پولیس افسر و اہلکار بھی کورونا سے بُری طرح متاثر

پولیس افسر و اہلکار بھی کورونا سے بُری طرح متاثر

  

کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے مریضوں اور ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔کرونا وائرس سے پولیس اہلکار بھی محفوظ نہیں، قرنطینہ مراکز ہوں یا بیشتر(کورونا) وائرس کے خطرے کے پیش نظر لاک ڈاؤن کیے گئے علاقے، ہر وہ جگہ جہاں خطرہ ہے وہاں پولیس موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو خطرے سے بچاتے بچاتے کچھ پولیس افسر خود بھی مصیبت کا شکار ہوئے ہیں پنجاب کے مختلف اضلاع میں کورونا وائرس سے ایک روز میں 46 پولیس اہلکار متاثر،جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 200سے زائد پولیس اہلکار، ڈاکٹرز،ہسپتال کا عملہ،سول جج، ایک اسسٹنٹ کمشنر اور ایک ٹیچنگ ہسپتال کے پرنسپل میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔لاہور پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور ایک روز میں 70افراد میں وائرس کی تشخیص جس میں 22پولیس اہلکار بھی شامل تھے اسی طرح بہاول پور میں بھی ایک روز میں 28 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی جس میں سے 24 پولیس اہلکار شامل ہیں۔ بہاول پور میں اس سے قبل 3 پولیس اہلکاروں میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور انہیں علاج کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔مظفر گڑھ، پنجاب کے اس ضلع میں بھی 6 پولیس عہدیداروں کو کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔واضح رہے کہ 119 پولیس عہدیداروں کے نمونے لے کر ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔جن میں سے 22میں کورنا وائرس کی تشخیص ہو گئی۔ٹوبہ ٹیک سنگھ، میں 3 پولیس اہلکاروں سمیت 5 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے،چک 151-جی پی کے ٹیکسٹائل ورکر اور 3 پولیس اہلکار، جو ڈی ایچ کیو ہسپتال کے آئیسولیشن وارڈ کے باہر تعینات تھے، وہ اس سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ ایک 50 سالہ خاتون جو ایک ہفتے قبل ڈی ایچ کیو ہسپتال میں انتقال کرگئی تھیں انہیں بھی کورونا وائرس کا مثبت کیس قرار دیا گیا جبکہ ان کے 4 بچوں کے نتائج منفی آئے۔خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور اب تک 28 ہزار 843 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ اموات میں بھی روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اس وائرس سے نہ صرف عام لوگ بلکہ فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکس اور پولیس اہلکار بھی متاثر ہورہے ہیں۔گزشتہ دنوں سندھ میں بھی پولیس کے 115 افسران و اہلکاروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ اب تک وہاں 2 پولیس اہلکار اس وائرس کے باعث انتقال بھی کرچکے ہیں۔فرنٹ لائن پر کام کرنے والی اس فورس کو ہمیں سیلوٹ پیش کر نا چاہیے کیو نکہ آج تک ایک بھی ایسی خبر نہیں آئی کہ کسی پولیس اہلکار نے کہا ہو کہ وہ خطرات کے باعث ملازمت نہیں کرنا چاہتا۔ایسے حالات میں کہ جب سب کو گھر بیٹھنے کی تنبیہ کی جارہی ہے پولیس اہلکاروں کو گھر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ ہنوز دفتر جارہے ہیں، ان کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں اور کوئی اہلکار یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ڈیوٹی پر نہیں جانا چاہتا، تمام معاملات میں پولیس کا بھی ایک بہت بڑا کردار رہا۔اس کے علاوہ بھی پولیس بہت ساری ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے،جس میں افسران سے لے کر پولیس وین کے ڈرائیور تک شامل ہیں۔رمضان المبارک میں امن و امان کو برقرار رکھنے کی زمہ داری بھی پولیس پر عائد ہو تی ہے،سحری افطاری اور نمازوں کے اوقات میں پولیس مساجد کی ڈیوٹیاں چیک کرنے اور نمازیوں کو کرونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کروانے کے لیے دن رات کی پرواہ کیے بغیر اپنی خدمات سر انجام دیرہی ہے۔پنجاب پولیس کامیابیوں کے نئے معرکے سر کر رہی ہے۔ پنجاب پولیس نے کورونا میں جس طرح اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور جس طرح فرنٹ لائن پر آ کر کورونا کے خلاف سینہ سپرہوئی اس کی تعریف صرف حکومتی اور صحافتی حلقے ہی نہیں کر رہے بلکہ عوام بھی بھرپور انداز میں سراہتے نظر آتے ہیں۔ اس سے پولیس کا روایتی تاثر زائل ہوا ہے اور فرض شناسی کی نئی مثالیں قائم ہونے کے ساتھ اس کا مورال بھی بلند ہوا ہے۔ پولیس اہلکار ناکوں سے لے کر قرنطینہ سینٹرز تک اور کورونا مریضوں کو ہسپتالوں تک لیجانے سے لے کر ان کی تدفین تک کے مراحل میں فرنٹ لائن پر نظر آ رہے ہیں۔کرونا وائرس پنجاب بھر میں تیزی سے پھیلنا شروع ہو گیا ہے اور لوگوں نے لاک ڈاؤن کی پرواہ کیے بغیر گھروں سے باہر نکلنا شروع کردیا ہے جو کہ ان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ڈاکٹرز وائرس کا شکار ہوئے تو اس کے ساتھ پنجاب پولیس کے جوانوں میں بھی کرونا کیسز سامنے آ گئے، آج سے صرف 12 روز قبل لاہور میں 11، پاکپتن میں 5، نارووال میں 4 اور آئی جی آفس کے ایک اہلکار میں کرونا وائرس کی تشخٰص ہو گئی تھی اس دوران. پنجاب پولیس کے سو سے زائد افسران و اہلکاروں کے ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 52 کی رپوڑت منفی آئی جبکہ 28 کرونا وائرس ک شکار ہو گئے.دوسری جانب لاہور کے تھانہ رائیونڈ میں تعینات ہونے والے دو ایس ایچ اوز کرونا وائرس کا شکار ہوئے، ایس پی صدر غضنفر شاہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایس ایچ او رائیونڈ سبطین شاہ کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد چوکی انچارج اڈا پلاٹ حیدر کو قائم مقام ایس ایچ او رائیوند لگایا گیا، اگلے روز قائم مقام ایس ایچ او حیدر کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا، اور انہیں ایکسپو سینٹر لاہور کے قرنطینہ سینٹر میں منتقل کر دیا گیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب پولیس میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے، لاہور سمیت پنجاب بھر میں 59 اہلکاروں میں کورونا وائرس کی تصدیق جبکہ 105 اہلکاروں کو قرنطینہ منتقل کیا جا چکا ہے،کورونا کیخلاف فرنٹ لائن پرلڑنے والی پنجاب پولیس کے کورونا کا شکار ہونے کے بعدآئی جی پنجاب نے اہم مقامات پر ڈیوٹیاں دینے والے اہلکاروں کا صوبہ بھر میں ٹیسٹ کروانے کا حکم دیدیا ہے۔جس کے بعد پولیس میں ٹیسٹنگ کا عمل تیزکردیا گیا ہے،ایڈیشنل آئی جی آپریشنزپنجاب انعام غنی کے مطابق لاہورسمیت پنجاب بھر سے 2ہزار 713 ملازمین کے ٹیسٹ کروائے جاچکے ہیں، اب تک موصول ہونیوالے نتائج میں 59کے مثبت جبکہ 105کو قرنطینہ میں منتقل کیا گیا ہے اور 2 ہزار 126کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں، سب سے زیادہ تعدادلاہورکی ہے، جہاں 32افسران و اہلکارمتاثرہوئے ہیں، متاثر ہونیوالوں میں زیادہ تر تعداد کورونا کے حوالے سے مختلف مقامات پر ڈیوٹیاں کرنیوالوں کی ہے۔ ایڈیشنل آئی جی کے مطابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیرنے بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کا نوٹس لیتے ہوئے قرنطینہ سنٹرز،احساس پروگرامزاور ناکوں پرڈیوٹی دینے والوں کے فوری ٹیسٹ کروانے کا حکم دیا ہے،تمام متعلقہ آر پی اوز اور ڈی پی اوزکوزیرعلاج اہلکاروں کا خصوصی خیال رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔دوسری جانب آئی جی پنجاب کے حکم پر ڈی آئی جی ویلفیئر نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے اہلکاروں و افسران کے لیے حفاظتی سامان کا استعمال یقینی بنانے کے لیے ڈیمانڈ کا مراسلہ بھجوایا ہے، مراسلے میں ہدایت جاری کی گئی ہے کہ تمام اضلاع و یونٹس حفاظتی سامان ویلفیئر فنڈز سے خریدیں، جن اضلاع و یونٹس کے پاس ویلفیئر فنڈز نہیں وہ تمام تفصیلات آئی جی آفس کو بھجوائیں، ان کو آئی جی آفس کے ویلفیئر فنڈز سے سامان مہیا کیا جائیگا، جبکہ سامان کی خریداری کے لیے فنڈز بھی جاری کیے جائیں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -