ ہم تو بچے ہیں بھول جاتے ہیں۔ میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کو جیل کی سزا ہوئی تھی۔ پھر میاں صاحب کی پلیٹ لیس و الی بیماری جس کا نام ہم بچوں نے پہلی بار سنا تھا اس کا کیا ہوا، مریم بی بی تو صحت مند ہیں وہ اپنے والد محترم کی عیادت کی خاطر چند دن کے لیے جیل سے نکلیں پھر واپس نہیں پہنچیں آجکل کدھر ہیں؟ ہمیں کیا معلوم ہم تو بچے ہیں۔ میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان پر بھی بھاری بدعنوانی کے کیس ہیں۔ وہ بھی اپنے بھائی کے ساتھ لندن گئے اور ادھر ہی بیٹھ گئے پھر ان کو پیغام ملا جلدی سے آو وزیراعظم کی ویکینسی خالی ہے۔ وہ لمحہ ضائع کیے بغیر پہنچے لیکن آگے پروگرام بدل گیا، یہ فیصلے کون کرتا ہے؟ ہمیں تو خبر ہی نہیں کیونکہ ہم تو بچے ہیں۔ اور آجکل کورونا کورونا کھیل رہے ہیں۔

اب جائزہ لیں کہ لیاقت علی خان صاحب کے قتل پر بننے والے جسٹس منیر حسین کی سربراہی میں عدالتی کمیشن سے اسامہ بن لادن کے کمیشن (جو موجودہ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں بنا تھا) کی رپورٹس کا کیا ہوا؟ ضیاء الحق کا جانشین نوازشریف اور ضیاء کا بیٹا برسراقتدار رہے لیکن ضیاء قتل اور کمیشن کا کوئی نتیجہ نہیں، بینظیر بھٹو صاحبہ کے خاوند کی سربراہی میں 5 سال حکومت پیپلزپارٹی نے کی لیکن محترمہ کے قتل کا کوئی سراغ نہیں ملا، چوہدری افتخار صاحب نے وزیراعظم کی چھٹی تو کروا دی، حقانی صاحب کو بھی امریکہ بھیج دیا لیکن دونوں مقدمات کے نتائج کیا نکلے؟ بابا رحمتا کے چھاپے اور ریمارکس کے بعد ڈیم کا اعلان اور فنڈ کدھر گئے؟ پاناما کی دولت بھی پاکستان نہ پہنچی البتہ اس دولت کو لوٹنے والے اپنے اثاثوں سے محظوظ ہونے وہاں پہنچ گئے۔ یہ تماشہ کیا ہے۔ ہمیں کیا؟ ہم تو بچے ہیں۔ 5 اگست سے آج تک ہماری شہہ رگ کو بھارت نے دو ترامیم کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ رکھا ہے۔ اور اب مظفرآباد اور گلگت کا موسم بھارتی موسم کے ساتھ دکھایا جا رہا ہے۔ مگر ہمیں کیا ہم تو بچے ہیں بھول بھی چکے مودی جانے کشمیر جانے۔ ہم تو بچے ہیں کل کوئی نیا کھلونا مل جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -