انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے سٹاف کو دھمکی

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے سٹاف کو دھمکی

  

ایک قومی روزنامہ کی حالیہ رپورٹ میں امریکی حکمران طبقہ کو انسانی تباہ کاریوں کا سب سے بڑا ذمہ دار کہا گیا ہے۔ یہ چینی رپورٹ چند روز قبل منظر عام پر لائی گئی۔ جس میں واضح طور پر امریکی انتظامیہ کو آئی سی سی (عدالت) کے سٹاف کو فنڈز منجمد کرنے، معاشی پابندیوں کی دھمکی دیتے ہوئے جنگی جرائم کی تحقیقات سے روکا گیا۔ رپورٹ مذکور میں اطلاعاً مزید بتایا گیا ہے کہ عراق افغانستان، شام اور یمن کی جنگوں میں امریکہ ملوث رہا ہے۔ جس سے کافی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتیں اور مالی نقصان ہوا جو چین کی جاری کردہ مبینہ رپورٹ میں ظاہر کیا گیا ہے کہ خصوصاً 2019ء سے امریکہ میں انسانی حقوق کی صورت حال بہت کمزور اور خراب دیکھنے میں آ رہی ہے۔ سٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس کی جانب سے جاری رپورٹ شائع شدہ اعداد و شمار، میڈیا رپورٹس اور تحقیقی نتائج پر مبنی ہے۔ جس میں کہا گیا کہ کیوبا کے خلاف معاشی پابندی اور وینزویلا کے خلاف یک طرفہ پابندیاں ان ممالک کے عوام کے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی تھی۔

مذکورہ بالا تازہ منکشف حقائق سے عیاں ہو تا ہے کہ آئی سی سی کے سٹاف کو فنڈز منجمد کرنے کی معاشی پابندیوں کی دھمکی دے کر جنگی جرائم کی تحقیقات سے روکنا اور اس عالمی عدالت کو آزادی سے اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی سے باز رکھنا سراسر غیر قانونی کاروائی ہے۔ ان حالات میں جب یہ بین الاقوامی (فوجداری) کریمینل کورٹ غیر جانبداری سے کام نہیں کر سکے گی تو پھر متعلقہ قوانین اور انصاف کے تقاضے کیسے پورے ہو سکیں گے۔؟

اس بین الاقوامی عدالت کے معمول کار میں اثر انداز ہونے پر امریکہ یا کسی دیگر ملک کے کسی شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر بھی متعلقہ قوانین کا اطلاق کر کے ان کی بازپرس اور سرزنش کے ساتھ قانونی کارروائی کا باضابطہ آغاز کر کے ذمہ دار حکام اور افراد کی نشاندہی کر کے موردِ الزام قرار دینے کا عمل اپنایا جائے۔ امید ہے ایسی دھمکی کی کارروائی میں امریکی یا دیگر کسی ملک یا ادارے کی جانب سے کوئی دخل اندازی، رکاوٹ، دھمکی، ریاستی دہشت گردی یا ذرائع ابلاغ میں جارحانہ اور ظالمانہ انداز کی بیان بازی نہیں اختیار کی جائے گی۔

چینی حکومت کی جانب سے ایسی رپورٹ کو منظر عام پر لانے سے اس کی جرأت و ہمت پر مبنی کارکردگی بلا شبہ قابل تحسین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا بھر کے مہذب انسانی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی قوانین کی حکمرانی اور بالا دستی کے حامی ممالک کے حکمران بھی جلد اس اقدام کی حمایت کر کے نہ صرف چینی حکومت کی مثبت کارکردگی کو سراہیں، بلکہ وہ بھی کسی مذہب رنگ و نسل، علاقہ، خطہئ ارض اور دفاعی و معاشی بلاک کی وابستگی کے بغیر اقوام متحدہ کے تحت کسی ادارہ کو آزادی اور متعلقہ قوانین کے مطابق اپنی ذمہ داری سر انجام دینے میں اپنے غیر مشروط اور بھرپور تعاون اور امداد کا یقین دلائیں۔ اگر وہ عالمی سطح پر قیام امن قانون کی حکمرانی اور اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل درآمد کے لئے اپنا مثبت اور مؤثر کردار ادا نہیں کریں گے تو آئندہ بھی چند بڑی طاقتوں کی من مرضی سے دنیا کے کسی خطہئ ارض میں امن و امان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

جبکہ اقوام متحدہ کو تقریباً 75 سال قبل وجود میں لانے کا ایک بڑا مقصد ہی یہ تھا کہ کمزور، پس ماندہ اور غریب ممالک کے لوگوں کی انسانی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دے کر ان کی محرومیوں اور نا انصافی کی سابقہ اور مروجہ کارروائیوں کا حتیٰ المقدور جلد خاتمہ یا سد باب کر کے دیگر لوگوں کے برابر زندگی کی سہولتیں اور مراعات فراہم کرنے کی کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔ اگر ایسے طرز عمل کے حصول کے لئے ماضی میں صحیح منصفانہ، معیار اور مطلوبہ انداز ہائے کار اختیار کئے گئے ہوتے تو امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس یا ان کے اتحادی بعض دیگر ممالک بلا روک ٹوک مختلف خطہ ارض میں گاہے بگاہے دیگر ممالک کے ما لی وسائل پر قابض ہونے اور ان کو معاشی، دفاعی اور ثقافتی لحاظ سے کمزور، مفلوج، بے بس اور قلاش کرنے کی غلط کاری پر مبنی، حملہ آوری کی وارداتوں کے ارتکاب کی جسارتیں نہ کرتے۔ یوں عراق، افغانستان، یمن، شام، ویت نام، لیبیا وغیرہ میں لاکھوں بے قصور انسانوں کی ہلاکتوں کے تباہ کن اور افسوس ناک واقعات رونما نہ ہو سکتے۔ اقوام متحدہ کا قیام سال 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد معرض وجود میں لایا گیا تھا۔

دہشت گردی کے ارتکاب کی الزام تراشی، مسلمانوں کے جائز حقوق کے حصول میں ایک بڑی رکاوٹ اختراع کرنے والے ممالک کے حکمران اور ان کے اتحادی کون ہیں؟ وہ حکمران اپنے تئیں ترقی یافتہ اور انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبردار ہونے کے دعویدار ہیں لیکن وہ مسلم مفادات کو بعض اوقات نقصان دے کر تباہ کرتے رہتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی مذکورہ بالا کارروائیاں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تحفظ کے سراسر منافی ہیں۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے اہل کاروں کو فنڈز منجمد کرنے اور معاشی پابندیوں کی دھمکی دے کر جنگی جرائم کی تحقیقات سے روکنا، غیر قانونی حرکات ہیں۔ اس عدالت سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ممالک کے ایک خصوصی اجلاس میں زیر بحث لا کر استدعا کی جائے کہ وہ اپنے اہل کاروں کو دی گئی مذکورہ بالا نوعیت کی دھمکیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر جارحیت کار ایک یا زیادہ ممالک کے حکمرانوں کے خلاف تادیبی کاروائی یا کم از کم انہیں سخت وارننگ دے کر آئندہ ایسی غیر قانونی کارروائیوں سے باز رکھنے کا حکم جاری کیا جائے۔ یاد رہے کہ عراق، افغانستان، شام، یمن اور لیبیا میں، لا تعداد بے قصور افراد کو محض مسلمان ہونے پر شہید، زخمی، معذور، بے گھر اور قیمتی املاک سے محروم کیا گیا۔ موجودہ جدید دور میں طاقتور اقوام کی ایسی عادات اور حرکات، جلدترک کر دی جائیں۔ دہشت گردی کا مسلمانوں پر الزام تراشی اور توہین رسالتؐ کی کارروائیاں، مخالف قوتوں کی سازشی چالبازی کے حربے ہیں۔ اقوام متحدہ کا تسلسل اگر جاری رکھنا ہے تو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے تحفظ پر دیانتداری سے عمل کیا جائے۔ اگر مسلم مفادات کو نقصانات سے دو چار کیا جاتا رہا، تو اس عالمی ادارے کا بدقسمتی سے مستقبل بھی تاریک اور عارضی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -