بے بس حکومت بے لگام عوام، الٰہی خیر!

بے بس حکومت بے لگام عوام، الٰہی خیر!
 بے بس حکومت بے لگام عوام، الٰہی خیر!

  

طور خم میں پاک افغان بارڈر پر کورونا کی سکریننگ پر مامور پاک آرمی کے میجر محمد اصغر کورونا وائرس کا شکار ہوئے۔ جب انہیں سانس لینے کی تکلیف محسوس ہوئی تو انہیں فوراً سی ایم ایع پشاور منتقل کیا گیا۔ وینٹی لیٹر پر تھے کہ جان کی بازی ہار گئے یوں پاک آرمی کا پہلا افسر کورونا کے خلاف لڑتا ہوا جامِ شہادت نوش کر گیا۔ یہ خبر ایسے موقع پر آئی جب پاکستان میں لاک ڈاؤن نرم کیا جا رہا ہے اور کاروبار کھول دیئے گئے ہیں کل روزنامہ پاکستان نے بڑی با معنی ہیڈ لائن جمالی ”لاک ڈاؤن نرم، کورونا کے حملے سخت“ اس وقت ملک میں صورت حال بعینہ یہ ہے، عوام نے بزور طاقت اپنی آزادی چھین لی ہے اور حکومت کو بے بس کر دیا ہے۔ اب وہ سڑکوں پر دندناتے پھریں گے۔ دکاندار نوٹ چھاپیں گے، بازاروں میں رش کے مناظر عام ہو جائیں گے اور حکومتیں یہ دہائی دیتی رہیں گی بھائیو احتیاط کرو کورونا پھیل سکتا ہے کورونا کیسوں کی تعداد تیس ہزار سے زائد ہو چکی ہے، جان ہارنے والے سات سو کے ہندسے کو چھونے والے ہیں مگر ہم نے آبیل مجھے مار کے مصداق کورونا کو پھیلنے کے لئے بھرپور مواقع فراہم کر دیئے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ کورونا کمزور مدافعت رکھنے والوں پر حملہ آور ہوتا ہے، وہ میجر محمد اصغر کی شہادت کو کیا کہیں گے، فوج کا ایک افسر تو بالکل فٹ اور قوت مدافعت کی مثال ہوتا ہے، اگر وہ بھی کورونا کے وار نہیں سہہ سکا تو مان لینا چاہئے کہ یہ ایک تباہ کن وائرس ہے،

حملہ آور ہو جائے توجان لے کر چھوڑتا ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ آج بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ دل پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔ اسد عمر بھی کہتے ہیں کہ زیادہ عرصے تک لوگوں سے روز گار نہیں چھین سکتے تھے۔ عثمان بزدار کا بھی کہنا ہے کہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی شرط کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی ہے۔ مگر یہ سب باتیں ا پنی جگہ، اصل بات تو وہ حقائق ہیں جو ہمارا منہ چڑا رہے ہیں۔ یہ راگ ہم کب تک الاپ سکتے ہیں کہ پاکستان میں صورت حال وہ نہیں جو دوسرے ممالک میں ہے کیا وہ صورت حال پوری کر کے چھوڑنی ہے کیا کوئی ٹارگٹ ہے جسے پورا کرنا ہے تیس ہزار مریض کچھ کم تو نہیں ہوتے جس رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے لگتا ہے، اس مئی کے مہینے میں تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر جائے گی اس کے بعد تو پھر چل سو چل ہے کیونکہ دنیا میں کورونا کا یہی رجحان دیکھا گیا ہے ہمارے یہ بھولے بادشاہ عوام، یہ خود غرضی میں ڈوبے مست ملنگ تاجر اور لاک ڈاؤن میں نرمی کروانے کی کامیابی پر جھومتے کاروباری طبقات یہ بھول رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی اور عوام کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

آج لاک ڈاؤن کی نرمی کے پہلے دن جو مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں، وہ دل دہلا دینے کے لئے کافی ہیں اندرون شہر کے تنگ بازاروں میں عورتیں اور مرد کندھے سے کندھا رگڑ کر چلتے ہیں کیونکہ جگہ ہی نہیں ہوتی۔ اگر بازار سے ایک کورونا پازیٹو مریض بھی گزر جائے تو وہ ہزاروں کو متاثر کر سکتا ہے۔ لطیفے پر لطیفہ یہ ہے کہ 80 فیصد سے زائد نے تو ماسک بھی نہیں پہنا ہوتا۔ سنی ٹائزر کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آج کل عید کے دن ہیں ملتا ن کے کالے منڈی بازار سے کوئی گزر کر تو دکھائے۔ ایسی دکانیں ہیں جن میں دو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش بھی مشکل سے موجود ہے وہاں دس دس خواتین گھسی بیٹھی نظر آتی ہیں کہاں ہیں ایس او پیز اور کون کرائے گا ان پر عملدرآمد، پولیس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے اور یہ شکایات بڑھتی جا رہی ہیں کہ ہر تھانے کے ایس ایچ او نے آنکھیں بند کرنے کی فیس مقرر کر رکھی ہے۔ جتنی کمائی پولیس والے آج کل کر رہے ہیں، اتنی تو انہوں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچی ہو گی۔

ہمارے ارباب اختیار اور تاجر تنظیموں کے رہنما بڑھ چڑھ کر یہ مثالیں دیتے ہیں کہ دیکھو یورپ میں بھی نرمی کی گئی ہے اور امریکہ میں بھی کاروبار چل رہا ہے کیا وہ واقعی بھولے ہیں یا انہوں نے آنکھوں پر مکاری کا خول چڑھا رکھا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہاں لوگ ایس او پی پر عمل کرتے ہیں کوئی بھی ایسا شخص جس نے ماسک نہ پہنا ہو، خریداری کر ہی نہیں سکتا، پھر انہوں نے سماجی فاصلے کو یقینی بنایا ہے اور چھ فٹ کے فاصلے سے لوگ لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، تیسری بات یہ ہے کہ وہاں اندرون لاہور یا اندرون ملتان جیسے تنگ بازار نہیں، جن کے بارے میں مشتاق یوسفی نے لکھا تھا کہ اندرون لاہور کی گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ مرد اور عورت کے بیک وقت گزرتے ہوئے صرف نکاح کی گنجائش رہ جاتی ہے۔ لوگ دس دس فٹ کی دکانوں میں کام کر رہے ہیں اور سماجی فاصلہ رکھنے کی گنجائش ہی نہیں وہاں عثمان بزدار کا یہ حکم کیسے نافذ ہو سکتا ہے کہ ایس او پیز پر عمل نہ کیا گیا تو دکان سیل کر دی جائے گی جس تعداد میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران کورونا کیسز بڑھے ہیں اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر جگہ پھیل چکا ہے۔ ایک ڈاکٹر صاحب فرما رہے تھے کہ دس میں سے آٹھ افراد کورونا وائرس کے کیرئر ہیں لیکن ٹیسٹ نہ ہونے کیو جہ سے انہیں اس کا علم نہیں بزور طاقت کورونا کے خلاف حاصل کی گئی یہ آزادی کہیں بڑے عذاب کی شکل اختیار نہ کر لے۔

ہماری تاجر تنظیموں کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ بازار کھل جائیں تو وہ مڑ کر نہیں دیکھتیں کہ ایس او پیز پر عمل ہو رہا ہے یا نہیں میں نے کئی تاجر رہنماؤں کو تو فتح کے نشے میں سرشار دیکھا ہے۔ ملتان کے چند بڑے تاجر رہنماؤں نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ حکومت کو چار دن نہیں ساتوں دن کاروبار کھولنے کی اجازت دینی پڑے گی وگرنہ نتیجہ حکومت خود بھگتے گی۔ حکومت کی رٹ تو بس اتنی ہی تھی کہ دو چار بڑے شہروں میں تاجروں کی پولیس سے جھڑپ ہوئی تو حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے 22 کروڑ شہریوں کی حمایت کا دعویٰ کرنے والی حکومت اگر چند لاکھ تاجروں کے آگے گھٹنے ٹیک دے اور کورونا کی بڑھتی ہوئی وبا کے باوجود بازار کھولنے کی اجازت دیدے تو اسے ایک المیہ ہی قرار دیا جائے گا۔

المیہ تو شروع دن سے ہی چلا آ رہا ہے کہ کورونا کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا۔ کل ٹی وی چینل پر پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول یہ کہہ رہے تھے کہ ہر کورونا مریض کی موت پر حکومت کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے تین ہزار ڈالر ملیں گے، اس لئے اموات کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہے اب ایسے لوگوں کو آپ کیا کہیں گے، کیا آرمی کے میجر محمد اصغر کی موت کو بھی اسی کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ کیا جو ڈاکٹر اس کورونا وائرس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں وہ بھی تین ہزار ڈالر کی گیم کا شکار ہوئے ہیں ایسی باتیں عام آدمی کے دل میں کورونا کے حوالے سے مزید غیر سنجیدہ رویئے کو جنم دیتی ہیں دنیا بھر میں لاکھوں اموات کوئی فرضی کہانی نہیں بلکہ سامنے کی تلخ حقیقت ہیں۔ حکومتوں نے لاک ڈاؤن نرم کرنے کا فیصلہ عوامی ردعمل سے بچنے کے لئے کیا ہے لیکن اس فیصلے کی کیا قیمت چکانی پڑتی ہے، اس کا علم آئندہ دنوں میں اعداد و شمار سامنے آنے پر ہوگا۔ کاش عوام بھی یہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن میں اس نرمی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر بالائے طاق رکھ کر ہجوم در ہجوم باہر آ جائیں، یہ عمل بڑی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے، ہوش کے ناخن لیں، احتیاط کریں۔

مزید :

رائے -کالم -