شیخوپورہ میں دیرینہ دشمنی جاگ گئی

شیخوپورہ میں دیرینہ دشمنی جاگ گئی

  

ایک خاندان کے 8افراد کے قتل کی لرزہ خیر واردات

ضلع شیخوپورہ شروع سے جرائم، قتل وغارت میں پنجاب بھر میں اپنا منفرد مقام رکھتا ہے،گذشتہ ڈیڑھ دھائی سے ننکانہ صاحب کے علیحدہ ضلع بننے کے بعد یہاں پر جرائم میں غیرمعمولی حدتک کمی واقع ہوئی،البتہ ضلع شیخوپورہ کے بعض دیہات جہاں پر نسل درنسل دشمنیاں چلی آیا رہی تھی وہاں پر قتل و غارت کے واقعات رونما ہوتے رہتے تھے،مگر ضلع شیخوپورہ میں جو شعلے آج سے پندرہ سال قبل آئے روز بڑھکتے تھے وہ کافی حدتک کم ہوچکے ہیں،معاشرے میں اکثر اوقات چھوٹے چھوٹے لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں جن سے بھی ہمیں اجتناب کرنا چاہیے برداشت اور صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہونا چاہیے انہی چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے کئی مرتبہ پورے پورے خاندان تباہ و برباد ہو جاتے ہیں،اسی قسم کا ایک واقعہ دو روز قبل ضلع شیخوپورہ کے تھانہ بھکھی کے علاقہ فیصل آباد روڈ پر گاؤں کھاریانوالہ میں پیش آیا،جہاں پرایک خاتون سمیت 08افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا،جس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ آج سے تقریباََ ایک ماہ قبل خادم حسین اور غلام رسول کے خاندانوں کے بچوں کے درمیان پتنگ بازی کے دوران ہونیوالہ معمولی جھگڑا طول پکڑ گیا اور خادم حسین وغیرہ نے چھریوں کے پے در پے وار کر کے غلام رسول کے دو بیٹوں انور سجاد اور فیض الرسول کو شدید زخمی کر دیا تھا، جس کا مقدمہ نمبر 252/20تھانہ بھکھی میں غلام رسول کی مدعیت میں خادم حسین،عرفان، علی شان، عمران،گل باز اور دو نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور ملزمان گرفتار ہوئے،گذشتہ روز اس مقدمہ میں ملزمان رہا ہوئے اور مورخہ 09مئی بروز ہفتہ کو صبح غلام رسول، انور سجاد اور فیض الرسول وغیرہ درجن سے زائد جدید اسلحہ سے لیس مشتبہ افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک ہی خاندان کے 06افراد خادم حسین،اسکی بیوی بشیراں بی بی، اسکے بیٹے دل شان،اورمحمد طفیل،اکبر علی سمیت دومزدوروں یاسین، تنویر حسین اور وحید کو موت کے گھاٹ اتار دیا، ملزمان کی فائرنگ سے دو افراد قربان علی اور رمضان شدید زخمی ہوگئے جنہیں سول ہسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے،مشتبہ افراد کی جدید اسلحہ سے کی جانیوالی فائرنگ سے کھاریانوالہ اسکے گردو نواح اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے پوسٹمارٹم ہاؤس میں کہرام مچا رہا، مقتولین کی لواحقین خواتین دھاڑے مار مار کر روتی رہیں، ملزمان دن دھاڑے اعجاز سپیننگ ملز کے قریب، کھاریانوالہ گاؤں کے پر ہجوم مقام اور گاؤں سے چند فرلانگ کے فاصلہ پر واقعہ مقتولین کے ڈیرہ پر گھنٹوں خون کی ہولی کھلتے رہے، تھانہ بھکھی پولیس نے مقتولین کے ورثاء کی نشاندہی پر دو افراد بابا طارق شاہ کے بیٹوں نعیم شاہ اور امین شاہ کو گرفتار کر لیا ہے،تھانہ بھکھی میں گرفتار ہونیوالے افراد میں سے ایک ملزم نعیم شاہ امن کمیٹی کا ممبر ہے اور یہ معلوم ہوا ہے کہ جب ایک ماہ قبل غلام رسول اور خادم حسین کے بچوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا تو بابا طارق شاہ نے دونوں گرپوں کے درمیان صلح کروانے کی کوشیش کی تھی مگر خادم حسین وغیرہ کو شق تھا کہ وہ غلام رسول وغیرہ کے ساتھ ساز باز ہیں، ایک اطلاع کے مطابق غلام رسول اور مقتول خادم حسین آپس میں قریبی رشتہ دار ہیں اور یہ دونوں کیمبوکے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ کیمبوکے خاندان اکثر جھگڑالو ہوتے ہیں،تھانہ بھکھی میں مذکورہ واقعہ کے درج ہونیوالے تین مختلف مقدمات کے مطابق پہلے واقعہ میں مدعی مقدمہ عمران علی ولد منظور احمد ساکن ماہ دیوی کی تحریر کے مطابق وہ دل شان علی،یاسین، ریاست اور قربان علی کے ساتھ دو موٹرسائکلوں پر سوار ہو کر نشاط ملز جارہے تھے کہ اعجاز سپیننگ ملز کے قریب پہلے سے گھات لگائے کھڑے ملزمان عبدلکریم عرف کریما، انور فیاض عرف کٹو، اور تعظیم شاہ نے جدید اسلحہ سے فائرنگ شروع کر دی جس سے دل شان اور یاسین موقع پر جانبحق ہوگئے اور قربان شدید زخمی ہوگیا، جبکہ میں اور ریاست معجزانہ طور پر محفوظ رہے،دوسرے واقعہ میں مدعی مقدمہ عمران علی ولد خادم حسین کی تحریر کے مطابق میں اپنے والد خادم حسین اور والدہ بشیراں بی بی کے ساتھ اپنے گھر واقع کھاریانوالہ سے نکل کر ڈیرہ کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں کھڑے ملزمان عبد الرحیم، نعیم شاہ، غلام رسول۔ یونس عرف یونی نے فائرنگ کر کے میری والدہ اور والد کو موت کے گھاٹ اتار دیا، تیسرے واقعہ میں مدعی مقدمہ رمضان ولد خادم حسین کی تحریر کے مطابق وہ مقتولین طفیل،اکبر، تنویر اور وحید کے ساتھ اپنے ڈیرہ پر موجود تھا کہ ملزمان فخر رسول عرف فیصل جٹ،عبد القیوم، انور سجادعرف صابو، فیض الرسول عرف مندری، شہباز عرف بگا، مقبول عرف خرمی اور دو کس نامعلوم نے حملہ کر کے فائرن شروع کر دی جس کے باعث طفیل،اکبر، تنویر اور وحید چاروں افراد خالق حقیقی سے جاملے،تھانہ بھکھی پولیس کے متاثرین کی منشاء کے مطابق ایف آئی آر ز کے اندراج کے بعد بھی جب مقتولین کے لواحقین مطمین نہ ہوئے تو مل؛زمان کی عدم گرفتاریوں کی بنا پر خواتین کے نعشیں سڑک کے درمیان رکھ کر ٹراما سینٹر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کے دوران لاہور سرگودھا روڈ کی ٹریفک مکمل طور پر کئی گھنٹے بلاک کئے رکھی،جبکہ ڈی پی او شیخوپورہ نے اس واقعہ کے فورہ بعد کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے نپٹنے کے لیئے اور علاقہ میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر گاؤں کھاریانوالہ اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں ضلع بھر کے تمام ایس ایچ اووز صاحبان، پولیس لائن کی نفری، الیٹ فورس اور پی سی فاروق آباد کے جوانوں پر مشتمل فورسیز کو تعینات کیے رکھا،اس موقع پر ڈی پی او شیخوپورہ غازی صلاح الدین اور ایس ایچ او تھانہ بھکھی عمر شیراز گھمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وقوع کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی،اور زخمیوں کوہسپتال منتقل کیا، ملزمان کے تعاقب اور ان کی گرفتاری کے لیے ایک ٹیم فورا روانہ کر دی اور قتل ہونے والے افراد کی لاشوں کواپنی تحویل میں لے کر پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال روانہ کیا، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور شیخوپورہ کرائم سین کی ٹیموں نے جائے وقوعہ کو کارڈن کر کے تمام ثبوت اور شواہد اکٹھے کیے، ملزمان کو پکڑنے کے لئے چار ٹیمیں تشکیل دے کر ا ن کو ملزمان کے تعاقب او ر فوری گرفتاری کے لیے روانہ کر دیاہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -