سندھ کے ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے کا مشن شروع کردیا، خرم شیرزمان

سندھ کے ہسپتالوں کو ٹھیک کرنے کا مشن شروع کردیا، خرم شیرزمان

  

کراچی (آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے انصاف ہاوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ایک نیا مشن شروع کیا ہے کہ سندھ کے اسپتالوں کو ٹھیک کرنے کے لئے مہم چلائیں گے۔سندھ کے اسپتالوں کا بہت برا حال ہے۔جب تک اسپتال ٹھیک نہیں ہونگے ہم اسی طرح مہم چلائیں گے۔کچھ اسپتال کو لگاتار اربوں روپے دیے جارہے ہیں۔ابھی تک ڈھائی ارب کورونا کے نام پر خرچ ہوچکے ہیں۔انڈس اسپتال کو بہت بڑی رقم کورونا کی صورت میں دی گئی۔لیکن وہاں پر سہولیات موجود نہیں ہیں۔اسپتالوں اور این جی اوز کو پیسے دیتے رہے مگر حالات سب کے سامنے ہیں۔ اس موقع پر ترجمان کراچی جمال صدیقی، اراکین سندھ اسمبلی ڈاکٹر سیما ضیاء، شہزاد قریشی،ڈاکٹر عمران علی شاہ، رابستان خان، پی ٹی آئی رہنما کیپٹن (ر) رضوان خان، عمران صدیقی، گوہر خٹک، فضہ ذیشان، تہمینہ خٹک، ارم بٹ اور دیگر موجود تھے۔ خرم شیر زمان نے مزیدکہا کہ اس ڈھائی ارب کا آڈٹ کرایا جائے۔سندھ میں وینٹیلیٹرز موجود نہیں ہیں۔اوپی ڈیز بند ہونے سے لوگ پریشان ہیں۔اگر کسی کی طبیعت خراب ہوجائے تو وہ کہاں علاج کرائے۔اگر کوئی پہنچ جائے تو وہاں کورونا کا ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں۔پیر جو گوٹھ میں ٹیسٹ کرائے گئے وہ مثبت آئے۔انہوں نے نجی اسپتالوں سے ٹیسٹ کرائے وہ منفی آئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ملاقات کل پرائیویٹ اسپتال مالکان سے ہوئی ہے۔سندھ میں کورونا کے لیے ہر ڈسٹرکٹ میں ایک ہسپتال ہونا چاہیے۔وزیر تعلیم اب کورونا پر بات کررہے ہیں۔جس کے اپنے حلقے میں گدھے بندھے ہوئے ہیں وہ صحت پر بات کررہا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری او پی ڈیز کو کھولا جائے۔سندھ حکومت کا سامان مارکیٹ میں بیچا جارہا ہے۔جس وزیر کا صحت سے تعلق نہیں وہ بیانات دینا بند کرے۔اربوں روپے سالانہ صحت کا بجٹ کہیں نظر نہیں آرہا۔12 سال میں پی پی کی حکومت کتوں کا بندوبست نہیں کرسکی۔50 کروڑ کا بھی ابھی تک کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔سندھ حکومت کی ایس او پیز ہمیں قبول نہیں۔لاڑکانہ سیہون کراچی سمیت پوری سندھ کی عوام پی پی سے پریشان ہے۔ہم ان کو ایکسپوز کرتے رہیں گے۔صحت کے نظام پر سندھ حکومت کو معاف نہیں کریں گے۔سندھ حکومت کے وزراء سوشل میڈیا پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔صوبے کے حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں۔سندھ کو پتھر کے زمانے میں دھکیلا جارہا ہے۔

خرم شیرزمان

مزید :

صفحہ آخر -