کورونا ایمرجنسی۔۔۔۔پولیس کیا کر رہی ہے؟

کورونا ایمرجنسی۔۔۔۔پولیس کیا کر رہی ہے؟

  

سید مبشر حسین

عالمی وباء کورونا کے خطرناک اور جان لیوا اثرات سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کی طرح صوبائی دارالحکومت میں جاری سمارٹ لاک ڈاؤن کودیڑہ ماہ سے زائد کا عرصہ مکمل ہو گیا۔ لاہور پولیس نے اس دوران پیشہ وارانہ انداز میں شہر میں جرائم کے تدارک کے ساتھ شہریوں کو کورونا سے محفوظ رکھنے کے لئے حفاظتی اقدامات یقینی بنا ئے۔کورونا وباء کی حالیہ صورتحال کے دوران لاہور پولیس کا انتہائی مثبت اور قائدانہ کردار سامنے آیا۔ محدود وسائل اور نفری میں کمی کے باوجود لاہورپولیس کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ تمام شعبہ ہائے زندگی میں لاہور پولیس کے افسران اور جوان انتہائی متحرک اور شہریوں کی مدد کرتے دکھائی دیئے۔سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران پولیس ناکوں پر 02 لاکھ25ہزار سے زائد افراد کو روک کر نقل و حرکت کی وجوہات دریافت کی گئیں جبکہ غیر ضروری طور پر سڑکوں پر آنیوالے02 لاکھ سے زائد شہریوں اور گاڑی مالکان کو وارننگ جاری کر کے گھروں کو واپس بھیجا گیا۔ سڑکوں پر آنے والی چھوٹی بڑی01لاکھ98ہزار سے زائد وہیکلزکو چیک کیا گیا۔ خلاف ورزی کرنے والی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو مختلف تھانوں میں بند کیا گیا۔قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف مجموعی طور پر2186مقدمات درج کئے گئے۔ لاہور پولیس کے ان اقدامات کا مقصد شہریوں کو تنگ کرنا نہیں بلکہ کورونا وائرس سے بچانے کے لئے غیر ضروری نقل و حرکت سے روکنا اور گھروں تک محدود رکھنا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کی سپر ویڑن میں یہ تمام اقدامات احسن انداز میں جاری ہیں۔

شہر کے مختلف مقامات پرناکے اور چیکنگ پوائنٹس بنائے گئے ہیں۔ناکوں اور پبلک ڈیلنگ والے تمام مقامات پر تعینات جوانوں کو حفاظتی ماسک، گلوز، سینیٹائزر سمیت کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی کیونکہ فیلڈ ڈیوٹی اور پبلک ڈیلنگ کی وجہ سے پولیس فورس کو کورونا وائرس کے خطرات کادیگر افراد سے کہیں زیادہ سامناہے۔پولیس فورس میں اب تک تقریبا06ہزار پی پی ای کِٹس،87ہزار سے زائد حفاظتی ماسک،01لاکھ14 ہزارجوڑی گلوز،05ہزار سے زائد میڈیکل گلوز،12ہزار سے زائد سینیٹائزرز،04 ہزار رین/ سیفٹی سوٹس،11 سو حفاظتی عینکیں اور 35ہزار سے زائد صابن تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ پولیس ناکوں کے علاوہ تھانوں، قرنطینہ مراکز، کفالت سینٹرز سمیت پبلک ڈیلنگ مقامات پر تعینات تمام پولیس ملازمین کوحفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال سے غریب نادار، دیہاڑی دار، مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ لاہور پولیس مصیبت کی اس گھڑی میں ایسے مستحق افراد کی امداداور دل جوئی میں پیش پیش رہی ہے اور مالی طور پر غیر مستحکم اور متاثرہ خاندانوں کی امداد کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔لاہور پولیس کے کانسٹیبل سے لے کر اعلیٰ افسران تک تمام ملازمین نے پولیس ریلیف فنڈ میں اب تک تقریباََ02 کروڑ روپے سے زائد کی خطیررقم اکٹھی کی۔ اس رقم سے اب تک10 ہزار500 سے زائد راشن بیگز مستحق خاندانوں میں تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ راشن بیگز شہر کے تمام علاقوں کے رہائشی دیہاڑی دار، غریب اور مزدور خاندانوں میں روزانہ کی بنیاد پر گھر گھر جا کر تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ شہریوں میں تقسیم کئے جانے والے راشن بیگز میں آٹا، چاول، گھی، دالیں،صابن، چائے کی پتی و دیگر کھانے پینے کی اشیاء شامل ہیں۔

ماہِ صیام کی آمد پر شہریوں کو دورانِ عبادت کورونا وائرس کے خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے لاہور پولیس نے شہر کی تمام مساجد، امام بارگاہ اور عبادت گاہوں میں حکومت کی جاری کردہ20 نکاتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنایاہے۔ پولیس افسران نے مساجد، امام بارگاہ، کمیٹیوں کے تعاون سے مساجد میں مناسب فاصلہ پر نشانات، داخلی راستوں پر 20 نکاتی ہدایات نمایاں طور پر آویزاں کرنے کے امور انجام دے رہے ہیں۔ مسجد انتظامیہ کی مدد سے مساجد میں گنجائش کے مطابق نمازیوں کی آمد، حفاظتی و سکیورٹی اقدامات یقینی بنائے گئے۔نمازیوں کوماسک کی پابندی یقینی بنا کر مکمل چیکنگ کے بعد ہی مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی جارہی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابرسعید سمیت تمام پولیس افسران اور انفورسمینٹ ٹیمیں مختلف مساجد وامام بارگاہو ں کا دورہ کر کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لے رہیں ہیں۔ علماء کرام اور مساجد، امام بارگاہ انتظامیہ نے لاہور پولیس کی طرف سے سکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔شہر کی اہم شاہراہوں اور چوراہوں پر ڈیرے ڈالنے والے بھکاری بھی راشن تقسیم کے دوران ہجوم کی شکل اختیار کر کے نقص امن اور کورونا وائرس کے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہے تھے جس کے پیش نظر ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کی زیر نگرانی پیشہ ور گداگر مافیا کے خلاف روزانہ کی بنیاد پرکریک ڈاؤن شروع کیا گیا اور 01ہزار سے زائد پیشہ وربھکاریوں کو حراست میں لیا گیا۔ لاہور پولیس نے ماہ صیام کی آمد پر مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گذاروں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لئے مربوط سکیورٹی پلان تشکیل دیا جس کے مطابق03ہزار سے زائد پولیس افسران وجوان ڈیوٹی کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔شہر کی 5057مساجد کو حساسیت کے اعتبار سے 03کیٹیگریزمیں تقسیم کیا گیا ہے۔ اے کیٹیگری میں 218،بی کیٹیگری775جبکہ سی کیٹیگری میں 4064 مساجد شامل ہیں۔ مساجد، امام بارگاہ اور عبادت گاہوں میں حکومتی ہدایات پر عمل درآمد کے لئے 277 انفورسمنٹ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مساجد میں سماجی فاصلوں کی ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے گنجائش کے مطابق ہی نمازیوں کی آمد یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ کورونا وائرس کے اثرات سے محفوظ رہا جاسکے۔ حکومتی20نکاتی ہدایات بارے ایس پیز، ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کی مساجد انتظامیہ سے مکمل کوآرڈینیشن ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں پولیس افسران و جوانوں کو کورونا وائرس سے خطرات اور حفاظتی تدابیر بارے لیکچرز اور سیمینارز کے ذریعے حفاظتی تدابیر بارے آگاہی دی جا رہی ہے۔ خدمت کے جذبے سے سرشارلاہور پولیس کے جوان ناکوں،قرنطینہ مراکز، احساس کفالت سینٹرز، ہسپتالوں سمیت تمام اہم مقامات پر تعینات ہیں۔ کفالت مراکز پر لاہور پولیس کے افسران اور جوانوں کی طرف سے بزرگ اور معذور شہریوں کی امداد کے شاندار عملی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ پولیس لائنز،تھانوں، دفاتراور ناکوں سمیت دیگر اہم مقامات پر ڈس انفیکشن ٹنل، واش بیسن اور ہینڈ سینیٹائزر کا اہتمام کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سمیت صوبائی وزراء اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے مشکل کی اس گھڑی میں انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے لاہور پولیس کی ان شاندار خدما ت کو سراہا ہے۔

لاہورپولیس جرائم کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ امن و امان کا قیام اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے۔ امن و امان کا قیام اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ذمہ داری ہے۔لاہور پولیس نے رواں سال کے پہلے 04ماہ کے دوران مختلف جرائم میں ملوث18ہزار28ملزمان گرفتارکئے۔ سٹریٹ کرائم، ڈکیتی،راہزنی ودیگر جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن میں 337گینگز کے818ملزمان سے کروڑوں روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کیا۔ناجائز اسلحہ کے خلاف گرینڈ آپریشن کے دوران1857ملزمان کو گرفتارکر کے ان کے قبضہ سے بڑی تعداد میں رائفلز،کلاشنکوف،بندوقیں، ریوالورز وپسٹلز اورگولیاں برآمدکیں۔منشیات کے خلاف کارروائی کے دوران2582ملزمان کو گرفتار کر کے اْن کے قبضہ سے کروڑوں روپے مالیت کی چرس، ہیروئن، آئس، ا فیون اور شراب برآمدکی۔سنگین جرائم میں مطلوب01ہزار سے زائداشتہاری جبکہ01ہزار زائدعدالتی مجرموں کو حراست میں لیا گیا۔ ون ویلنگ، پتنگ بازی، ہوائی فائرنگ،گداگری، پرائس کنٹرول،فارنر، میرج اور لاؤڈ سپیکرایکٹ کی خلاف ورزی پر08ہزار285ملزمان بھی گرفتارکئے گئے۔ پولیس کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لئے مختلف یونٹس کو انتظامی سطح پر بھی مزید فعال بنایا گیا ہے۔سمارٹ پولیسنگ کے فروغ اورپولیس فورس کوعوام دوست بنانے کیلئے موثراقدامات کئے گئے ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -