آہ انکل سعید اظہر

آہ انکل سعید اظہر
 آہ انکل سعید اظہر

  

کچھ لفظ بڑے حساس ہوتے ہیں، ذراقلم سے چھولو تو آنسو بن کر ٹپکنے لگتے ہیں، کبھی زخم بن کر رسنے لگتے ہیں۔ آج کتنے دن ہوگئے میں ان لفظوں سے دور ہی رہی، میں جہاں سے گزرتی یہ وہیں موجود تھے لیکن نہ انہوں نے مجھے آواز دی نہ میں نے انہیں قلم کا راستہ دیا۔ شاید ہم دونوں ہی جانتے تھے کہ کبھی بڑی بے بسی ہوتی ہے، انصاف ہی نہیں ملتا، نہ لفظ کو قلم انصاف فراہم کرتا ہے، نہ قلم کو لفظ پکڑپاتے ہیں۔ یہ زندگی بھی تو کتنی عجیب ہے، جیسے جیسے اردگرد سے لوگ سائے بنتے جاتے ہیں یہ انہی کی آوازوں سے بھرتی چلی جاتی ہے۔ کئی دن پہلے اس دنیا سے میرا اْداس آنکھوں والے وہ چاچا بھی چلے گئے جنہیں اس دنیا سے لینے کیلئے میرے پاپا ضرور آئے ہوں گے۔ دونوں میں عجیب محبت تھی، ویسی ہی جیسے بچپن کی محبت ہوا کرتی ہے، منہ زور معلوم اور شرارتی۔ وہ دونوں اکٹھے ہوتے تو ان کے اردگرد کا وقت ہی بدل جاتا۔ پاپا کی شرارت یکدم عود آتی اور انکل سعید اظہر کی جھنجھلاہٹ میں بھی کبھی زمانے کا اثر دکھائی نہ دیا۔ وہ اکٹھے ہوتے تو وقت ان دو دوستوں کی ہاتھوں کی گیند بن جاتا۔ وہ ایک دوسرے کی طرف اْچھالتے رہتے، کھیلتے رہتے اور اردگرد کے لوگ اس خوبصورتی، اس محبت کی پھوار میں بھیگتے رہتے۔ میں نے اپنے پاپا کے جانے کے بعد ان کے دوستوں سے بے پناہ محبت کی، وہ ہی تو میرے باپ کا عکس تھے۔

ان میں سے ہر ایک سے مجھے اپنے پا پا کی خوشبو آتی تھی۔ ان کی مسکراہٹ میں میرے پاپا کی دوستی کی روشنی دکھائی دیتی رہی۔ مجھے لگتا رہا میرے پاپا دکھائی نہیں دیتے لیکن وہ میرے پاس ہیں لیکن میں انکل سعید اظہر سے چاہ کر بھی دوبارہ نہ مل سکی۔ میں ان کی آواز میں موجود تھکن برادشت نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے ان سب لوگوں کو کتنا مضبوط، کتنا طاقتور، کتنا زندگی سے بھرپور دیکھا ہے، انہیں بیمار اور اداس کیسے دیکھتی۔ انہوں نے لکھا ”فاروق میرے آگے پیچھے رہتا اور میں روتا رہتا ہوں۔ اسے شروع ہی سے میرے اردگرد رہنے کا شوق تھا اور مجھے آج اس کی یاد میں رونے کی رفاقت میں زندگی ملتی ہے“میں نے اس کالم کو جانے کتنی بار پڑھا اور پھر اس کا جواب بھی لکھا۔ انکل سعید اظہر کا نمبر تلاش کیا لیکن انہیں فون کرنے کی ہمت مجتمع نہ کر سکی، میں شاید کر ہی نہیں سکتی تھی اوراب وہ اس دنیا میں ہی نہیں رہے۔ دونوں دوست مل گئے ہوں گے اور بڑی لمبی باتیں ہوئی ہوں گی، گلے شکوے تو وہ نہ پہلے کبھی ایک دوسرے سے کرتے تھے نہ اب کئے ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کی رفاقت میں خوش رہتے تھے، اب بھی خوش ہوں گے۔ بڑا وقت دونوں نے ایک دوسرے سے ملے بغیر گزارا ہے اب باتیں ہورہی ہوں گی۔

انکل حسین پراچہ نے مجھے فون کیا وہ مجھے انکل سعید اظہر کے چلے جانے کا بتانا چاہتے ہوں گے لیکن میں فون ہی نہ اْٹھا سکی، کسی وجہ سے مصروف تھی۔ انکل حسین پراچہ بھی کمال کے آدمی ہیں، میرے پاپا کے بڑے پیارے دوستوں میں سے ہیں۔ یوں تو وہ ہم سب سے ہی بہت محبت کرتے ہیں لیکن میرے لاہور شفٹ ہوتے ہی انہوں نے مانئے مجھے گود لے لیا ہے۔ جب سر پر ایسے بڑے سلامت ہوں تو اپنے محفوظ ہونے کا خیال ہمیشہ ہی سر پر سایہ کئے رکھتا ہے۔ وہ جب محبت سے فون کرتے ہیں مجھے بلاتے ہیں میں اپنے پا پا کیلئے بھی دعا کرتی ہوں جن کی اتنے محبت کرنے والے اتنے مخلص ایسے خوبصورت لوگوں سے دوستی تھی۔ انکل نے مجھے فون پر میسج بھیج دیا اور جب میں نے وہ میسج پڑھا تو دل مانئے کسی نے مْٹھی میں لے لیا۔ یہ اتنے پیارے لوگ میرے پاپا کی یاد یوں زندگی کے مجسمے کیساتھ سے بھرتی چلی جارہی ہے اور ہم سب خاموش ہیں، اندر ہی اندر سسک رہے ہیں، گھٹ رہے ہیں۔ اندر کا اندھیرا بڑھتا جارہا ہے کیونکہ یہ تو روشنی کی کرنیں ہیں جو آہستہ آہستہ بجھ رہی ہیں۔ ہم تو بچپن سے اتنے تناور درختوں کے سائے میں کھیلتے رہے، اب کیسے یہ درخت اپنے اپنے سائے سمیٹ کر دوسری جانب کوچ کررہے ہیں۔ ہمیں یہاں دھوپ میں جھلستے چھوڑ کر، اپنے دوستوں کیساتھ اکٹھے ہو رہے ہیں۔ ہائے یہ خالی دنیا، ان میں سے ہر ایک جاتے جاتے ہمارابچپن تھوڑاسا نوچ کر اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ ہمارے قد تھوڑے اور بڑے اور دل تھوڑے اور خالی ہوتے جاتے ہیں۔ شاید زندگی کی یہی حقیقت ہے کہ جن سایوں کو ہمیشہ اپنا حق سمجھا،ان پر کبھی زندگی کی بے ثباتی کا اثر ہوگا، یہ حساب ہی نہ کیا۔

اب ایک ایک کر کے سارے مسافر رخصت ہورہے ہیں تو نظر آنے لگا ہے کہ اب فاصلہ بھی کم رہ گیا ہے لیکن اس کم فاصلے کے باوجود بھی دھوپ کا یہ سفر بڑا ہی تکلیف دہ لگتا ہے۔ انکل سعید اظہر چلے گئے اب کوئی کبھی یہ نہ کہے گا۔ اوئے مجھے انکل نہ کہا کر، چاچا کہا کر۔چاچے سے محبت ہوتی ہے، انکل تو بڑا ملیریا زدہ لگتا ہے۔ اب وہ ہاتھ کبھی دوبارہ میرے سر کیلئے نہ اْٹھے گا۔ میری آنکھوں سے وہ آخری ملاقات کا منظر نہیں جاتا، پاپا کی وفات پر انکل جب گیٹ سے اندر داخل ہوئے تھے تو میں بھاگ کر ان سے لپٹ گئی تھی اور وہ کچھ نہ بولے! ہم دونوں کتنی دیر خاموش ان کرسیوں پر بیٹھے رہے، میں روتی رہی وہ بھی روتے رہے، پھر اْٹھ کر اندر امی کے پاس چلے گئے، کہنے لگے رولے جتنا رونا ہے، اب تو یہ ساری عمر چلنا ہے۔ میں جانتا ہوں تمہارا کتنا بڑا نقصان ہوگیا اور آج میں وہ منظر بھول جانا چاہتی ہوں۔ میں گرمیوں کی دوپہر میں بس انہیں بیڈ پر نیم دراز کالم لکھتے یاد رکھنا چاہتی ہوں۔ میں ان کے گھر میں ناشتہ کرتے ہوئے ان کی باتوں کو یاد رکھنا چاہتی ہوں۔

میں وہ پہلی پتنگ یاد رکھنا چاہتی ہوں جو انہوں نے مجھے اس لئے خرید کر دی تھی کیونکہ مجھے اجازت نہ تھی اور وہ بچپنے کے قائل تھے، آزادی کے قائل تھے، میں ان کے ہاتھ کا اپنے سر پر لمس یاد رکھنا چاہتی ہوں۔ میں یہ یاد رکھنا چاہتی ہوں کہ میانی کا قبرستان انہوں نے مجھے دکھایا تھا۔ اب اسی قبرستان میں ان کے نام کی تختی ہے، میں یہ یاد نہیں رکھ سکتی کیونکہ میرے پاپا اور میرے انکل سعید اظہر تو یہیں ہیں میرے پاس میرے سامنے، اس وقت سے اس وقت کے درمیان کا دروازہ ہی تو کھولنا ہے، وہ بس جب چاہوں گی کھول لوں گی۔

میں ان کے گھر میں ناشتہ کرتے ہوئے ان کی باتوں کو یاد رکھنا چاہتی ہوں۔ میں وہ پہلی پتنگ یاد رکھنا چاہتی ہوں جو انہوں نے مجھے اس لئے خرید کر دی تھی کیونکہ مجھے اجازت نہ تھی اور وہ بچپنے کے قائل تھے، آزادی کے قائل تھے، میں ان کے ہاتھ کا اپنے سر پر لمس یاد رکھنا چاہتی ہوں۔ میں یہ یاد رکھنا چاہتی ہوں کہ میانی کا قبرستان انہوں نے مجھے دکھایا تھا۔ اب اسی قبرستان میں ان کے نام کی تختی ہے، میں یہ یاد نہیں رکھ سکتی کیونکہ میرے پاپا اور میرے انکل سعید اظہر تو یہیں ہیں میرے پاس میرے سامنے، اس وقت سے اس وقت کے درمیان کا دروازہ ہی تو کھولنا ہے، وہ بس جب چاہوں گی کھول لوں گی۔

نوٹ: مریم گیلانی نامور بیورو کریٹ اور دانشور فاروق گیلانی مرحوم کی صاحبزادی ہیں اور کئی سال پہلے روزنامہ پاکستان میں باقاعدہ کالم لکھتی رہی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -