مردوں کا گھر میں اعتکاف بیٹھنا جائز نہیں، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کا فتوی ٰ

      مردوں کا گھر میں اعتکاف بیٹھنا جائز نہیں، دارالعلوم جامعہ نعیمیہ کا ...

  

لاہور(نمائندہ خصو صی) کرونا وائرس کے پیش نظر دارالعلوم جامعہ نعیمیہ نے مساجد میں اعتکاف کے حوالے سے شرعی فتویٰ جاری کردیا۔فتوی میں کہاگیا ہے کہ مردوں کا گھروں میں اعتکاف بیٹھنا جائز نہیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر بجا لاتے ہوئے مساجد میں اعتکاف کیا جائے۔ اعتکاف رسول مکرم ﷺ کی محبوب سنت ہے اسے ترک کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی۔مساجد میں مناسب فاصلہ رکھ کر ان کی وسعت کے حساب سے افراد کو اعتکاف بیٹھنے دیا جائے۔ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر بچوں بوڑھوں اور بیماروں کو مسجد میں اعتکاف بیٹھنے سے منع کر دیا جائے۔رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں مرد حضرات کا مسجد میں اعتکاف بیٹھنا سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ کفایہ کا مطلب ہے کہ محلہ وبستی میں سے ایک یا دو بندے بھی مسجد میں اعتکاف بیٹھ جائیں توسب کو کفایت کر جائے گا یعنی اس حوالے سے محلہ وبستی والوں سے باز پرس نہ ہوگی۔ مرد مسجد میں اورعورتیں گھروں میں اعتکاف بیٹھیں۔ فتویٰ میں شیخ الحدیث مفتی ڈاکٹرمحمدراغب حسین نعیمی،شیخ الفقہ مفتی محمدعمران حنفی نے مزید لکھاہے کہ”اعتکاف کا لغت میں معنی ہے ٹھہرنا اور اصطلاح شرع میں اس کا معنی ہے مسجد میں رہنا، روزہ سے رہنا، جماع کو بالکل ترک کرنا اور اللہ عزوجل سے تقرب کی نیت کرنااور جب تک یہ معانی پائے نہ جائیں شرعا اعتکاف متحقق نہیں ہوگا لیکن مسجد میں رہنے کی شرط صرف مردوں کے اعتبار سے ہے، عورتوں کے لئے یہ شرط نہیں ہے، ہر مسجد میں اعتکاف ہوسکتا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے احتیاطی تدابیر بجا لاتے ہوئے مساجد میں اعتکاف کیا جائے اور اعتکاف کی حقیقت پر غور کیا جائے تو یہ لوگوں سے الگ تھلک ہو کر اللہ تعالیٰ کے گھر میں عبادت کرنے کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اعتکاف سوشل ڈسٹنس (سماجی دوری) والی عبادت ہے اوراعتکاف رسول مکرم ﷺ کی محبوب سنت ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب مکرم ﷺ کے توسل سے عالم اسلام و اہل پاکستان کو اس موذی وباء سے جلد نجات عطا فرمائے۔مفتیان کرام نے عوام کو کرونا وائر س سے بچاؤ کیلئے تمام تر حفاظتی تدابیراپنانے اورانتظامیہ سے مکمل تعاون کی اپیل کی ہے۔

اعتکاف

مزید :

صفحہ آخر -