قومی ہم آہنگی: اب نہیں تو کب؟

قومی ہم آہنگی: اب نہیں تو کب؟
قومی ہم آہنگی: اب نہیں تو کب؟

  

فروری میں جب چین سے کورونا وائرس کی نئی قسم کی خوفناکی کا شور مچا تو وطن عزیز میں تشویش صرف اتنی تھی کہ متاثرہ چینی علاقوں میں پھنس جانے والے پاکستانی طلبہ و طالبات کو کس طرح ان کے گھروں تک واپس لایا جائے۔ ان بچوں کی وڈیو آنا شروع ہوئیں تو یہاں بھی بیان بازی شروع ہوئی۔ چھوٹے موٹے مظاہر ے ہوئے مگر چینی حکومت نے اپنی لاک ڈاؤن پالیسی پر اپنی روایتی سخت گیری کے عین مطابق انکار کر دیا۔ اور واضح کر دیا کہ متاثرہ علاقے سے کسی کو باہر جانے دیا جائے گا نہ اندر آنے دیا جائے گا۔ چنانچہ ان بچوں، ان کے لواحقین اور حکومت پاکستان کو بھی سمجھ آ گئی کہ بہتری اسی میں ہے۔ پھر دنیا بھر میں پھیلنے والی تباہی کے تناظر میں ثابت ہو گیا کہ واقعی بہتری اسی میں تھی۔ پھر پاکستان میں بھی وائرس نے قدم پھیلانے شروع کئے تو ابتداء میں قوم اور حکومت دونوں مطمئن تھے کہ ہمارے ہاں وائرس نے ہتھ ہولا رکھا ہوا ہے۔ جانی نقصان مختصر اور رفتار سست تھی۔ وزیراعظم سمیت ارباب اختیار اس پر شکر ادا کرتے رہے، تاہم چینی ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن شروع کر دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرتی معروضی حالات کے پیشِ نظر چین جیسے لاک ڈاؤن کو ممکن بنانا ازبس مشکل، بلکہ ناممکنات میں سے ہے۔ اس کے باوجود یہ پہلا موقع تھا کہ تاجروں نے احتجاج نہ کیا اور کاروباری ادارے بھی بند ہو گئے۔

ابتداء میں نصف سے زیادہ آبادی نے گھروں سے نکلنے میں خاصی احتیاط کی،تشویش بلکہ خوف کی لہر پورے معاشرے میں تھی۔ جوں جوں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت بڑھتی گئی۔ متاثرین کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا اور اموات بھی بڑھنے لگیں، تاہم ان کی تعداد یورپ، امریکہ، ایران اور دنیا کے بیشتر ممالک کے مقابلے میں خاصی کم تھی۔ متاثرین تیزی سے روبصحت ہو رہے تھے اور ہم سب اطمینان کا جھولا جھول رہے تھے۔ ماہرین کہہ رہے تھے کہ وائرس کی تباہ کاریوں میں عروج بھی آتا ہوتا ہے، اس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ خطرہ کم ہے مگر ٹلا نہیں۔ وزیراعظم کو (بجا طور پر) غریب محنت کشوں کی مشکلات کا احساس ہونے لگا۔ جو روزگار چھن جانے کی وجہ سے مفلوک الحالی کے درجے میں پہنچ گئے تھے اور روزی کے بعد روٹی کے لالے پڑ گئے تھے۔ انہوں نے لاک ڈاؤن کو سمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، مگر یہ نام دینے سے پہلے ہی 14اپریل سے تعمیرات (ہاؤس بلڈنگ) کو صنعت قرار دے کر کھولنے کا اعلان کر دیا۔ اس پر انہی صفحات پر راقم کا کالم شائع ہوا، جس کا عنوان تھا ”الوداع لاک ڈاؤن“، اس میں یہی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ تعمیرات سے 40صنعتیں وابستہ ہیں۔ انہیں بھی کھولنا ہوگا، یوں لاک ڈاؤن نہیں رہے گا۔ دنیا کہہ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن نہ ہو تو وائرس بے قابو ہو جائے گا، لیکن ہماری قومی ا ور انفرادی معاشیا ت کا تانابانا ترقی یافتہ دنیا سے مختلف ہے۔ حکومت، مخیرحضرات اور سماجی تنظیموں نے کوشش کی کہ غریب شہریوں کی مالی مشکلات کم کی جائیں۔

احساس پروگرام کے تحت بارہ ہزار روپے فی کس تقسیم کئے گئے۔ الخدمت اخوت ادارہ انسانیت جیسی تنظیموں نے راشن پہنچانے اور تقسیم کرنے کا بیڑا اٹھایا، یہاں پھر سماجی رویے آڑے آئے۔ حقدار اور عادی بھکاریوں میں تمیز مشکل ہو گئی۔ سماجی فاصلے کے نظریہ کے بخیے ادھڑ گئے۔ ابتداء میں احتیاط کرنے والوں کی جھجھک بھی جاتی ر ہی، سنسان سڑ کوں پر ٹریفک اور خالی بازاروں میں رش نظر آنے لگا۔ سمارٹ لاک ڈاؤن میں باقی صرف تعلیمی ادارے،عبادت گاہیں اور بڑے شاپنگ مال ہی رہ گئے۔ البتہ اب بھی دکانوں کی بندش کے اوقات کی پابندی کرانے کی کافی حد تک کامیاب کوشش کی جا رہی ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے احتجاجی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں۔ ان کی تنظیموں نے یکم جولائی تک سکولوں کی بندش قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی فیصد پرائیویٹ سکول کرائے کی عمارتوں میں چل رہے ہیں۔ اگر سکول نہ کھولے گئے تو نصف سکول بند ہو جائیں گے۔دس لاکھ اساتذہ بے روزگار ہو جائیں گے۔ ان کی بات مانی جاتی ہے یا نہیں۔ یہ امر واقعہ ہے کہ کورونا تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔ متاثرین اور ہلاک شدگان کی تعداد یک دم بڑھ گئی۔ محض دس روز میں اموات دوگنی ہو گئی ہیں۔ ڈاکٹر چیخ رہے ہیں کہ سرگرمیاں محدود تر اور لاک ڈاؤن سخت تر کیا جائے، ورنہ مریضوں کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ مسیحا بھی بڑی تعداد میں کورونا کا شکار ہو رہے ہیں۔

نئے ڈاکٹروں کی سرکاری ہسپتالوں میں بھرتیاں ہو رہی ہیں، مگر ڈاکٹروں کی موجودہ تعداد اور ہسپتالوں میں موجود سہولتیں کورونا کے تیز رفتار پھیلاؤ کا مقابلہ نہیں کر سکیں گی۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کورونا کے پھیلاؤ اور لاک داؤن کے ”کھلاؤ“ کی ٹائمنگ عجیب و غریب ہے۔ اس پر مستزاد حکومتوں کی پالیسیوں میں ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ سندھ کی حد تک تو سمجھ آتی ہے کہ وہاں صوبائی حکومت پیپلزپارٹی کی ہے جو وفاقی حکمران جماعت کی مخالف ہے، مگر پنجاب میں،وفاق میں اور کے پی کے میں تو ایک ہی پار ٹی تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں۔ بلوچستان میں مقتدرہ کی حکومت ہوتی ہے، وہ بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہے، پھر ان سب کی پالیسیاں یکساں کیوں نہیں؟ جب وزیراعظم لاک ڈاؤن کی مخالفت کر رہے تھے تو پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ اب وزیراعظم نے باضابطہ اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ پیر سے پانچ روز کے لئے دکانیں کھلا کریں گی، دو دن بند رہا کریں گی۔ صوبائی پنجاب حکومت نے ہفتہ وار تین دن کے ناغے کا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے وسیم اکرم پلس سردار عثمان بزدار کی صدارت میں باقاعدہ کہا گیا کہ لاہور کے لئے الگ پالیسی بنائی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس نرمی کا اطلاق پنجاب کے چھ بڑے شہروں پر نہیں ہوگا۔ ان میں لاہور، ملتان، راولپنڈی، فیصل آباد بھی شامل ہیں۔

سندھ نے اگرچہ تاجروں کے دباؤ پر چھوٹے بازاروں میں دکانیں کھولنے کی اجازت دی ہے، تاہم وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس میں وزیراعظم کو یہ مشورہ دینا ضروری سمجھا کہ وہ جذبات سے کام نہ لیں، بلکہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن نرم کرنے سے کورونا کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ وفاق کی پالیسیوں پر 99فیصد عملدرآمد کر رہے ہیں، جبکہ سرکاری زعماء جس طرح اپنی توپوں کا رخ وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی قیادت کی طرف رکھتے ہیں اس سے لگتا ہے کہ مرکز میں ہم آہنگی کی خواہش ہے بھی تو بہت کمزور سی ہے۔ اگر کرونا کو عالمی وبا کے ساتھ ساتھ ایک قومی بحران بھی سمجھ لیا جائے (جو کہ ہے) تو اس کا تقاضا ہے کہ جو بھی حکمت عملی تیار کی جائے وہ قومی نوعیت کی ہو اور اس کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، مگر لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی پالیسی تو ”لڑنا لڑنا مدام لڑنا“ ہے۔ تعاون کرنا اور تعاون حاصل کرنا ان کی ترجیحات میں نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ حکومت کو قائم ہوئے دو سال ہونے کو آئے ہیں۔ اب تک قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی۔کورونا بحران کے آغاز میں قومی کانفرنس کے انعقاد کے لئے بھی قائد ایوان (وزیراعظم) نے میزبان بننا پسند نہیں کیا، بلکہ سپیکر قومی اسمبلی کو آگے کیا گیا۔ ان کی دعوت پر اپوزیشن رہنماؤں نے آن لائن شرکت کی، مگر وزیراعظم خطاب کے بعد چلے گئے اور خطاب میں بھی مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔

اس پر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زردا ری احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے۔ ایک ٹی وی ٹاک شو میں سابق وزیراطلاعات فواد چودھری سے جب کہا گیا کہ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سے رابطہ ہونا چاہیے تو انہوں نے کمال لاپروائی سے کہا کہ وہ کون سے سائنسدان یا طبی ماہر ہیں جو ان سے ویکسین کی تیاری کے لئے مشورہ لیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ سابقہ دور میں جب پشاور آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی ہوئی تو عمران خان سمیت ساری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بلایا گیا تھا اور وہ شامل بھی ہوئے۔ حالانکہ عمران خان ٹینک ڈرائیور تھے نہ اسفند یار توپچی تھے جو دہشت گردوں کے خلاف قومی پالیسی میں عملی مشورے دے سکتے۔ اس وقت تو کپتان شریک ہوئے اور اپنا دھرنا ختم بھی کیا۔ بعض کام علامتی بھی ہوتے ہیں، تاکہ اتفاق و اتحاد کا ماحول پیدا کیا جا سکے، مگر لگتا ہے کہ حکمران اس خواہش سے عاری ہیں یا صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔ دونوں صورتوں میں نتائج کا حوصلہ افزا ہونا ”خیال است و محال است و جنوں“ ہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -