حضرت عائشہ صدیقہؓ امہات المومنین میں بلند مقام کی حال ہیں،علماء

حضرت عائشہ صدیقہؓ امہات المومنین میں بلند مقام کی حال ہیں،علماء

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)عا لمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، مبلغ ختم نبوت لاہور مولانا عبدالنعیم، پیررضوان نفیس، مولانا علیم الدین شاکر،قاری جمیل الرحمن اختر، مولانا خالدمحمود نے سیرت عائشہ کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرور کائنات،ہادی عالم،امام الانبیا ء، سید المرسلین،خاتم النبیین،حضرت محمدؐؐکے رفیق ِ سفر و حضر،یارِغار ومزار، خلیفہ اول، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق ؓکی پیاری بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ حضور اکرم ؐ کی زوجہ محترمہ اور امہات المومنینؓ میں بلند مقام کی حامل ہیں۔

ان کا لقب صدیقہ اور حمیرا ہے،کنیت ا م عبداللہ ہے، یہ کنیت خود حضور ؐکی تجویز فرمائی ہوئی تھی یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جوحضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو اسلام کی ان برگزیدہ شخصیات کی فہرست میں داخل کردیتا ہے، جن کے کانوں نے کبھی کفروشرک کی آواز تک نہیں سُنی،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انتہائی ذہین تھیں اور انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ علمی طور پر صحابیاتؓ میں سب سے بڑی فقیہہ تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا انتہائی ذہین تھیں۔ نبی ﷺ کا لایا ہوا دین جس طرح انہوں نے محفوظ کرکے عام فرمایا، یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت اوردین کی حقانیت کا ثبوت ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی ایک ایک بات انتہائی شوق ورغبت کے ساتھ دیکھی،پرکھی، سمجھی اور امت مسلمہ کی خصوصاً عورتوں تک اور عموماً دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک کماحقہ مِن و عن پہنچائی۔ بحیثیت زوجہ نوسال نبی ﷺ کی رفاقت میں اس طرح گزارے کہ ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی محبت کے ساتھ پیش آتے تھے، نبی ﷺ نے آپ کی بہترین تربیت بھی فرمائی اور یہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ذوق و شوق تھا کہ انہوں نے علمی میدان میں بھی اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور علوم اسلامی کے ایک بہت بڑے ذخیرے کو نہ صرف اپنے پاس محفوظ فرمایا، بلکہ ہرہر موقع پر امت مسلمہ کی رہنمائی بھی فرمائی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -